لکہ گرم دے بازار د درویشانو

لکہ گرم دے بازار د درویشانو

پشتو زبان کے صوفی شاعر عبدالرحمن بابا کے مزار سے یاقوت اور مرجان سے مزین کتبہ چوری ہوگیا۔ یہ کتبہ 1950ء میں افغانستان کے مرحوم بادشاہ ظاہر شاہ نے بھجوایا تھا جس پر مشہور شعرائے کرام کی شاعری ، فارسی اور پشتوکے اقوال زریں درج تھے۔ اس کتبہ کے ساتھ کچھ قیمتی پتھر بھی بھجوائے گئے تھے جو عرصہ ہوا چوری ہوچکے ہیں ۔اب کتبہ بھی چوری ہوگیا ہے۔ کتبہ چوری کرنے والوں نے کیا سوچ کر کتبہ چوری کیا ہے یہ تو وہی بہتر جانتے ہوں گے لیکن اگر کسی کا یہ خیال ہے کہ کتبہ چوری کرنے سے عبدالرحمن بابا کی شہرت اور ہر دلعزیزی میں فرق آئے گا تو یہ ان کی بھول ہے اس وقت ذہن میں رحمان بابا کا ایک شعر آرہا ہے آپ فرماتے ہیں : 

ھسے گرم بازار بل پہ جہان نشتہ لکہ گرم دے بازار د درویشانو
یقینا اولیائے کرام کا بازار تا قیامت آبادہی رہے گا۔ یہ اللہ پاک کے دوست ہوتے ہیں خدائے ذوالجلال کا ذکر کرتے کرتے ان کی ساری زندگی گزر جاتی ہے تو پھر اللہ کریم بھی اپنے دوستوں کا ذکر بلند کردیتا ہے۔ مرنے کے بعد بھی ان کے مزارات پر ہر وقت عقیدت مندوں کا ہجوم رہتا ہے ایسے لوگ نہ ہونے کے برابر ہیں جو پشتو زبان جانتے ہوں اور انہیں رحمان بابا کے کلام کا کچھ حصہ یاد نہ ہو۔ اس مرد درویش کا کلام زندگی میں تبدیلی لانے والا کلام ہے ۔دو چار برس کی بات ہے میں کسی کام کے لیے میونسپل کارپوریشن پشاور کے دفتر گیا دوست دفتر میں نہیں تھا میں آفس میں بیٹھ کر اس کا انتظار کرنے لگا۔ اسی اثناء میں دفتر کا ایک اہل کار میرے پاس آکر کہنے لگا کہ جناب کیا آپ پشتو پڑھ سکتے ہیں؟میں نے کہا جی کسی حد تک لیکن مسئلہ کیا ہے؟ اس نے اپنی جیب سے کچھ فوٹو سٹیٹ کاغذات نکالے جن پرعبدالرحمن بابا کے اشعار درج تھے۔ کچھ بری بھلی تشریح تو میں نے کردی اس کی تسلی بھی ہوگئی لیکن میں نے اس سے پوچھا کہ جب آپ کو پشتو پڑھنی بھی نہیں آتی تو پھر رحمان بابا کے اشعار پڑھنے کا اتنا شوق کیوں ہے ؟ وہ کہنے لگا کہ ان اشعار نے میری زندگی بدل کر رکھ دی ہے مجھے پشتو پڑھنی نہیں آتی لیکن بول بھی لیتا ہوں اور سمجھتا بھی ہوں۔ایک مرتبہ ہمارے صاحب کے ایک مہمان آئے صاحب دفتر میں نہیں تھے میں ان کے ساتھ گپ شپ لگانے لگا انہوں نے مجھے عبدالرحمن بابا کے چند اشعار سنائے جنہیں سن کر مجھ پر گہرا اثر ہوا اور یہ ان اشعار ہی کی برکت ہے کہ میں نے جب سے بابا کے اشعار سے دوستی کی ہے اس کے بعد سے ایک روپیہ بھی بطور رشوت نہیں لیا ورنہ اس سے پہلے رشوت لینا میرے نزدیک بڑی عام سی بات تھی ۔