Daily Mashriq


افغانستان کے ساتھ اعتماد سازی کی ایک اور سعی

افغانستان کے ساتھ اعتماد سازی کی ایک اور سعی

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے لندن میں اس امر کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور خطے میں دیرپا امن و استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن مشترکہ مفاد میں ہے، پاکستان افغانستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے اور اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔جنرل قمر باجوہ نے کہا کہ بارڈر سیکورٹی میکنزم پاکستان اور افغانستان کے لیے نہایت اہم ہے، جبکہ دونوں ممالک کو ترجیحی بنیادوں پر اسے طے کرنے کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بارڈر کنٹرول اور منیجمنٹ کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، لیکن مشترکہ دشمن کو شکست دینے کے لیے دوسری طرف سے بھی ایسے ہی اقدامات کی ضرورت ہے۔قبل ازیں وزیراعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز لندن میں برطانوی حکام کی موجودگی میں افغان حکام سے ملاقات کر کے بد اعتمادی دور کرنے کی سعی کر چکے ہیں مگر پاکستان اور افغانستان کے درمیان باہمی تعلقات کے لیے لندن میں ہونے والا لفظی اتفاق رائے دونوں ممالک کی آپس میں روایتی بداعتمادی میںا س کے باوجود مدد گار ثابت نہ ہو سکی کہ پاکستان نے سرحدی آمدورفت بحال کر دی۔ اس موقع پر وزیراعظم کے خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز اور افغان قومی سلامتی کے مشیر حنیف اتمر کے درمیان برطانوی حکومت کی ثالثی میں لندن میں ہونے والی ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات اور سرحد میں دہشت گردوں کی نقل و حرکت کو ختم کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔خیال رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے باہمی تعاون کے معاہدے کے طریقہ کارکے حوالے سے تفصیلات عام نہیں کی گئی تھیں۔ اس اتفاق رائے کے بعد اسلام آباد اور کابل دونوں اس کو عملی شکل دینے کے لیے تاحال کوششیں کررہے ہیں اور اس دوران واحد چیز جو ہوئی ہے وہ سرحد کا کھلنا ہے۔علاوہ ازیں کوئی ایسے اقدامات نظر نہیں آئے جن کو سنجیدہ قرار دیا جا سکے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ آرمی چیف کا لندن میں ایک مرتبہ پھر افغانستان سے بہتر اور مستحکم تعلقات کی خواہش کا اعادہ اعلیٰ ترین عسکری سطح پر یقین دہانی ہے جبکہ سیاسی طور پر سرتاج عزیز قبل ازیں اس امر کا اعادہ کر چکے ہیں ۔ پاکستان کا افغانستان سے تعلقات بارے ہمیشہ سے یہی اصولی موقف رہا ہے لیکن اصل بات دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے ۔ جس کی سب سے بڑی وجہ افغان حکومت کی جانب سے ڈیورنڈ لائن کے تاریخی معاہدے سے انحراف ہے ۔ پاکستان داخلی سیکورٹی کے تقاضوں کے باعث سرحدی آمد ورفت کو باقاعدہ او ردستا ویزی بنانے کی جو ذمہ داری نبھارہا ہے افغان حکام کو یہ بھی منظور نہیں۔ مشکل امر یہ ہے کہ اس حوالے سے نہ توو ہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر آمادہ ہیں اورنہ ہی پاکستانی اقدامات ان گوارا ہیں ۔اس طرح کی صورتحال دونوں ممالک کے درمیان کشید گی کا باعث رہے گی۔ جو بھی ملک ثالثی کرے اور معاملات طے کروانے کی سعی کرے اس کی کامیابی و نا کامی کا دارو مدار دونوں ممالک کے درمیان قریب آنے اور اعتماد سازی پر ہوگا ۔

ناظمین سے تصدیق کی لا یعنی شرط

رہائشی مکانات کرایہ پر لینے والوں کی سادے طریقے سے جاری تصدیق کے عمل کو کبھی پراپرٹی ڈیلرز سے تصدیق کی شرط اور کبھی ناظمین سے تصدیق کی شرط میں تبدیلی کی ضرورت کیوں پڑی اس کا علم پولیس کے اعلیٰ حکام ہی کو ہوگا۔ ہمارے نزدیک اس کا مقصد ناظمین کی خوشنودی اور سیاسی فائدہ اٹھانے کے سوا کچھ نہیں ناظمین علاقے کے عوام کے نمائندے ہیں جن کی بنیادی ذمہ داری اجتماعی عوامی مسائل حل کراناہے ۔ ان سے کرایہ دار کی تصدیق کی چنداں ضرورت اس لئے نہیں کہ مالک مکان دو گواہوں کے ساتھ پراپرٹی ڈیلرکے کرایہ نامہ یا پیپر بیان حلفی کے ذریعے اس امر کی اطلاع دیتا ہے کہ ان دونوں فریقوں کے درمیان گھر کرایہ پر حاصل کرنے کا معاہد ہ ہوا ہے جس کے کوائف کی پولیس نادرا سے تصدیق اور متعلقہ تھانے کو مزید تصدیق کیلئے ارسال کرتی ہے۔ ایسے میں کسی طور پر کسی مقامی نمائندے کی تصدیق و گواہی کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی ۔ ناظمین کو نادرا کے شناختی کارڈ فارموں کی تصدیق کا اختیار دینے اور اس اختیار کا ناجائز استعمال کرنے والے آج بھی عدالتوں سے ضمانتوں پر ہیں حکام اس طرح کا ایک اور ناکام تجربہ نہ دہرائیں تو زیادہ مناسب ہوگا ۔

متعلقہ خبریں