Daily Mashriq


احتجاج ختم کروانے کا یکطرفہ اورکمزور معاہدہ

احتجاج ختم کروانے کا یکطرفہ اورکمزور معاہدہ

وفاقی حکومت اور اسلام آباد میں ہونیوالے تحریک لبیک کے دھرنے کے مظاہرین کے مابین معاملات طے پاجانا خوش آئند امر ضرور ہے لیکن جن شرائط کیساتھ معاہدہ کیا گیا ہے اس سے اسی امر کا اظہار ہوتا ہے کہ گزشتہ حکومت کی طرح اس حکومت نے بھی ریاستی اور حکومتی بالادستی کا پاس رکھنے میں دلچسپی اور اسے یقینی بنانے کی بجائے سر آئی بلا کو ٹالنے کا راستہ اپنایا جس سے اس قسم کے عناصر کا حوصلہ مزید بڑھ جانا فطری امر ہوگا۔ پانچ نکاتی معاہدے میں کہا گیا ہے کہ آسیہ مسیح کے مقدمے میں نظرثانی اپیل دائر کر دی گئی ہے جو مدعا علیہان کا قانونی حق واختیار ہے جس پر حکومت معترض نہیں ہوگی۔ آسیہ مسیح کا نام فوری طور پر ای سی ایل میں شامل کرنے کیلئے قانونی کارروائی کی جائے گی۔ آسیہ مسیح کی بریت کیخلاف تحریک میں اگر کوئی شہادتیں ہوئی ہیں تو ان کے بارے میں فوری قانونی کارروائی کی جائے گی۔ آسیہ مسیح کی بریت کیخلاف 30 اکتوبر اور اس کے بعد جو گرفتاریاں ہوئی ہیں اُن افراد کو فوری رہا کیا جائے گا۔ اس واقعے کے دوران جس کسی کی بلاجواز دل آزاری یا تکلیف ہوئی ہو تو تحریک لبیک معذرت خواہ ہے۔ تاہم معاہدے میں دھرنے اور احتجاج کے دوران نجی یا سرکاری املاک کے نقصان کی تلافی سے متعلق کوئی بات نہیں کی گئی۔ حکومت کیساتھ معاہدہ طے پانے پر تحریک لبیک نے ملک بھر میں جاری دھرنے ختم کر دیئے۔ علامہ خادم رضوی اور پیر افضل قادری نے مظاہرین کو پُرامن طور پر منتشر ہونے کی ہدایت کر دی۔ ہم سمجھتے ہیںکہ چونکہ اس معاملے پر مختلف تنظیمیں اور جماعتیں احتجاج کر رہی تھیں اسلئے ان ساری تنظیموں اور جماعتوں کی قیادت کو اعتماد میں لینا چاہئے تھا لیکن حکومت نے صرف ایک تنظیم کے قائدین سے مذاکرات اور معاہدہ کر کے یہ ثابت کر دیا کہ حکومت کیلئے صرف وہی عناصر قابل قبول اور قابل مذاکرات ہیں جن کیخلاف طاقت کا استعمال حکومت کیلئے مشکل ہو، اگر ایسا نہیں بھی ہے تو بھی مناسب یہ تھا کہ اس ضمن میں حدود وقیود کے دائرے میں احتجاج کرنے والوں کو بھی اعتماد میں لیا جاتا تاکہ ایک بہتر تاثر پیدا ہوتا اور متفقہ طور پر اس تنازعے کے حل یا پھر وقتی حل کا راستہ اپنایا جاتا مگر اولاً وزیراعظم سے لیکر وزیراطلاعات تک سخت قسم کی دھمکی آمیز الفاظ کا استعمال کیا گیا، وزیراعظم نے اس ضمن میں اپنے خطاب میں ریاست اور حکومت کے سخت گیر اقدامات کا عندیہ دیا مگر بالآخر انہی عناصر سے اپنے شرائط کی بجائے ان کی شرائط پر معاہدہ کر کے ریاست اور حکومت کو افراد اور جتھے کے سامنے کمزور وبے بس ثابت کیا۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ یہ عناصر اس قدر شدت پسندی اور بلاوجہ الزام تراشی پر اتر آئے تھے کہ فوج کی اعلیٰ قیادت اور بطور ادارہ فوج کا اس سارے معاملے سے سرے سے کوئی سروکار نہ ہونے کے باوجود ان کے حوالے سے نامناسب الفاظ کہے گئے، حیرت کی بات ہے کہ اس پر بھی مصلحت کی ردا ہی ڈالی گئی۔ ہمارے تئیں یہ طرزعمل اسلئے مناسب نہ تھا کہ اسی تنظیم سے گزشتہ دھرنے اور احتجاج میں بھی ملک کے مقتدر ادارے کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور اب بھی ایسا ہونے کا امکان ہے۔ اگر ایسا نہ بھی ہوا تب بھی اس قدر برداشت کے مظاہرے سے اس قسم کے عناصر کے شیر بننے اور دوسروں کو بھی ہمت آجانے کا اندیشہ ہے جو قطعاً ناقابل برداشت امر ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شدت پسندی کو کچلنے کے بعد شدت پسندانہ کرداروں کو برداشت کیوں کیا جا رہا ہے۔ معاہدہ دو فریقوں کے درمیان کسی درمیانی راہ نکالنے کا ہوتا ہے، یہاں شدت پسندی کا مظاہرہ بھی کیا گیا اور اس کے اثرات سے بھی محفوظ ہونے کا موقع بھی دیا گیا جہاں تک توہین رسالت کے معاملے پر احتجاج کا تعلق ہے ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کسی ایک گروہ کا حق اور ذمہ داری نہیں بلکہ اس میں سبھی شریک رہے۔ جن عناصر نے احتجاج میں صبرکا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا اور دوسروں کے نقصان کا باعث بننے سے گریز کیا ان کو نظرانداز کرکے ان عناصر سے معاملت کی گئی جن پر شدت پسندی پر مبنی اقدامات کا الزام ہے۔ گھیراؤ جلاؤ اور املاک کی تباہی کے ذمہ دار عناصر سے بجائے نقصان پورا کرنے کے اس نکتے کو سرے سے نظرانداز کرنا مذاکرات کاروں کے کمزور ہونے کی دلیل ہے جس سے حکومت وریاست کے نمائندوں کو احتراز کرنا چاہئے تھا۔ ہم سمجھتے ہیںکہ مصلحت اور معاملات کی پیچیدگی اپنی جگہ لیکن اس کو اصول بنایا جائے کہ خواہ کچھ بھی ہو کسی بھی قیمت پر ریاست اور حکومت کی عملداری کو کھلے عام چیلنج کرنے والوں سے ریاست اور حکومت اس قسم کی نرمی کا سلوک نہیں کرے گی جس سے ریاست کی عملداری اور بالادستی کا سوال اُٹھے۔ عوام سے سختی کی حمایت اور وکالت مقصود نہیں لیکن جب معاملات آخری نہج کو پہنچائے جائیں، ریاستی عملداری کو چیلنج کیا جائے، افواج پاکستان کی عزت اور وقار کا خیال نہ رکھا جائے اور ایسا رویہ اختیار کیا جائے جو کسی طور قابل قبول نہ ہو تب ریاست اور مقتدر اداروں کی جانب سے برداشت کا مظاہرہ کرنے کی بجائے دیگر طریقے اختیار کرنا زیادہ بہتر اور قرین مصلحت سمجھا جانا چاہئے۔

متعلقہ خبریں