Daily Mashriq


نہ تھا رقیب تو یہ پیغام ۔۔۔

نہ تھا رقیب تو یہ پیغام ۔۔۔

اس میں شک نہیں کہ مو لا نا فضل الرّحما ن انتہائی سمجھ دار سیا ستدان ہیں ان کی موشگافیاں بھی بڑی گہر ی ہوا کرتی ہیں۔ موصوف نے وزیر اعلیٰ پر ویز خٹک کے بارے میں فرمایا ہے کہ ان کے خلاف بغاوت اور غداری کا مقدمہ چلا یا جا ئے۔ اس مقدمے کے مطالبے کی بنیا د مولانا نے دھر نا کا میا ب کر نے کی کاوشوں میں وزیر اعلیٰ پر ویز خٹک کی جانب سے پنجا بی ، پٹھان بیان بازی کو بنایا ہے۔ بہر حال دھر نے کے جذبات میں وزیر اعلیٰ مو صوف نے جو بیان بازی کی وہ قابل افسوس بھی تھی اگر کوئی اس کو قابل گرفت قرا ر نہ دے تو بھی قابل اعتراض ضرور ہے۔ اس طرح انہو ں نے تحریک انصاف کا مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے کہ پاکستان کے دیگر علاقو ں کے عوام کو یہ تاثر دیا ہے کہ یہ دھر نا کے لیے جا نا کوئی لسانی یا نسلی معاملہ ہے اور تحریک انصاف وفاقی جما عت نہیں ہے ایک صوبے کی پا رٹی ہے ، ویسے تحریک کی تما م قیادت کی جانب سے دھر نے کے لیے جو تیاریا ں کی گئیں اس میں ایسا ہی محسو س ہو تا رہا کہ یہ دھر نا پا کستان کے ایک صوبے کے عوام کی جا نب سے ہے ۔

وزیر اعلیٰ پر ویز خٹک اچھی طر ح جا نتے ہیں کہ صوبہ کے پی کے پاکستان کا سب سے چھوٹا صوبہ ہے محدو د وسائل رکھتا ہے جبکہ تحریک انصاف ایک قومی جما عت ہے ، دھر نا میں تو شرکت کے لیے ان کے قائد ہر دلعزیز نے فرما یا تھا کہ پو رے پاکستان سے دس لا کھ افراد کا ٹھاٹھیں مارتا ہو ا سمندرشریک ہو گا۔ سندھ ، بلو چستان ، پنجا ب ، آزاد کشمیر ، گلگت وبلتستان وغیر ہ سے دس لا کھ کا ہجوم سمندری سونا می کی صورت میں اسلا م آباد پر چڑھائی کر دے گا۔ صرف کے پی کے سے ہی قافلو ں کو لے جانے کی سعی کی گئی اور سرکا ری وغیر سرکا ری اعداد وشما رکے مطا بق ان کی تعدا د ایک لا کھ بھی پو ری نہ تھی بلکہ نصف لاکھ بھی نہیں ۔ پنجا ب ، سند ھ ، بلوچستان ، وغیر ہ وغیر ہ سے لوگ کیو ں نہیںنکلے یا جیسا کہ انہو ں نے دعویٰ کیا کہ پختو نو ں کے صوبے کو کا ٹ دیا گیاتھا تو کیا دوسرے صوبے بھی اسی طر ح کٹ کر لے گئے حقیقت تو یہ ہے کہ اس دھر نے میں صوبہ کے پی کے کے عوام کو قر بانی کا بکر ا بنا نے کی کو شش کی گئی اور وزارت اعلیٰ کے عوض ان سے قربانی لی گئی۔

سردار یا ر محمد رند کا نا م تحریک کے مر کزی قائدین میں شمار ہو تا ہے ان کا قبیلہ سندھ ، بلوچستان اور پنجا ب میں بستا ہے ، لا کھو ں افراد اس رند قبیلے سے جڑے ہو ئے ہیں یا ر محمد رند کا دھرنا میں بیر نگ خط کی بھیحیثیت نظر نہیں آئی۔ اگر وہ اپنے قبیلے کو ہی ہد ایت کر دیتے تو اسلا م آباد اور راولپنڈی صرف اسی قبیلے کے لو گو ں سے بھر جاتا۔ اس کے علا وہ کے پی کے کے علا وہ ملک کے دوسرے حصو ں سے تعلق رکھنے والی پی ٹی آئی کی مر کزی قیادت کہا ں جا بسی تھی وہ تو ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمند ر تو نہ لا سکے البتہ اپنے قائد کے ساتھ بنی گالہ میں ٹھٹھے مارتے رہے ، جب کہ کا رکن بنی گالہ کی سڑکوں پر سردی کی شد ت سے ٹھٹھرتے رہے یا پھر صوابی اور برہان میںانٹرچینج کی برفانی ہواؤں میںشب بسری پر مجبو ر ہو رہے۔

