Daily Mashriq


مولانا سمیع الحق شہید کے قاتلوںکی تلاش

مولانا سمیع الحق شہید کے قاتلوںکی تلاش

مولانا سمیع الحق کی شہادت ایک بہت بڑا سانحہ ہے۔ ان پر وار کرنے والوں نے گویا سارے عالم انسانیت کو قتل کر دیا ہے۔ مولانا آج کے زمانے کی اس قدر بلند و بالا شخصیت تھے کہ ان کے تعارف کی خاطر کچھ کہنا ان کی شخصیت کے ارش جہنوں کا احاطہ کرنے سے قاصر رہے گا۔ عالم دین کی حیثیت سے ان کا مرتبہ اس قدر بلند ہے کہ شاید ہی ان کا ہمسر کسی کو قرار دیاجا سکے۔ شیخ الحدیث کی حیثیت سے تمام مکاتب فکر کے علماء میں ان کا احترام ہے۔ سیاست کے شعبہ میں ان کی رائے پاکستان میں اور پاکستان سے باہر مقدم' مؤثر اور محترم سمجھی جاتی تھی۔ علم دین کے حوالے سے پاکستان اور پاکستان سے باہر ان کے تلامذہ کی تعداد بے شمار ہے جن میں متعدد بااثر قائدین بھی شامل ہیں۔ بے شک ان کی شہادت سے جو خلاء پیدا ہو گیا ہے وہ نہ جانے کب تک پورا نہ ہو سکے گا۔ مولانا پر حملہ اس وقت کیا گیا جب سارے ملک میں ناموس رسالت کے سوال پر ایک ایسی آگ نمودار ہو رہی تھی جو سارے ملک کو خاکستر کر دینے کے امکانات رکھتی تھی۔ ان کی شہادت نے سارے ملک کو ششدر کر دیا ہے۔ ان کے فرزندوں نے اگرچہ ان کے جسد خاکی کا پوسٹ مارٹم کرانے سے انکار کیا ہے اور تدفین کے لیے درالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کا انتخاب کیا ہے جہاں انہیں ان کے والد مولانا عبدالحق کے پہلو میںمدفون کیا جانا ہے۔ مولانا عبدالحق دارالعلوم حقانیہ کے بانی تھے اور علمائے اسلام میں ان کا مقام معزز و محترم ہے۔ مولانا سمیع الحق شہید کی علمی ' دینی 'سیاسی اور سماجی حیثیت کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا رہا ہے اور لکھا جاتا رہے گا ' تاہم فوری ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کے قتل کے محرکات تلاش کیے جائیں اور ان کے قاتلوں کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ مولانا کی شہادت کن حالات میں واقع ہوئی اس کے بارے میں اگرچہ کہا جارہا ہے کہ تفتیش ہو رہی ہے تاہم اس تفتیش کے نتیجے میں جو کچھ برآمد ہوا ہے اس کے بارے میں خاموشی یا اخفا عوام الناس میں اضطراب کا باعث ہو گا اس لیے یہ ضروری سمجھا جانا چاہیے کہ اس معاملہ پر فوری تحقیقات مکمل کی جائیں اور ملزموں کو گرفتار کیا جائے۔ کہا جا رہا ہے کہ قاتل دو تھے جو مولانا سے ملاقات کے بہانے آئے تھے ۔ اخبارات سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ مولانا نے خود اپنے ڈرائیور اور محافظ کو ان ''مہمانوں'' کی تواضع کے لیے بازار سے کچھ لانے کے لیے بھیجا تھا۔ مولانا اپنی راولپنڈی کی رہائش کبھی کبھار آتے تھے اور یہ باور کیا جا سکتا ہے کہ وہاں وہ تنہا رہتے تھے یا ان کے ایک دو ملازم ۔ خبروں سے پتہ چلتا ہے کہ وقوعہ کے وقت کوئی گھر میں نہیںتھا اس لیے انہوں نے اپنے ڈرائیور اور محافظ ہی کو مہمانوںکی تواضع کے لیے سامان لانے کے لیے بھیجا تھا۔ یہ سوال جواب طلب ہے کہ مولانا کی آمد کے وقت گھر میں کسی کی بھی غیر موجودگی کی وجہ کیا تھی۔ جو دو ایک ملازم گھر میں مقیم رہا کرتے تھے وہ کیوں موجود نہیں تھے۔ ایک اخبار کے مطابق مولانا کے چہرے' بازوؤں اور سینہ پر زخم دیکھے گئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مولانا نے مزاحمت کی تھی۔ مولانا کی عمر اسی سال سے متجاوز تھی ' ان کی صحت اچھی نہیںتھی اس کے باوجود مزاحمت مولانا کی دلیری کی علامت ہے اور اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ مولانا کو اس حملے کی توقع نہ تھی کیونکہ بدن کے اوپر کے حصوں پر زخموں سے یہ اندازہ لگایاجا سکتا ہے کہ مولانا بیٹھے ہوئے تھے جب ان پر حملہ کیا گیا۔ اخبارات میں یہ بھی لکھا ہے کہ ڈرائیور اور محافظ جانتے تھے کہ قاتل مولانا کے پاس اس سے پہلے بھی آتے جاتے رہتے تھے ۔ اس لیے وہ مولانا کو تنہا چھوڑ کر چلے گئے۔ یا خود مولانا نے تخلیہ چاہا ہوگاکہ ''ملاقاتیوں'' سے تنہائی میں بات چیت ہو سکے۔ اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ مولانا اور قاتلوں کے درمیان کوئی لمبا بحث و مباحثہ ہوا ہو کیونکہ ڈرائیور اور محافظ کے جلد واپس لوٹنے کا امکان تھا۔ ایک بات نہ جانے کہاں تک درست ہے ' یہ بھی گردش کر رہی ہے کہ ایمبولینس میں جب مولانا کو ہسپتال لے جایا جا رہا تھا تو مولانا نے قاتلوں کے نام بھی بتائے تھے۔ تاہم یہ بھی طے ہے کہ قاتل مولانا کے ملاقاتیوں میں سے تھے اور ڈرائیور اور محافظ بھی اگر ان سے پوری طرح واقف نہیں تھے تو انکی صورتیں ضرور پہچانتے تھے۔ دو ہی امکانات ہو سکتے ہیں ' ایک یہ کہ قاتلوںکو مولانا سے کوئی ذاتی رنجش تھی ' دوسرا یہ کہ قاتل سیاسی وجوہ کی بنا پر مولانا کو منظر سے ہٹانا چاہتے تھے۔ پہلا امکان اس لیے مسترد کیے جانے کے لائق ہے کہ اسی سال سے زیادہ عمر کے عالم دین سے کسی کی کیا ذاتی رنجش ہو سکتی ہے! دوسرا امکان البتہ قابلِ غور ہے۔ اس وقت جب ملک میں ایک اہم دینی معاملے پر بحران کی کیفیت برپا ہورہی تھی ' ایک عالم دین کا قتل وہ بھی ایسے عالم دین جس کی سیاسی حیثیت نہایت اہم ہو اس بحران کو یکایک تباہ کن بنا سکتی تھی۔ تیسری بات یہ ہے کہ مولانا چونکہ افغان طالبان میں بطور خاص نہایت محترم حیثیت کے مالک تھے ' (طالبان کے بیشتر قائدین ان کے مدرسہ کے تعلیم یافتہ ہیں) ان کی رائے طالبان اور امریکہ کے مذاکرات کے حوالے سے اہم ہو سکتی ہے اس لیے مذاکرات کے پیش منظر سے مولانا کو ہٹانے کے لیے کسی نے ان کو شہید کرنے کا منصوبہ بنایا ہو۔ وجہ کوئی بھی ہو قاتلوں کی گرفتاری کے بعد ان کے بیانات سے معلوم ہو سکتی ہے۔ قاتل کم از کم مولانا کے ڈرائیور اور محافظ کے لیے اجنبی نہیں تھے ۔ وہ ان کی شکلوں سے آشنا ہیں ' ان کے حلیہ ' زبان اور ممکنہ علاقے کا بھی اندازہ بیان کر سکتے ہیں۔ اس لیے قاتلوں کی گرفتاری حکام کے امکان میں شمار کی جا سکتی ہے۔ اعلیٰ حکام کا فرض ہے کہ وہ تمام وسائل بروئے کار لا کر قاتلوں کی فوری گرفتاری یقینی بنائیں۔

متعلقہ خبریں