خوب ڈٹ کر رشوت لیا کرتا تھا ان اشعار نے تو مجھ پر زندگی و آخرت کی حقیقت کھول کر رکھ دی ہے۔ اب میں ان کے اشعار جیب میں لیے پھرتا ہوں جہاں موقع ملتا ہے آپ جیسے لوگوں سے سیکھتا رہتا ہوں! یہ حقیقت ہے کہ اللہ والوں کا کلام بھی زندہ کلام ہوتا ہے۔ ان کے اشعار سہل ممتنع کی اعلیٰ مثال ہیں پڑھنے والوں پر جہان معنی کے نت نئے دروازے کھولتے رہتے ہیں۔آپ بہت بڑے عاشق رسولۖ تھے :
کہ صورت د محمدنہ وے پیدا، پیدا کڑے بہ خدائے نہ وہ دا دنیا
نبوت پہ محمد باندے تمام شو نشتہ پس لہ محمدہ انبیاء
زہ رحمن د محمد د در خاکروب یم کہ مے نہ کہ خدائے دے درہ جدا
عبدالرحمن بابا کے کلام میں جگہ جگہ دنیا کی بے ثباتی کا نقشہ کھینچا گیا ہے دنیا کی حقیقت بڑی عمدگی کے ساتھ بیان کی گئی ہے۔ دنیا کی رنگینیوں میں کھو کر اپنی آخرت برباد کرنے والوں کو بڑے موثر انداز میں سمجھایا گیا ہے۔ صوفی شاعر کی بات دل سے نکلتی ہے اس لیے یقینا طاقت پرواز رکھتی ہے۔ سننے والوں پر اثر کرتی ہے
تل بہ نہ وی شگفتہ گلزار د عمر
نہ بہ جوڑ وی ہمیشہ بازار د عمر
لکہ برق چہ مخ ثر گندہ کاندی بیانہ وی
ھسے تیز دے بے سکون رفتار د عمر
اخلاص کے حوالے سے عبدالرحمن بابا کے دیوان میں ایک پوری نظم موجود ہے۔ اس نظم کو پڑھ کر رحمن بابا کی عقل و دانش اور بزرگی کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ نبی کریم ۖ کی مشہور حدیث مبارک کا مفہوم ہے'' اعمال کا دارومدار نیت پر ہوتا ہے'' رحمن بابا نے بھی اخلاص کے بغیر ہر قسم کے عمل کو بے کار قرار دیا ہے کوئی عمل کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو لیکن نیت درست نہ ہو تو بیکار چلا جاتا ہے ۔جو عمل خالص اللہ پاک کی رضا اور اس کی خوشنودی کے لیے کیا جائے وہ مبنی بر اخلاص ہے :
ثحہ عجب بلند مقام دے د اخلاص
چہ جہان واڑہ غلام دے د اخلاص
د رواج او رسم عمر مدام نہ وی
لکہ عمر چہ مدام دے د اخلاص
بے اخلاصہ حلاوت د اسلام نشتہ
کہ اسلام دے خو اسلام دے د اخلاص
عبدالرحمن بابا ہمارا بہت بڑا سرمایہ ہیں ان کا کلام پشتو ادب کے ماتھے کا جھومر ہے۔ ہم ان بزرگوں کے کلام سے ادب سیکھتے ہیں تہذیب سیکھتے ہیں یہ ہمیں زندگی کے اسرارورموز سے آگاہ کرتا ہے۔ ہم نے ان کی تعلیمات کی حفاظت کرنی ہے ۔جب اس قسم کی خبریں سننے کو ملتی ہیں تو دکھ ہوتا ہے اس سے پہلے ان کے مزارمبارک کو دھماکے سے اڑانے کی کوشش کی گئی اب ان کے مزار سے کتبہ چرالیا گیا ہے کیا اب ہم اس قابل بھی نہیں رہے کہ اپنے اکابرین کی حفاظت کرسکیں؟ ۔

اداریہ