Daily Mashriq


ہم خواب فروشوں سے کوئی خواب خریدے

ہم خواب فروشوں سے کوئی خواب خریدے

طعنہ زن ہیںکس لئے اغیار میں دیوانہ ہوں

مگر اب تو طعنوں کا وہ دور گزر گیا ہے جب افغانستان میں وزیر ریلوے کے عہدے کو دیکھ کر ہمارے ہاں سے کسی نے طنزیہ انداز میں کہا تھا کہ جب افغانستان میں ریلوے کا نظام ہی نہیں ہے تو وزیر ریلوے کی تقرری کا کیا جواز ہے، اس پر وہاں سے جواب آں غزل کے طور پر کہا تھا کہ پاکستان میں وزیر انصاف کیوں ہے، کیا تمہارے ہاں انصاف ہے؟ یہ شاید وہ دور رہا ہوگا جب خود ہمارے ہاں محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے بھی عدالتوں کو کینگرو کورٹ کا طعنہ مارا تھا حالانکہ اس صورتحال کی ابتداء تو بہت پہلے اس وقت ہوئی تھی جب ایک فاضل جج نے نظریۂ ضرورت ایجاد کر لیا تھا، تاہم یہ سب باتیں پرانی ہوگئی ہیں اور اللہ کے فضل وکرم سے اب ہماری عدالتیں بی بی شہید کے دیئے ہوئے نام کو ماضی میں دفن کر آئی ہیں یہی وجہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے فیصلے کو ہماری عدلیہ بھی قابل افسوس گردانتی ہیں۔ اسی دور کے حوالے سے ایک شاعر نے یہ بھی تو کہا تھا نا کہ

محسوس ہوتا ہے، یہ دور تباہی ہے

شیشے کی عدالت ہے پتھرکی گواہی ہے

خیر اب ان باتوں کا مذکور ہی کیا، اصل مسئلہ تو افغانستان میں ریلوے کے نظام کی عدم موجودگی کے باوجود کابینہ میں وزیر ریلوے کی تقرری کا تھا جو شاید اب اس قدر قابل اعتراض بھی نہ رہے کیونکہ ابھی چند روز پیشتر ازبکستان کے وزیر خارجہ نے اپنے دورۂ اسلام آباد میں ازبکستان سے پاکستان تک افغانستان کے راستے ریلوے لائن بچھانے کی پیشکش کر دی ہے اور اگر یہ منصوبہ عملی صورت اختیار کر لیتا ہے تو پھر افغانستان میں وزیر ریلوے کی وزارت کا جواز بھی پیدا ہو جائے گا کیونکہ افغانستان سے ریلوے ٹریک گزارتے ہوئے افغانستان بھی اس ٹریک کیساتھ ان شہروں میں مقامی طور پر ریلوے سٹیشن بنوا کر اس ٹریک سے مقامی طور پر بھی بھرپور استفادہ کرے گا یعنی ریل گاڑیوں کا ایک اندرونی نظام بھی قائم کر کے مقامی لوگوں کو آمد ورفت کی سہولتیں فراہم کرنے کے بارے میں ضرور غور کرے گا بلکہ عین ممکن ہے کہ اس کے بعد وہ دیگر صوبوں تک رسائی کیلئے بھی مختلف سمتوں میں ریلوے لائن بچھانے کے بارے میں سوچے جبکہ اس سلسلے میں اسے تربیت کیلئے پاکستان اور ازبکستان دونوں ملکوں کے ماہرین ریلوے کی ضرورت پڑے جو کانٹا بدلنے سے لیکر ریلوں کی آمد ورفت کے پورے سسٹم کے قیام اور ایک ایک لمحے کا ریکارڈ بنانے میں اس کیساتھ تعاون کریں کیونکہ مختلف ریل گاڑیاں چلانے کیلئے ایک ایک منٹ کا حساب کتاب رکھنا پڑتا ہے وگرنہ خدانخواستہ تصادم کے خطرات بھی ہو سکتے ہیں، اگرچہ اب دنیا بہت آگے جا چکی ہے اور پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش یعنی سابقہ متحدہ ہندوستان میں ریلوے نظام یکطرفہ ہے اور ٹرینوں کی آمد ورفت کا شیڈول رکھنا پڑتا ہے، البتہ مغربی دنیا میں اب ٹووے ٹریفک کی وجہ سے سنٹرل نظام کے تحت کمپیوٹرائزڈ سسٹم رائج ہوچکا ہے اور مرکزی سٹیشن پر کنٹرول روم کے اندر لگی ہوئی سکرینوں پر ایک ایک ٹرین پر نگاہ رکھی جاتی ہے، تو ممکن ہے کہ افغانستان میں دو رویہ پٹڑی بچھا کر بغیر کسی رکاوٹ کے آنے جانے والے ٹرینوں کو کنٹرول کرنے کا سلسلہ قائم کیا جائے، مگر پھر بھی اس نظام پر ہر لمحہ کڑی نگاہ رکھنا لازمی ہوگا۔ البتہ طورخم سے پشاور تک جو ریلوے لائن انگریزوں کے دور میں بچھائی گئی ہے وہ ازکار رفتہ بلکہ آثار قدیمہ کی صورت اختیار کر چکی ہے اور وہ جو کسی زمانے میں ہر اتوار کو پشاور کینٹ سے لنڈی کوتل تک ایک ٹرین جایا کرتی تھی اب اس کے امکانات بھی ختم ہو چکے ہیں کیونکہ جمرود کے آس پاس ریلوے ٹریک قابل استعمال نہیں رہی، ٹریک کے نیچے کئی جگہ زمین دھنس چکی ہے اور اس پر ریل گاڑی چلانا ممکن نہیں رہا۔ اگر یہ منصوبہ تینوں ملکوں کے مابین طے پاجاتا ہے تو پھر پشاور سے طورخم تک بھی ریلوے ٹریک نئے سرے سے بچھانی پڑے گی۔ اس کے بعد تینوں ملکوں کے بیچ نہ صرف سیاحت اور تجارت کو فروغ ملے گا بلکہ ممکن ہے کہ روزگار کی تلاش میں بھی لوگ ایک دوسرے کے ملک آنے جانے لگیں اور جب کوئی اپنوں سے بچھڑ کر دوسرے ملک جائے گا تو اسے رخصت کرنے والوں کی کیفیت بقول منیر نیازی یوں ہوگی

