لوڈشیڈنگ میں کمی لانے کی بجائے عوام کو صبر کا مشورہ

لوڈشیڈنگ میں کمی لانے کی بجائے عوام کو صبر کا مشورہ

ملک بھر کے شہری بڑھتی گرمی میں اضافی لوڈشیڈنگ کے باعث جس مشکل کا شکار ہیں اس ضمن میں حکومت کی جانب سے اقدامات کی بجائے دو تین ہفتے تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ دیا جارہا ہے ۔وفاقی وزیر بجلی و پانی خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ اضافی لوڈشیڈنگ ابھی برقرار رہے گی اور اپریل کے اختتام تک اضافی لوڈ شیڈنگ کم ہو جائے گی ۔ واپڈا کے وفاقی وزیر کو اس امر سے اتفاق نہیںکہ آئی پی پیز کو ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے ان کی دانست میں اس کی وجہ گرمی میں اضافہ ہے ۔وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ محمد آصف نے گزشتہ ہفتے خود ہی ایوان بالا میں سرکلر ڈیٹ میں اضافہ تسلیم کرتے ہوئے کہا تھا کہ گردشی قرضے فروری میں 393 ارب روپے ہو گئے تھے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ پھر آئی پی پیز کے واجبات بڑھ گئے ہیں جس کی وجہ سے ان کی جانب سے بجلی کی پیدا وار میں ممکنہ طور پر کمی کی گئی ہو ۔ انڈی پینڈنٹ پاور پروڈیوسرز(آئی پی پیز)کا کہنا ہے کہ سرکلر ڈیٹ میں اضافے اور حکومت کی جانب سے عدم ادائیگی کے باعث بجلی کی پیداوار کم ہوسکتی ہے۔واضح رہے کہ آئی پی پیز کا دعویٰ ہے کہ حکومت کے اپنے ریکارڈ کے مطابق اس کے ذمہ 253 ارب روپے کی رقم واجب الادا ہے۔ جبکہ سرکاری کمپنیوں کو شامل کیا جائے تو مجموعی حجم 414 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس مارچ میں ہائیڈل جنریشن کی اوسط کم ہو کر2 ہزار560میگاواٹ تھی۔ جو رواں ہفتے ایک ہزار چار سو دس میگا واٹ ہو گئی ہے۔ خواجہ آصف کے مطابق دس سے بارہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ وہاں کی جارہی ہے جہاں سے نوے فیصد ریکور ی نہیں ہورہی ہے۔ انہوں نے اس امر کا اعتراف کیا کہ اب بھی بجلی چور موجود ہیں جن میں سے کچھ کی بجلی بند کردی اور کچھ کی لوڈ شیڈنگ بڑھادی گوکہ وفاقی وزیر بجلی وپانی نے اپنی پریس کانفرنس میں بہتر ے تاویلات پیش کی ہیں لیکن ان کی تاویلات عوام کی مشکلات کا مداوا نہیں اور نہ ہی ان کی تسلی و تشفی سے عوام مطمئن ہوں گے ۔مستزاد ان کی تاویلات سے اس لئے اتفا ق ممکن نہیں کہ خواہ موجود ہ حکومت ہو یا سابقہ باتونی حکمرانوں نے وعدوں اور دعوئو ں کے ذریعے عوام کو بہلانے کے سوا کچھ نہیں کیا ۔ سابق حکومت میںملک بھر کے عوام جس بد ترین لوڈ شیڈنگ کے ہاتھوں عذاب میں مبتلا رہے وہ ایک درد ناک کہانی ہے موجودہ حکومت کے آتے ہی ابتدائی اقدامات سنجیدہ تھے جس کے نتیجے میں لوڈ شیڈنگ میںکمی آئی مگر افسو سناک صورتحال یہ ہے کہ اس دور حکومت کے پورے چار سالوں کے دوران دعوئو ں کے باوجود ایسے اقدامات کا انتظار ہی ہے ۔