وزیر اعلیٰ پر ویز خٹک کو پنجا ب پو لیس کو دہا ئی دینے کی بجا ئے اپنے لیڈر سے استفسا ر کرنا چاہیے کہ کیا یہ صوبہ کے پی کے کے عوام کا جر م تھا کہ اس نے تحریک انصاف پر اعتما د کیا اور ان کو حکومت بخشی ، اور گزشتہ دھر نے میں بھی پو ری طر ح ساتھ دیا ان کو سڑکوں پر آنسو گیس ' کھا نے کے لیے چھوڑ دیا گیا ، اگر دیگر صوبوں سے بھی عوام نکلتے تو لا محالہ پنجا ب پولیس مختلف محا ذ پر تقسیم ہو جا تی اور صوبہ کے پی کے کے عوام صوابی انٹرچینج اور بر ہا ن میںبھٹکتے پھر نے کی بجا ئے اسلا م آبا د آپہنچتے۔ اب کپتان صاحب بتائیں کہ ان کے دیگر صوبو ں کے لیڈرو ں نے کیا ہمت دکھا ئی ، اب مو لا نا فضل الر ّحما ن کو اعتراض ہے کہ عمر ان خان یو م تشکر کیو ں منا رہے ہیں۔ یہ شکر کا مقام ہی تو ہے کہ ان کو سپریم کورٹ کی آڑ مل گئی۔ اب بھلا تحریک کے لیڈر یہ کہتے پھر یں کہ عدالت نے پا نا مہ لیکس سے متعلق درخواستو ں کو غیر سنجید ہ قرار دیا تھا مگر دھرنے کے دباؤ نے ان کو سنجید ہ بنا دیا اور یہ تحریک کی کا میابی ہے گویا ان کی طرف سے عدالت پر دبا ؤ ڈالنے کی سعی تھی ۔

عمر ان خان اور پر ویز خٹک کو چاہیے کہ وہ اس امر کی جانب دھیا ن دیں کہ تحریک کو صوبائی جما عت نہ بنائیں اس میں جہا ں ملک کی بھلائی ہے تو وہا ں خود ان کے لیے بھی بھلا ہے ورنہ ان کے سامنے پی پی کاانجا م ہے۔ ستر کی دھا ئی میں بھٹو مرحو م نے پی پی تشکیل دی جس کو ویسے پو رے ملک میں پذیر ائی ملی مگر انہو ں نے صرف پنجا ب پر توجہ مر کو ز رکھی۔ ان کا گمان تھا کہ پنجا ب سے وہ جیت جائیں تو حکومت بنا لیںگے۔ انہو ں نے مشرقی پاکستان کو حرف غلط کی طرح فراموش کر دیا تھا جس کا نتیجہ آج سامنے ہے اور آج پنجا ب بھی ان کے ہا تھ سے نکل گیا ہے۔ وہ اب سندھ وہ بھی سندھ کے دیہی علا قو ں تک محدو د ہو گئی ہے ۔ پا کستان کو وفاقی سطح پر جما عت کی ضرورت ہے ، اے این پی کی مد ر جماعت کو کسی زما نے میں پو رے پاکستان میںایک حد تک نما ئند گی حاصل تھی اورسچ تو یہ ہے کہ خان عبدالو لی خان نے ایو ب خان کے دور سے جنرل ضیا ء الحق کے دور تک اے این پی کو قومی دھارے میں رکھنے کی بڑی سعی کی مگر ملک کی بعض نا دید ہ طا قتوں نے ہمیشہ اے این پی کو قومی دھا رے میں آنے کی راہ میں روڑے اٹکائے۔ آج یہ مرکزی تنظیم رکھنے کے باوجود ایک علا قائی جما عت بن کر رہ گئی ہے ۔بات وہی بنتی جو پو ر ے پاکستان میں ما نی جائے۔ ایم کیو ایم کو قومی سیا سی جماعت کانا م ہر گز نہیں دیا جا سکتا اگر چہ وہ شو ایسا ہی کر تی ہے مگر وہ ایک گروہ کی جما عت ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ سیا سی جماعت نہیں ایک پر یشر گر وپ ہے۔ اسی وجہ سے وہ اس صوبے میں بھی محدود اثر رکھتی ہے۔

متعلقہ خبریں