Daily Mashriq


امریکہ کے صدارتی انتخاب میں مسلمانوں کے اپنے مسائل پر بات کوئی نہیں کر رہا

امریکہ کے صدارتی انتخاب میں مسلمانوں کے اپنے مسائل پر بات کوئی نہیں کر رہا

امریکی ووٹروں کے لیے اس وقت معیشت کے بعد دہشت گردی سب سے اہم مسئلہ ہے۔ ٹرمپ کے حامیوں میں سے 89 فیصد کا یہ کہنا تھا کہ دہشت گردی ان کے لیے معیشت جتنی ہی اہمیت رکھتی ہے۔ وہیں ہلیری کلنٹن کے حامیوں میں 74 فیصد کے لیے دہشت گردی اہم مسئلہ ہے۔ لیکن مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اس انتخابی بحث میں امریکی مسلمانوں کو یا تو انتہا پسندی کے چہرے کی طرح پیش کیا گیا ہے۔ امریکی صدارتی الیکشن پر ہماری سیریز کی یہ چوتھی کڑی صدارتی انتخاب پر اس کے اثرات کے بارے میں ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے جب اپنی ریلیوں میں مسلمانوں کے امریکہ میں گھسنے پر پابندی لگانے کی بات کی اور ان پر انتہا پسندی کو فروغ دینے کا الزام لگایا تو وہ کوئی نئی بات نہیں کر رہے تھے۔

پیرس ہو یا فلوریڈا، ہر شدت پسند حملے کے بعد یہاں اس طرح کی باتیں سنائی دی جاتی تھیں، مسلمانوں پر انگلیاں اٹھنے لگتی تھیں اور لگتا تھا جیسے تمام آنکھیں انہی کی طرف دیکھ رہی ہوں۔

اس بار فرق یہ تھا کہ ٹرمپ نے اس سوچ کو مرکزی دھارے کی سوچ بنا دی۔ جو باتیں دبے کی زبان کہی جاتی تھیں وہ کھل کر کہی جانے لگیں۔

ٹرمپ نے مسلمانوں پر گہری نظر رکھنے کی بات کی، بغیر وارنٹ مسجدوں کی تلاشی کی بات کی اور ایک ایسے ٹیسٹ کی بات کی جس کے ذریعے اس بات کی تحقیقات ہو سکیں کہ امریکہ میں آنے والا مسلمان شرعی قانون پر یقین تو نہیں رکھتا۔

دولت اسلامیہ اور دوسرے شدت پسند گروہوں سے نمٹنے کا ایک ہی طریقہ انھوں نے سامنے رکھا اور وہ یہ کہ ان پر بمباری کر کے انھیں مٹيامیٹ کر دیں گے۔

اور ان کی بڑھتی ہوئی ریٹنگ سے صاف تھا کہ ان کے حامی ان باتوں سے متفق تھے۔

اوہائیو کے يگسٹاؤن شہر میں رہنے والے مارک جلیٹ نے سے جب میں بند پڑی سٹیل ملز کے بارے میں بات کر رہا تھا تو باتوں ہی باتوں میں وہ ٹرمپ اور مسلمانوں کے بارے میں بات کرنے لگے۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے وہ بات کہی ہے جو کہنے کی کوئی ہمت نہیں کر پا رہا تھا۔

وہ کہتے ہیں: 'اسلام میں تو کہا گیا ہے کہ دوسرے مذہب کو ماننے والوں کے درمیان رہ کر انھیں اپنے مذہب کی طرف لاؤ اور نہ مانیں تو ڈراؤ، دھمكاو اور پھر بھی نہ مانیں تو مار ڈالو۔'

میں نے پوچھا آپ کو یہ باتیں کہاں سے پتہ چلیں؟ انھوں نے بتایا کہ ان کی دوسری شادی ایک مسلمان خاتون سے ہوئی ہے جنھیں قرآن کی مکمل معلومات ہیں اور اس میں یہ باتیں لکھی ہوئی ہیں۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی بیوی اب اپنا مذہب تبدیل کر چکی ہیں۔

