Daily Mashriq


مذہب اور سیاست، موجودہ صورتحال

مذہب اور سیاست، موجودہ صورتحال

کسی زمانے میں مغرب یعنی یورپی ممالک میں بھی مذہبی رہنماؤںکا زور تھا کیونکہ قیصر اور چرچ ساتھ ساتھ چلتے تھے بلکہ قیصر (بادشاہ وقت) چرچ کی رہنمائی ونگرانی اور معاملات مملکت طے کرنے کا پابند ہوتا تھا، پھر وقت نے کروٹ بدلی، سپین میں مسلمانوں کی حکومت کے طفیل یورپ میں دین کی روشن تعلیمات کی وجہ سے روشنی پھیلی اور علوم وفنون کی ترقی کے نتیجے میں سائنس نے وہ مقام حاصل کیا کہ مذہبی پیشواؤں کی اجارہ داری کمزور پڑنے لگی اور اُن کی وہ باتیں جو فطرت سلیم کیخلاف ہوتی تھیں، عوام میں مقبولیت حاصل کرنے میں آہستہ آہستہ اور بتدریج ناکام ہونے لگیں۔ نتیجتاً یورپ میں ایک وقت آیا کہ ریاست اور مذہب میں دائمی جدائی پیدا ہو کر سامنے آئی۔ اسی کی مثل پر ہمارے ہاں بھی وقتاً فوقتاً یہ آواز لگتی ہی رہی اور ابھی لگتا ہے کہ مذہب کا سیاست سے کوئی سروکار نہیں جبکہ دوسری طرف اس بات میں شک نہیں کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو ریاست مدینہ طیبہ کے بعد دین (نظریات) کی بنیاد پر وجود میں آیا ہے اور اسی بناء پر آئین پاکستان میں بہت صریح اور کسی شک وابہام کے بغیر لکھا ہے کہ پاکستان میں قرآن وسنت کیخلاف نہ کوئی قانون بن سکتا ہے اور نہ چل سکتا ہے۔ الحمدللہ علیٰ ھذا۔۔ لیکن ہمارے ساتھ مسئلہ اور ہاتھ یہ ہوا کہ ہم نے دین متین کو دنیا کے دیگر مذاہب کی طرح ایک مذہب بنا لیا۔ اسی سبب ہمارا لبرل طبقہ ریاست کی ترقی میں مذہب کو بڑی رکاوٹ سمجھتا ہے بالکل اسی طرح جس طرح ایک زمانے میں یورپ میں ہوا تھا لیکن شاید بہت سارے لوگوں کیلئے یہ واضح نہیں کہ دین اور مذہب میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔ دین کل ہے اور مذہب جز اور جہاں دنیا کے دیگر مذاہب ہیں اُن میں تحریف کے سبب یہ صلاحیت باقی ہی نہ رہ سکی کہ اُن کی تعلیمات ملکی قانون کے طور پر بنی نوع انسان کی رہنمائی کرسکیں جبکہ دین اسلام میں قیامت تک کے انسانوں کیلئے بلاتفریق نسل وزبان وجغرافیہ رنگ وخوبو سب کیلئے زندگی کے ہر شعبے کیلئے رہنمائی کا سامان بدرجہ اتم موجود ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ مغرب کی بالادستی اور استعماریت کے ہاتھوں ہم نے بھی جامع دین کو مذہب میں تبدیل کر کے چند اہم ایام پر کچھ رسوم وروایات اور مظاہر ومحافل کے انعقاد کو دین پر پورا پورا عمل سمجھ کر اطمینان سے زندگی گزارنے لگے حالانکہ پاکستان کا قیام اس مقصد کیلئے ہوا تھا کہ یہاں دین مملکت کا قانون بن کر نہ صرف اسلامی فلاحی ریاست کی صورت میں اہل پاکستان کی فلاح وبہبود کا ضامن ہوگا بلکہ یہاں سے بنی نوع انسان کے دین کی تعلیمات کی بنیاد پر روابط مستحکم ہوں گے اور دنیا میں دین کی اشاعت وترویج کیساتھ ساتھ پاکستان کا نام بھی روش ہوگا لیکن گزشتہ ستر برسوں میں پاکستان میں مذہب وسیاست کے نام پر جو کچھ ہوتا رہا اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ نہ دین (شریعت) کا نفاذ ہو سکا اور نہ جمہوریت (اسلامی) پنپ سکی۔ پاکستان کی اعلیٰ ترین عدلیہ کے چیف جسٹس اور دو معاون ججوں نے ایک فیصلہ دیا۔ اس فیصلے سے اتفاق واختلاف کا حق ہر پاکستانی کو حاصل ہے لیکن قانون کے دائرے میں لیکن یہاں گزشتہ دو دنوں میں جو کچھ کہا جارہا ہے اور ہو رہا ہے اس کی پشت پر وہی مذہب اور سیاست کی کارفرمائیاں نظر آرہی ہیں۔ کسی پر شک ظاہر کیا جارہا ہے کہ مذہب کے نام پر سیاسی دکان چمکائی جارہی ہے اور کسی پر مغرب پرستی اور مغربی دباؤ کے سامنے کمزور پڑنے کا الزام۔ مذہبی طبقات اپنے آپ کو بہتر بلکہ اعلیٰ عاشقان رسولۖ گردانتے ہیں جبکہ جج صاحبان کا بھی یہی دعویٰ ہے۔ جس وزیراعظم پر یہی مذہبی طبقات یہودی سازشوں کا آلہ کار بننے کا الزام لگاتے ہیں اُس کا حال یہ ہے کہ مدینہ رسولۖ میں جوتوں کے بغیر داخل ہوتا ہے۔ مسلم لیگ(ن) نے علی الاعلان کہا ہے کہ عمران حکومت وہی کاٹ رہی ہے جو ہمارے خلاف بویا تھا۔ جب تک یہ باتیں ایک دفعہ ہمیشہ کیلئے طے نہیں کی جاتیں اس قسم کے واقعات سامنے آتے رہیں گے اور پاکستان کی ترقی میں روڑے اٹکتے رہیں گے۔ سرمایہ کار ان حالات کو دیکھتے ہوئے کبھی سرمایہ کاری کیلئے نہیں آئیںگے اور جو کچھ تھوڑا بہت یہاں موجود ہے وہ بھی احتجاجی مظاہروں کی نذر ہوتا رہے گا۔

