Daily Mashriq


لوڈ شیڈنگ کا سیاپا

لوڈ شیڈنگ کا سیاپا

حسب معمول ایک بار پھر لوڈ شیڈنگ پر سیاپا کرنے کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہیں ۔ موسم گرما کے آغاز کے ساتھ ہی شہ سرخیوں کے ساتھ خبر یں لگنا شروع ہو گئی ہیں کہ شارٹ فال 6ہزار میگا واٹ تک پہنچ چکا ہے ۔ نظام زندگی شدید متاثر ہور ہا ہے بعض علاقوں میں پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے ۔ مظاہرین نے حکومت کے خلاف نعرے لگا کر بجلی کے بل نذر آتش کئے ۔ اس موقع پر پیسکو جھنگ ڈویژن کے ڈپٹی منیجر نے قوم کو بجلی کا سمجھداری کے ساتھ استعمال کرنے کا نسخہ تجویز کیا ہے۔ اس موقع پر ہم ان کے اس بے بہا مشورے کی وضاحت میں پشتو کے ایک ناگفتنی محاورے میں جواب دے سکتے ہیں ، جو ممکن نہیں ۔ صارفین موسم سرما میں بھی تین سے چار گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ حکمرانوں کی اس یقین دہانی کے ساتھ برداشت کرتے رہے کہ ان کے بقول آئندہ موسم گرما میں لوڈ شیڈنگ کے جن کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی جائیگی ۔ لیکن ایسا نہیں ہو ا۔ اور مارچ کے مہینے میں بھی قوم کو شدید لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ ویسے پاکستانیوں کے لئے یہ کوئی نئی بات نہیں یتیم دجڑا عادت دے ۔ یتیم بے چارہ اس دیرینہ مسئلہ پر رونے پیٹنے کا عادی ہو چکا ہے ۔ دیرینہ مسئلہ ہم نے قلم برداشتہ نہیں ارادتاًلکھا ہے ۔ہم لوڈ شیڈنگ کے موضوع پر پہلے بھی عرض کر چکے ہیں اور یہ ہماری یادوں کی بات ہے کہ پیپلز پارٹی کے پہلے دور حکومت میںغا لباً 1973کا زمانہ تھا خاتون اول محترمہ نصرت بھٹو صاحبہ ایک شام سرکاری ٹیلی وژن پر آئیں اور قوم سے اپیل کی کہ ملک کے دریائوں میں پانی کی کمی کی وجہ سے شام کے اوقات میں صرف پندرہ منٹ کی لوڈ شیڈنگ برداشت کرنا پڑے گی۔ پہاڑوں پر برف پگھلنے کے بعد انشاء اللہ صورتحال میں بہتری آجائیگی۔ اس وقت کے پندرہ منٹ اب 10سے بارہ گھنٹوں پر پھیل چکے ہیں ۔ مگر قوم کو لوڈ شیڈنگ سے چھٹکار ا نصیب نہ ہو سکا ۔ ظاہر ہے گزشتہ 40سال میں اس مسئلے پر کسی نے سیاست چمکانے کے علاوہ کوئی دوسرا کارنامہ انجام نہیں دیا ۔گزشتہ دور میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے رینٹل پاور سٹیشن کا تجربہ آزمایا ، جس سے قوم کو تو کوئی فائدہ نہ پہنچا البتہ یہ تجربہ ایک میگا مالی سکینڈل میں تبدیل ہو گیا ۔ اس منصوبے کا کیا نتیجہ نکلا ؟ 

ہمیں تو اس بارے میں کچھ علم نہیں البتہ اس دور کے وزیر پانی و بجلی نے راجہ رینٹل کے نام سے ضرور شہرت پائی۔ پیپلز پارٹی کے دور میں ہی وزیر اعظم نے گھڑیوں کو آگے پیچھے کرکے بجلی میں بچت کی خوشخبری دی۔ ان کا خیال تھا کہ ان کے اس کھلواڑ سے نظام فطرت میں بھی تبدیلی آجائے گی۔ اس منصوبے کا بھی کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہ نکلا اور قوم کو مسلسل بجلی کے بحران کا سامنا رہا۔ گزشتہ دور میں خادم اعلیٰ نے وہاں لاہور کے مینار پاکستان کے نیچے ایک خیمہ بستی آباد کی اور ہاتھ میں پنکھے پکڑ کر اسے ہلاتے رہے۔ اس ڈرامے کا نام لوڈشیڈنگ ختم کرو رکھا گیا۔ لیکن وہ بھی فلاپ ہوگیا۔ الیکشن کا زمانہ آیا تو موجودہ حکمرانوں کی اس مہم میں اپنی ہر تقریر کی تان لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے بلند بانگ دعوے پر ٹوٹتی رہی۔ دوران خطاب نہ صرف اپنے سامنے رکھے مائیکرو فونوں کی قطار پر گھونسے برساتے بلکہ حبیب جالب کی ایک باغیانہ نظم کے ٹیپ کا یہ مصرعہ بھی ترنم کے ساتھ دھراتے کہ

