Daily Mashriq


مولانا سمیع الحق کی شہادت

مولانا سمیع الحق کی شہادت

استاذ الاستازہ حضرت مولانا سمیع الحق کو پراسرار انداز میں شہید کئے جانے کے واقعے پر ہر آنکھ کا اشکبار ہونا فطری امر ہے۔ ایک ایسے موقع پر جب پورا ملک توہین رسالتۖکے معاملے پر رنجیدہ اور اس سے پیدا شدہ صورتحال پر پریشانی کے عالم میں تھا ایسے میں ملک کے ممتاز اور بین الاقوامی طور پر اہمیت اور احترام کے حامل عالم دین کی شہادت کا واقعہ مزید غم واندوہ کا باعث ہے۔ قتل کے واقعے کی پراسراریت سے شکوک وشبہات کا جنم لینا بھی فطری امر ہے۔ حضرت مولانا سمیع الحق کی شہادت میں ملوث عناصر کو بے نقاب کرنے میں تفتیشی اداروں کو کامیابی ملتی ہے یا پھر دیگر مشاہیر علماء کے قتل کی طرح یہ واقعہ بھی پراسرار ہی رہتا ہے اور قاتلوں کا کوئی سراغ نہیں ملتا اس بارے کوئی بات محض قیاس آرائی ہی کے زمرے میں آئے گی جو مناسب نہیں، البتہ اس کے محرکات کے حوالے سے اندازوں پر مبنی بحث ہو سکتی ہے چونکہ مولانا کی ذات گرامی سطحی قسم کے اختلافات اور جھگڑوں سے پاک رہی ہے لہٰذا اس امکان کو ہی رد کرنا بہتر ہوگا تاہم واقعے کے اسرار اس قسم کے ہیں کہ شکوک وشبہات اور سوالات کا باعث ضرور ہیں۔ سب سے اہم سوال جس کا ابتک کوئی تسلی بخش جواب سامنے نہیں آیا یہ کہ ان کے تین چار محافظین معمتد خاص خدمت گار اور ڈرائیور کوئی بھی ان کے پاس کیوں نہیں تھا۔ ان کی ضعف اور بیماری کی حالت اس امر کا متقاضی تھا کہ ان کیساتھ کسی نہ کسی کا ہونا ضروری تھا۔ کیا اس گھر کے کوئی مکین تھے یا نہیں، اگر تھے تو وہ کون تھے اور انہوں نے کوئی آواز کیوں نہ سنی، جو دو تین موٹر سائیکل سوار مہمان آئے تھے وہ کون تھے اور مولانا کے ان پہلے سے ملنے جلنے والوں سے ان کا تعلق کیا تھا۔ بہرحال سوالات اور خدشات کی بوچھاڑ تو ہے لیکن حقیقت حال کا درست اندازہ نہیں۔ مولانا کی شخصیت اور سرگرمیوں کے باعث ان کو اندرونی اور بیرونی ہر جوانب سے خطرات کا ہونا کوئی راز کی بات نہیں اس وقت مولانا افغانستان کے حوالے سے خاصے متحرک تھے۔ افغان سفیر اور دیگر عہدیدار اور حکام ان سے رابطے میں تھے، اکوڑہ خٹک میں کئی اہم نوعیت کی ان سے ملاقاتیں بھی ہوئی تھیں لیکن اگر مولانا کے معمولات دیکھیں تو یہ کوئی انہونی بات نہیں تھی۔ بہرحال ان دنوں وہ افغانستان میں طالبان کے معاملات بارے زیادہ متحرک تھے یہ کوئی پوشیدہ امر بھی نہیں کہ مولانا سمیع الحق طالبان سے متعدد مرتبہ مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کرتے رہے اور انہوں نے افغان حکومت کی طالبان سے حالیہ مذاکرات کی بھی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ کے آغاز میں بھی افغان حکام اور علماء نے جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ سے طالبان کے مختلف گروہوں کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی تھی۔ مولانا سمیع الحق کے بہت سے شاگرد افغانستان میں مقیم ہیں جس کی وجہ سے سمجھا جاتا ہے کہ وہ طالبان پر اثر ورسوخ رکھتے تھے جو اکثر ان کیلئے مذاکرات کے عمل میں مددگار ثابت ہوتے تھے۔ انہوں نے پاکستان کی حکومت کو امریکا کی دہشتگردی کیخلاف جنگ سے خود کو علیحدہ کرنے کا مشورہ بھی دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت اپنی پالیسی پر نظرثانی کرتی ہے تو کراچی، بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں میں امن وامان خودبخود بحال ہو جائے گا۔ مولانا سمیع الحق کی دینی خدمات اور اسلامی شعائر کے حوالے سے ان کی حساسیت اور قائدانہ کردار سے سبھی واقف ہیں۔ جہاد افغانستان ہو یا جہاد کشمیر مولانا کا کردار متحرک اور نمایاں رہا۔ ملکی ایوانوں میں نفاذ شریعت بل پیش کرنا ہو یا کسی قانون میں ترمیم کے معاملے پر ایوان کے اندر اور ایوان سے باہر ان کا کردار وعمل ایک سچے داعی دین کا رہا۔ ان کا غالباً آخری خطاب سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف جلسے جلوس سے تھا جس میں انہوں نے جذباتی خطاب کیا۔ اکوڑہ خٹک کے معروف مدرسے دفتر اہتمام سے لیکر بین الاقوامی فورمز تک مولانا کسی بھی مرحلے پر دینی خدمت میں پیچھے نہ رہے۔ ان کی شہادت ایک ایسے عمر میں ہوئی جب وہ شیخ خانی بن چکے تھے۔ علالت کے باوجود صاحب فراش نہ تھے، انہوں نے زندگی بھر جس مقصد کیلئے جدوجہد کی اس مقصد کا اختتام ان کی شہادت پر ہونا ان کا مقدر ٹھہرا۔ حضرت مولانا سمیع الحق رخصت ہوتے ہوئے بھی جدوجہد کے راستے سے علیحدہ نہ ہوئے اور اسی راستے میں اپنی جان فدا کر کے رخصت ہوئے۔ ان کی وفات ان کے اہل خاندان اور لاکھوں فرزندان حقانیہ اور شاگردوں کیلئے خاص طور پر رنج اور غم کا باعث نہیں بلکہ ان کی وفات خیبر پختونخوا کے عوام کیلئے بالخصوص پاکستان اور امت مسلمہ کیلئے بھی یکساں غم واندوہ کا باعث ہے، ان کی وفات سے پاکستان اور امت مسلمہ ایک عظیم عالم دین اور مدبر سے محروم ہوگیا۔ رب کریم ان کی بشری خطاؤں سے درگزر کرتے ہوئے ان کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ان کے اہل خاندان اور شاگردوں کو صبرجمیل عطا فرمائے۔ آمین

متعلقہ خبریں