Daily Mashriq


’سموگ کی صورت میں کارخانوں اور بھٹیوں کو بند کرنے پر غور‘

وزیراعلیٰ پنجاب کے خصوصی مشیر برائے صحت خواجہ سلمان رفیق کا کہنا ہے کہ پنجاب میں دھوئیں اور گردوغبار سے متاثرہ علاقوں میں صورتحال برقرار رہی تو فضائی آلودگی کا باعث بننے والے کارخانوں اور بھٹیوں کو بند کرنے پر غور کیا جاسکتا ہے۔

خواجہ سلمان رفیق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جو صورتحال یکم اور دو نومبر کو تھی اس کی نسبت اب لاہور میں صورتحال قدرے بہتر ہے۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سموگ کا دائرہ لاہور اور گردونواح تک محدود نہیں اور یہ سفر کرتے ہوئے ٹوبہ ٹیک سنگھ تک پہنچ چکا ہے۔

خواجہ سلمان رفیق نہ کہا کہ دھوئیں اور گردوغبار کی لہر کا مرکز سرحد پار انڈیا ہے۔

ان کے مطابق: 'اس جانب چاول کی کاشت مکمل کرنے کے بعد کھیتوں میں آگ لگانے کا عمل بھی ایک عنصر ہے جس کے باعث اس کی تہہ بن چکی ہے جسے واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔'

پنجاب حکومت کے اقدامات کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر اس امر کا جائزہ لیا گیا کہ کیا سکولوں میں چھٹی دی جاسکتی ہے کیونکہ اس سے چھوٹے بچوں کے متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔

تاہم فی الحال یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ صورتحال کنٹرول میں ہے لہذا سکولوں میں چھٹیاں نہیں دی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اس کے ساتھ ساتھ ایسی بھٹیاں اور کارخانے جو فضائی آلودگی کا باعث بنتے ہیں اگر صورتحال زیادہ خراب ہوئی تو ان کو بند کرنے کے بارے میں غور کیا جاسکتا ہے۔'

خواجہ سلمان رفیق کے مطابق ہسپتالوں سے موصول ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق آنکھوں، گلے اور سانس کی تکلیف کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد تشویش ناک نہیں ہے اور اس حوالے سے ہسپتالوں کے عملے کے ساتھ وہ مکمل رابطے میں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دو روز پہلے آنکھوں میں جلن کی شکایات موصول ہوئی تھیں لیکن اب اس میں کمی واقع ہورہی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ بارش کی صورت میں سموگ میں کمی واقع ہوسکتی ہے لیکن محکمہ موسمیات ک مطابق لاہور اور اس کے گرد نواح میں بارش کا فی الحال امکان نہیں ہے لہذا شہری احتیاطی تدابیر اختیار کریں، جبکہ موٹروے اور دیگر شاہراؤں پر دھند کے باعث حادثات سے بچاؤ اور حادثات کی صورت میں متعلقہ اداروں کو خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

خواجہ سلمان رفیق کا کہنا تھا کہ چار دن پہلے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس میں صحت، موسیمات، تعلیم، ماحولیات کے محکموں سمیت ریسکیو 1122، ٹریفک پولیس اور دیگر ادارے شامل ہیں اور اس حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر کام کیا جارہا ہے۔

متعلقہ خبریں