ظلم کی رات کو جہل کی بات کو

میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا

اقتدار میں آنے پر جب ان لوگوں کو کہا گیا کہ حضور! آپ تو لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے ایک نکاتی ایجنڈے کے ساتھ میدان میں اترے تھے اور اسے چھ ماہ میں ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ یہ وعدہ کب ایفا ہوگا تو وہ ہنستے ہوئے فرماتے' کیا سادہ قوم ہیں آپ بھی۔ سیاستدانوں کے انتخابی نعروں پر زیادہ یقین مت رکھو۔ یہ لوگ جوش خطابت میں اس موقع پر بہت کچھ کہہ جاتے ہیں۔ یہ تو خیر گزشتہ ادوار کا ایک اجمالی خاکہ تھا ابھی کل ہی بجلی اور پانی کے وفاقی وزیر نے ایک پریس کانفرنس میں قوم کو تسلی دی ہے کہ 30اپریل تک 4ہزار میگا واٹ بجلی سسٹم میں آجائے گی اور پھر لوڈشیڈنگ کی صورتحال میں بہتری آسکتی ہے۔ لوڈشیڈنگ میں اضافے کا انہوں نے موسمی شدائد کو مورد الزام ٹھہرایا اور کہا کہ اب گرمی جلد شروع ہوگئی تو اس میں ہمارا کیا قصور ہے؟ دوسری جانب بجلی کے وفاقی وزیر مملکت نے اعلان فرمایا کہ بجلی کی سپلائی میں یہ تھوڑا بہت مسئلہ مرمت کے کاموں کی وجہ سے پیدا ہو رہا ہے۔ حیرت ہمیں اس بات پر ہوتی ہے کہ بجلی میں مرمت کے کام گرمیوں میں ہی انہیں کیوں یاد آجاتے ہیں۔ بجلی کے استعمال میں سمجھداری کے مشورے کاذکر تو ہم کر چکے ہیں۔ یہاں یہ عرض کرتے چلیں کہ یہ مشورہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی بھوکے کو پیٹ پر پتھر باندھنے کا کہا جائے۔ ان کے اس مشورے کے ضمن میں ہم ایک بار پھر پشتو کے ایک معنی خیز محاورے کا سہارا لینا چاہتے ہیں لیکن وہ جو کہتے ہیں

افسوس بے شمار سخن ہائے گفتنی

جوف فساد حلق سے ناگفتہ رہ گئے

شیخ فرید کی مان کر خاموش رہنے کو ہی ترجیح دیں گے۔ چلئے ہم مان لیتے ہیں کہ دریائوں میں پانی کم ہوگیا ہے۔ نندی پور' کوٹ ادو اور دیگر پلانٹ بند ہونے سے پیداوار متاثر ہوئی ہے۔ لیکن یہ جو سرکار شہری علاقوں میں تین گھنٹے اور دیہات میں 8گھنٹے کا بتاتی ہے اس کو ہم سفید جھوٹ ہی کہہ سکتے ہیں۔ اس وقت شہری علاقوں میں 8سے 10 اور دیہات میں 18 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔ سرکار اگر لوڈشیڈنگ کے خاتمے میں ناکام ہو چکی ہے تو کم از کم جھوٹے بیانات سے قوم کو گمراہ نہ کیا جائے۔ ایک خبر یہ بھی ہے کہ لوڈشیڈنگ کا پہلا جھٹکا سیکرٹری پانی و بجلی کو دے کر انہیں تبدیل کردیاگیا ہے۔ دیکھتے ہیں کہ ان کے تبادلے سے اس بحران پر کیا اثر پڑتا ہے۔ بہر حال ہمارا تو قوم کو یہی مشورہ ہوگا کہ انہیں رواں موسم گرما میں بجلی کے نظام کو مکمل طور پر تلپٹ نہ ہونے کی دعا کرنی چاہئے۔

متعلقہ خبریں