امریکی دباؤ مدعا کچھ اور مقصد کچھ اور

04 ستمبر 2018

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے جو رقم روکنے کا اعلان کیا گیا ہے وہ امداد نہیں بلکہ یہ واجب الادا رقم ہے۔ خیال رہے کہ سنیچر کو امریکی فوج نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان کی جانب سے شدت پسند عسکری گروہوں کیخلاف ٹھوس کارروائیاں نہ کرنے پر 30کروڑ ڈالر کی امداد منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ امریکی حکومت اور نئی پاکستانی حکومت کے تعلقات میں تلخیاں آنے کے بعد واشنگٹن کی جانب سے بیان جاری کیا گیا کہ اگر پاکستان امریکا کیساتھ بہتر تعلقات چاہتا ہے تو اسے افغانستان کے حوالے سے امریکی حکمت عملی پر عمل پیرا ہونا پڑے گا۔ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی حکمت عملی یہ ہے کہ افغانستان میں امن کے حصول کیلئے طالبان کو فوجی اور سفارتی دباؤ کے ذریعے کابل کیساتھ کام کرنے پر مجبور کیا جائے۔ اس حوالے سے واشنگٹن کو یقین ہے کہ طالبان اور کابل کے ملکر کام کرنے سے امریکی فوج کی افغانستان سے باعزت واپسی ممکن ہوسکے گی۔ اس ضمن میں امریکی حکومت نے پاکستان کو گزشتہ ہفتے واضح الفاظ میں پہلا پیغام پہنچا دیا تھا جب امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے وزیراعظم عمران خان سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے پاکستان میں موجود تمام دہشتگردوں کیخلاف مؤثر اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ابتدا میں پاکستانی حکومت نے اس گفتگو کے بارے میں امریکی مؤقف کو مسترد کر دیا تھا لیکن بعد میں اپنے مؤقف سے دستبرداری اختیار کر لی تھی۔ اس حوالے سے دوسرا پیغام اس وقت دیا گیا جب رواں ہفتے کے آغاز میں امریکی سیکرٹری دفاع جیمز میٹس نے واشنگٹن میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی سیکرٹری مائیک پومپیو اور امریکی ملٹری چیف اسلام آباد جا کر پاکستان پر دہشتگردوں کیخلاف مؤثر کردار ادا کرنے کیلئے زور دیں گے۔ بعد ازاں2 روز قبل پینٹاگون نے امریکا کی افغان حکمت عملی کی حمایت میں فیصلہ کن اقدامات نہ کرنے کا الزام لگا کر پاکستان کو فراہم کی جانے والی30 کروڑ ڈالر امداد روکنے کا اعلان کیا تھا۔ اس حوالے سے واضح مؤقف اپناتے ہوئے امریکی اسسٹنٹ آف ڈیفنس فار ایشیئن اینڈ پیسفک سکیورٹی افیئرز رینڈال جی شیریور کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امریکی جنگ ختم ہونے سے قبل امریکا کی جانب سے پاکستان کو دی جانے والی سکیورٹی امداد کی بحالی ممکن نہیں اور اس سلسلے میں مزید پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں کیونکہ واشنگٹن کو چین کیساتھ پاکستان کے بڑھتے ہوئے معاشی تعلقات پر سخت تشویش ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امداد میں کٹوتی کرنے اور پاکستان پر طالبان سے تعلقات کے حوالے سے دباؤ بڑھانے کے بارے میں ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ اس سے دہشتگردی کے نیٹ ورک سے نمٹنے کیلئے انہیں مذاکرات کی میز پر لانا ممکن ہو سکے گا۔ امریکی حکومت کی افغانستان میں جنگ ختم کرنے کی خواہش کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ17 سال ایک طویل عرصہ ہوتا ہے کسی جنگ کو جاری رکھنے کیلئے، ضروری ہے کہ اب اسے ختم کر دیا جائے، ہم چاہتے ہیں کہ اسے ختم کر دیا جائے۔گوکہ امریکہ پاکستان پر ان غیر مرئی اورکوئی ٹھوس حقیقت نہ رکھنے والے گروپوں کیخلاف قابل اعتماد کارروائی نہ کرنے کا حیلہ تراش کر دہشتگردی کیخلاف جنگ کے اتحادی کی حیثیت سے اپنے ذمہ واجب الادا رقم کی ادائیگی سے انکاری ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کا کہنا کچھ اور ہے اور طلب کچھ اور کر رہا ہے۔ امریکہ کے تازہ دباؤ کا مقصد اسلام آباد کو طالبان پر دباؤ ڈال کر افغان حکومت کیساتھ معاملت کرنے پر راضی کرنا ہے۔ عجیب بات یہ کہ امریکہ خود تقریباً دو دہائیوں سے افغانستان میں عملاً موجود ہے مگر اس طویل عرصے میں نہ تو اسے طالبان کی سرکوبی کی منزل حاصل ہوسکی ہے اور نہ ہی امریکہ درون خانہ افغان طالبان سے اس قدر راہ ورسم بڑھا سکا کہ بیٹھ کر معاملت کی جائے۔ افغانستان ایک ایسے وقت میں ہمسایہ ملک کے معاملات کو سلجھانے کیلئے پاکستان سے اعانت کا خواہاں ہے جبکہ افغانستان میں پاکستان کا ایک قونصل خانہ افغان حکومت کے نامناسب رویہ اور عدم تعاون کے باعث بند ہے۔ افغانستان کے صوبہ غزنی پر افغان حکومت کا عملاً کنٹرول باقی نہیں اور طالبان مسلسل دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ اس تناظر میں رواں موسم سرما کابل حکومت کیلئے سخت اور مشکلات سے پُر دکھائی دے رہا ہے۔ کسی بھی ہمسایہ ملک یا دنیا کے کسی بھی چھوٹے بڑے ملک کیساتھ معاملات میں اعتماد کی کیفیت بڑی اہمیت کا حامل معاملہ ہے جہاں اس کا فقدان ہو اور دھونس دباؤ اور واجب الادا رقوم کی ادائیگی اور حساب بے باق کرنے کی بجائے اس رقم کو دباؤ بڑھانے کیلئے استعمال کیا جائے تو وہاں دونوں ممالک کے درمیان پیچیدگیاں بڑھنے کی ہی صورت سامنے آسکتی ہے۔ اس امر کا امریکی وزیر خارجہ کو بھارت سے مختصر مدت کیلئے پاکستان آنے پر بھرپور احساس دلانے کی ضرورت ہے۔ امریکہ ایک طرف پاکستان سے اپنے مشکل حالات اور معاملات میں تعاون کا خواہاں ہے تو دوسری طرف امریکہ چین کے تجویز کردہ بیلٹ اینڈ روڈ یعنی سی پیک کے متبادل ایک نئے منصوبے پر کام کر رہا ہے جو چین کا مقابلہ کرنے کیلئے مختلف ممالک کو بنیادی ڈھانچے اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے سرمایہ فراہم کرے گا۔ اس ضمن میں امریکی وزیر خارجہ مذاکرات کیلئے نئی دہلی آرہے ہیں جس سے صورتحال کے ایک اور اہم پہلو کو سمجھنا اور پاکستان پر امریکی دباؤ کی ایک اور بڑی وجہ کو سمجھنا مشکل نہیں۔ امریکہ کو اس مرتبہ پاکستان میں وہ رعایت بھی شاید حاصل نہ ہو جو اسے فوج اور حکومت کے ایک صفحے پر نہ ہونے سے حاصل ہوا کرتی تھی۔ اس مرتبہ حکومت اور حکومتی ادارے پوری طرح ایک پرعزم پالیسی پر متفق اور پرعزم ہیں اور یہی کامیابی کی وہ کرن ہے جس میں دکھائی دے رہا ہے کہ پاکستان امریکہ سے دو ٹوک بات کرنے کیلئے تیار ہے۔

مزیدخبریں