آخر میں دست بستہ عرض واستفسار کی جسارت کی اجازت طلب کرنا چاہوں گا کہ آخر یہ کیسی سیاست اور کیسا مذہبی جذبہ ہے جو غریب لوگوں کے مال وجائیدادوں، اپنا اور اپنے بچوں کے پیٹ کاٹ کر ارمانوں سے خریدی گئی موٹر سائیکل اور گاڑیوں کو ایسے نذرآتش کیا جاتا ہے کہ دشمن کیا کرتا ہوگا۔ مجھے یقین نہیں آتا کہ کوئی مذہب اور سیاست کے نام پر اپنے ہی ملک اور بھائی بندوں کیساتھ ایسا بھی کرسکتا ہے اور اگر کوئی کر رہا ہے تو بہت ہی بُرا کر رہا ہے۔ عدالتی فیصلے سے اختلاف ہے تو یہ آپ کا حق ہے۔ اس کیخلاف پوری پوری قانونی چارہ جوئی کریں لیکن حکومت کو گرانے اور ملک وقوم کے مقتدر اور سلامتی کے ضامن اداروں کے سربراہوں کیخلاف باتیں کرنا یقینا حب الوطنی اور سرکار دو عالمۖ کی پاک تعلیمات کیخلاف ہے۔

ناموس رسالت پر پاکستان کا ہر مسلمان جان قربان کرنے کیلئے تیار رہتا ہے لیکن خدارا اپنی جان پر جناب خاتم النبیینۖ کی شریعت مطہرہ اور سنت مبارکہ کا نفاذ بھی تو کیجئے۔ تب بات بنے گی اور شاید علامہ محمد اقبال نے ہماری ایسی روشوں کے پیش نظر فرمایا تھا۔ اسلام کیلئے کٹ مرنا بہت آسان ہے لیکن زندہ رہ کر اسلام پر عمل پیرا رہنا بہت مشکل ہے۔

متعلقہ خبریں