ریل کی سیٹی میں درد ہجر کی تمہید تھی

اس کو رخصت کرکے گھر پہنچے تو اندازہ ہوا

ابھی تو خیر یہ ایک تجویز ہے جس پر تینوں ملکوں کے مابین اتفاق رائے ضروری ہے اور اس کے بعد اس منصوبے کی نوک پلک سنوارنے میں کتنا وقت لگتا ہے جبکہ سروے بھی کرانا پڑے گا تاکہ اس روٹ کا انتخاب کیا جائے جو کم سے کم فاصلے پر محیط ہو۔ اس کے بعد ریلوے ٹریک بچھانے کا عمل کتنی مدت میں پایۂ تکمیل تک پہنچنے کی اُمید ہے یہ بھی قابل توجہ بات ہوگی کیونکہ افغانستان میں اس وقت جو حالات ہیں اور افغان طالبان اس منصوبے کو کس نظر سے دیکھتے ہیں یہ بھی ایک اہم فیکٹر ہوگا جبکہ اس سے پہلے میاں نواز شریف کے دوسرے دور حکومت کے دوران تاجکستان سے بھارت تک جس گیس پائپ لائن منصوبے پر اتفاق ہوا تھا وہ آج تک پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچ سکا ہے، جس میں اگر ایک جانب بھارت کی بدنیتی اور ہٹ دھرمی کارفرما تھی تو دوسری جانب افغانستان میں اندرونی حالات اس کی راہ میں مزاحم رہے، بہرحال ٹریک منصوبے کا تعلق ازبکستان، افغانستان اور پاکستان کیساتھ ہے اور بھارت کا تذکرہ تک نہیں ہے اس لئے اگر افغانستان چاہے تو یہ منصوبہ تینوں ملکوں کو قریب لاسکتا ہے۔ بقول حسن نثار

کچھ اور نہیں وعدہ تعبیر کے بدلے

ہم خواب فروشوں سے کوئی خواب خریدے

متعلقہ خبریں