جس کے نتیجے میں لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا نہیں تو کم از کم اوقات کا ر مقرر کر کے مختصر دورانیے کی لوڈ شیڈنگ ہی کی جاتی، بجلی چوری والے علاقوں کا حل نہیں اور اگر چہ یہ مجبوری ہے تو پھر کیا چار سالوں کے دوران حکومت کو کسی علاقے میں بھی بجلی چوری کی روک تھام میں کامیابی نہ ہو سکی اس سے حکومت کی بے بسی مراد لی جائے یا پھر عوام کو ناقابل اصلاح گردانا چائے ۔ بلاشبہ بجلی چوری اور بلوں کی عدم ادائیگی ناقا بل برداشت قومی جرم ہے لیکن اس کی روک تھام اور بلوں کی وصولی بھی قومی ذمہ داری ہے جس میں نہ تو کوتاہی کی گنجائش ہے اور نہ ہی یہ تاویل پیش کر کے عوام کو لوڈ شیڈنگ کے اندھیرے میں دھکیلنے کا جواز قرار پا تا ہے ۔ ماہرین کے مطابق صرف بجلی کی پیداوار مسئلہ نہیں بلکہ بجلی کی پیدا وار میں کمی کا مسئلہ چوبیس گھنٹوں میں حل کیا جا سکتا ہے۔ اگر آئی پی پیز کو ادائیگیاں کی جاتیں اور ملک میں پوری استعداد کے مطابق بجلی کی پیدا وار ہونے لگے تو طلب ورسد کا توازن برابر ہو سکتا ہے۔ مگر ستم بالا ئے ستم یہ کہ بجلی کی سپلائی کیلئے ٹرانسمیشن لائن کی لازمی صورت موجود ہی نہیں یوں یہ معاملہ دہری توجہ اور منصوبہ بندی کا متقاضی ہے کہ بجلی کی پیداوار بھی بڑھائی جائے اور اس کو تاروں ، گرڈ سٹیشنز اور ٹرانسفارمروں سے گزار کر صارفین تک پہنچا بھی دیا جائے ۔عوام کو ان کی ضرورت کے مطابق قیمتاً بلکہ مہنگے داموں بجلی کی فراہمی نہیں ہوتی جس کے باعث یو پی ایس ، سو لر اور جنر یٹر کے متبادل اور اضافی اخراجات کا بوجھ صارفین پر پڑتا ہے ۔ حکومت بجلی کے متبادل ذرائع کے استعمال کی بھی حوصلہ افزائی نہیں کرتی اگر حکومت اس ضمن میں مخلص ہوتی تو شمسی توانائی کے استعمال کی پوری طرح سے حوصلہ افزائی کی جاتی ۔ملک میں شمسی توانائی کے آلات کی تجارت کیلئے ترغیبات دی جاتیں بنکوں سے آسان شرائط پر شمسی توانائی کے آلات کی خرید اری کے مواقع دیئے جاتے ۔ شمسی توانائی کے آلات کی خرید اری کیلئے آسان شرائط پر قرضے دیئے جاتے۔ حکومتی سطح پر شمسی توانائی کے آلات کی فراہمی و تنصیب کا بندوبست کیا جاتا۔ علاوہ ازیں بھی ماہرین سے مشاورت کے بعد اقدامات ناممکن نہ تھے ۔ حکومت پن بجلی کی پیداوار میں اضافے کیلئے اس درجہ کو شاں نہیں جو حالات کا تقاضا اور عوام کی ضرورت ہے ۔ توانائی کے منصوبوں پر کام کی رفتار بھی تسلی بخش نہیں مستزاد حکومت نئے ڈیموں کی تعمیر بارے سست روی کا شکارہے۔ نظر یہ آرہا ہے کہ رواں برس ساہیوال پاور پلانٹ اور پھر بن قاسم پاور پلانٹ سے بجلی کی پیداوارکے آغاز کے باوجود لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ممکن نہ ہوگا البتہ ملک میںلوڈ شیڈنگ میں کمی تو واقع ہو سکتی ہے۔ حکومت کو چاہیئے کہ وہ عوام کو صبر و تحمل کا درس دینے کی بجائے اپنی ذمہ داری پوری کرنے پر توجہ دے اور جلد سے جلد لوڈ شیڈنگ میں نمایا ں کمی کر کے عوام کو مشکلات سے نجات دلائے ۔

اداریہ