Daily Mashriq


انسداد بدعنوانی کا سعودی وچینی ماڈل

انسداد بدعنوانی کا سعودی وچینی ماڈل

وزیراعظم عمران خان مملکت خداداد پاکستان سے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے پُرعز م ہیں' اس مقصد کیلئے وہ چین وسعودی عرب سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں' کیونکہ یہ دونوں ممالک اپنے اپنے طور پر انسداد بدعنوانی کو قابو کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ گزشتہ دنوں سعودی عرب کے دورہ سے واپسی پر وزیراعظم عمران خان اس بات کا کھل کر اظہار کر چکے ہیں کہ کس طرح سے سعودی عرب کے جواں سال ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے بدعنوانی پر قابو پایا ہے۔ سعودی عرب نے بدعنوانی پر کیسے قابو پایا؟ ذیل کی چند سطور سے اس کا انداہ لگایا جا سکتا ہے۔ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے سعودی عرب میں اصلاحات کا آغاز کرتے ہوئے انسداد بدعنوانی کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی، جس کے وہ خود سربراہ بنے۔ اس کمیٹی نے کچھ ہی عرصہ میں شہزادہ محمد بن سلمان کو ایک رپورٹ پیش کی کہ سعودی عرب میں روز بروز بدعنوانی بڑھ رہی ہے' رشوت اور کسی کام کے عوض خطیر رقم بطور تحفہ دینا سعودی عرب میں کاروبار کرنے کا ایک لازمی جزو بن گیا ہے۔ اسی طرح اہم عہدوں پر تعینات رہنے والے افراد میں سے زیادہ تر نے خوب دولت جمع کی ہے۔ چند ایک معاملات میں بات اربوں ڈالر تک پہنچ گئی ہے جوکہ ان کی سرکاری تنخواہوں سے کئی گنا زیادہ ہے۔ اس دولت کا خاصا حصہ آف شور اکاؤنٹس میں محفوظ کیا گیا ہے۔ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے سامنے جب یہ حقائق آئے تو انہوں نے اپنے ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی اور نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے حوالے سے کہا کہ ہمارا ملک اس طرح کی بدعنوانی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ سو انہوں نے بدعنوانی میں ملوث امیر ترین افراد کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ کاروبار کرنے کا پرانا انداز اب قابلِ قبول نہیںہوگا۔ اگر سعودیوںکو 21ویں صدی میںکامیاب قوم کے طور پر رہنا ہے تو ملک کی اصلاح کرنی ہوگی اور اسے جدید بنانا ہوگا۔ ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے بدعنوانی کے سدِباب کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات کے بعد دیکھنے میں آیا کہ سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی بار بڑے بڑے امراء اور شہزادوںکو حراست میں لیا گیا اور ان سے اربوں ڈالرز کی خطیر رقم وصول کر کے سرکاری خزانے میں جمع کی گئی۔ محمد بن سلمان کے ویژن 2030ء کیلئے نوجوان نسل ان کا بھرپور ساتھ دے رہی ہے اور انہوں نے سعودی عرب کو تیل کی مصنوعات پر انحصار کرنے کے بجائے دیگر ذرائع آمدن پر توجہ دیکر کوششیں شروع کی ہیں جن کے مثبت نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں۔اب جبکہ وزیراعظم عمران خان چین کے پانچ روزہ دورے پر ہیں تو وزیراعظم عمران خان نے چین کے غربت کے خاتمے اور انسداد بدعنوانی پروگرام سے استفادہ کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ چین کے موجودہ صدر شی پنگ چن نے انسداد بدعنوانی پر قابو پانے کیلئے اہم کردار ادا کیا ہے جس کی بنا پر چین خطے میںتیزی سے ترقی کرنیوالا واحد ملک بن گیا ہے۔ چین کے بارے میںمشہور ہے کہ حکومتی عہدیداروں کو عہدہ سنبھالنے کے بعد تنبیہ کے طور پر جیل کی سیر کرائی جاتی ہے اور جیل میں پہلے سے موجود کرپشن میںملوث سرکاری عہدیداروں سے ملاقات کرائی جاتی ہے تاکہ اس انجام کو مدِنظر رکھ کر سرکاری عہدیداران عبرت پکڑیں اور بدعنوانی سے گریز کریں۔ درحقیقت 2000ء سے قبل چینی تاجر اپنا منافع اور کاروبار (قانونی' غیر قانونی) سرکار سے چھپا کر کسی دوسرے ملک میںمنتقل کر دیا کرتے تھے' وہ ایسا اس لئے کرتے تھے کہ انہیں اپنا مال بیچ کر اس کا دس فیصد حصہ حکومت کو دینا پڑتا تھا۔ اس وقت کی چینی حکومت خسارے میں چلنے لگی' حکومتی عہدیداروں نے پتہ لگایا تو معلوم ہوا کہ ملک سے سرمایہ (جو سونے' چاندی' کے سکوں کی شکل میں ہوتا تھا) ملک سے باہر جا رہا ہے' چینی حکومت نے سرمائے کی بیرون ملک منتقلی کو روکنے کیلئے انتہائی سخت اقدامات کئے اور کئی ایک تاجروں کو بغیر اجازت اور بلاوجہ سرمایہ ملک سے باہر لے جانے پر موت کی سزا دی گئی، اور کسی سے مطلوبہ تعداد سے زیادہ ''کرنسی'' برآمد ہوتی تو اسے فوراً گرفتار کر لیا جاتا' یوں چین منی لانڈرنگ اور بدعنوانی جیسے ناسور پر قابو پانے میںکامیاب ہوا۔مذکورہ دونوں ممالک سخت اقدامات کی وجہ سے سرمائے کی بیرون ملک منتقلی کا سدباب کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ سعودی عرب اور چین کیلئے بھی سخت اقدامات ایک مشکل فیصلہ تھا لیکن انہوں نے اپنے روشن مستقبل کیلئے سخت فیصلے کئے اور آج اس کے ثمرات سے مستفید ہو رہے ہیں، ہمیں بھی ایسے ہی سخت ترین فیصلوں کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں انسداد بدعنوانی کیلئے قائم کی گئی کمیٹی کے وزیراعظم خود سربراہ ہیں اسلئے امیدکی جا سکتی ہے کہ ہم بھی اس ناسور سے بہت جلد چھٹکارا پا لیں گے۔ دوسری طرف وزیراعظم پاکستان نے اقتدار میں آتے ہی مغربی ممالک پر انحصار کرنے کی بجائے سعودی عرب اور چین کیساتھ تعلقات کو مزید استوار کیا ہے۔ سعودی عرب کیساتھ بالخصوص اس وقت کھڑے ہو ئے جب جمال خشوگی کے بہیمانہ قتل کے بعد سارا ملبہ سعودی عرب پر ڈالا جا رہا تھا۔ وزیراعظم عمران خان نے دنیا کو بتا دیا کہ اس مشکل کی گھڑی میں پاکستان سعودی عرب کیساتھ کھڑا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کے ابتدائی دنوں میں سعودی عرب اور چین کی طرف سے حکومت کو جس مالی تعاون کا سہارا دیا گیا ہے' وہ ان ممالک کیساتھ دیرینہ دوستی اور ٹھوس تعلقات کا ثبوت تو ہے ہی لیکن اس پیکیج کا ہمیں فائدہ یہ ہوگا کہ ہم آئی ایم ایف کی کڑی شرائط سے بچ جائیںگے۔

متعلقہ خبریں