ان کے مطابق ٹرمپ اگر مسلمانوں پر پابندی لگا دیں گے تو دہشت گردی خود ہی ختم ہو جائے گی۔

اس طرح کی باتیں مجھے اور بھی کئی جگہوں پر سننے کو ملیں اور یہ سب ٹرمپ کے کٹر حامی ہیں۔

لیکن دوسری طرف ٹرمپ کی ان باتوں نے پہلی بار امریکہ میں رہنے والے مسلمانوں کو بھی مرکزی دھارے میں شامل ہونے پر مجبور کیا ہے۔

منصور قریشی ورجینیا میں رہتے ہیں اور انھوں نے 'ساؤتھ ایشيز فار ہلیری کلنٹن' کے نام سے ایک مہم کا آغاز کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے تقریبا 33 لاکھ مسلمان امریکہ میں رہتے تو ہیں لیکن وہ مین سٹريم یا مرکزی دھارے کا حصہ نہیں بنتے اور بہت کم ہیں جو ووٹ ڈالنے نکلتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: 'ہم نے ویڈیو اور ٹیلی فون مہم کے ذریعے انہھں ان کے ووٹ کی اہمیت بتانے کی کوشش کی ہے۔'

لیکن کیا مسلمانوں کے ووٹ اتنے ہیں کہ وہ صحیح معنوں میں انتخابات کے نتائج پر کوئی اثر ڈال سکیں؟

قریشی کہتے ہیں کہ مسلمان کل آبادی کے دو فیصد ہیں اور اس بار کے انتخابات میں یہ ووٹ جیت اور ہار کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔

'سوئنگ سٹیٹ' کہلائی جانے والے کئی ریاستوں میں اسلامی مراکز اور مساجد نے مسلمانوں کو متحد کیا ہے اور امریکی مسلمانوں کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم کے مطابق 86 فیصد مسلمان اس بار ووٹ ڈالنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

امریکہ میں مسلمان فوج میں ہیں، پولیس میں ہیں اور کئی اہم عہدوں پر ہیں۔ لیکن ٹرمپ نے جس طرح سے میکسیکو سے آئے تمام لوگوں کو مجرم اور ریپ کرنے والے کا نام دیا، اسی طرح تمام مسلمانوں کو بھی دہشت گردی کے رنگ میں رنگ دیا۔

عراق کی جنگ میں مارے گئے پاکستانی نژاد فوجی کیپٹن ہمایوں خان کے والد خضر خان نے ڈیموکریٹک كنویشن میں ٹرمپ سے کہا تھا کہ شاید انھیں امریکہ کا آئین پڑھنے کی ضرورت ہے۔

امریکہ میں کافی لوگوں نے خضر خان کی تعریف کی تھی اور ٹرمپ ان پر بھی حملہ کرنے سے نہیں چوکے۔

انتخابات کے آخری دنوں میں ہلیری كلنٹن کی ٹیم خضر خان کو بھی اشتہاروں میں استعمال کر رہی ہے اور وہ خود بھی مسلمانوں سے ووٹ ڈالنے کی اپیل کر رہے ہیں۔

پیو ریسرچ کے مطابق امریکی ووٹروں کے لیے اس وقت معیشت کے بعد دہشت گردی سب سے اہم مسئلہ ہے۔ 80 فیصد نے دہشت گردی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا۔

ٹرمپ کے حامیوں میں سے 89 فیصد کا یہ کہنا تھا کہ دہشت گردی ان کے لیے معیشت جتنی ہی اہمیت رکھتی ہے۔ وہیں ہلیری کلنٹن کے حامیوں میں 74 فیصد کے لیے دہشت گردی اہم مسئلہ ہے۔

لیکن مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اس انتخابی بحث میں امریکی مسلمانوں کو یا تو انتہا پسندی کے چہرے کی طرح پیش کیا گیا ہے یا پھر دہشت گردی کے خلاف حکومت کے آنکھ اور کان کی طرح۔ مسلمانوں کے اپنے مسائل کیا ہیں ان کی بات کوئی نہیں کر رہا ہے۔

متعلقہ خبریں