Daily Mashriq


ایبٹ آباد آپریشن، ٹویٹ جواب آں ٹویٹ

ایبٹ آباد آپریشن، ٹویٹ جواب آں ٹویٹ

ایک زمانہ تھا کہ جب ٹیکنالوجی نے وسعت اور ترقی کا موجودہ معیار اور مقام نہیں پایا تھا تو جواب اور جواب الجواب کے لئے جواب آں غزل کے محاورے مستعمل تھے ۔ زمانہ بدل گیا اور ٹیکنالوجی کی ترقی نے دنیا کو سکیڑ اور سمیٹ کر رکھ دیا تو اب شعرو نغمہ کی زبان میں بات کرنے اور جواب دینے کی بجائے ٹویٹر کی زبان میں بات کرنے اور جواب دینے اور جواب پانے کا رواج عام ہو چلا ہے ۔ پہلے شعرا حضرات ''نگاہوں نگاہوں میں کیا بات ہو گی '' جیسے مصرعے تخلیق کرتے تھے اب اسی مصرعے کی تضمین ٹویٹر ٹویٹر میں کیا بات ہو گی کے طور پر کی جا سکتی ہے ۔ٹویٹر ہی ٹویٹر میں ایک حالیہ مقابلہ اور مکالمہ آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور اور امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کے درمیان ہوا ۔ جسے دیکھ کر اندازہ ہوا کہ دہلی اور لکھنو کے شعرائے کرام کے درمیان شعروں کی زبان میں کس طرح مقابلہ آرائی ہو تی ہوگی ۔ایبٹ آباد آپریشن کے حوالے سے حسین حقانی کے مضمون کو لکھے کئی ہفتے گزرنے کے بعد میجر جنرل آصف غفور نے ایک ٹویٹ کے ذریعے اس پر یوں تبصرہ کیا کہ غیر ملکیوں کو ویزوں کے اجراء کے معاملے پرسابق سفیر کے مضمون نے پاکستانی ریاستی اداروں کے موقف کی تصدیق کر دی ۔حسین حقانی بھی اس پر خاموش رہنے والے کہاں تھے ۔سو جواب آں ٹویٹ کے طور پر انہوں نے پھر جملہ کس دیا کہ اسامہ کے ایبٹ آباد میں موجود ہونے کی وجوہات سے متعلق صداقت کیوں نہیں جانچی جا رہی؟۔یوں لگتا ہے ریاستی ادارے ،اس وقت کے پاکستاانی حکمران اور امریکہ کے موجودہ حکمران سب اس معاملے کو ''مٹی پائو '' فارمولے کی نذرکرنا چاہتے ہیں مگر ایک حسین حقانی ہیں کہ جو ماضی کی اس راکھ سے چنگاریاں دریافت کرنے کے شوق میں مبتلا ہیں۔ایبٹ آباد آپریشن بلاشبہ پاکستان کی سلامتی ،خودمختاری اور اقتدار اعلیٰ کو مذاق اور تماشا بنا کر رکھ دینے کا باعث تھا ۔ اس لئے نہیں کہ اس آپریشن میں اسامہ بن لادن کو مارا گیا تھا بلکہ اس لحاظ سے کہ یہ پاکستان کی حکومت ،سیکورٹی فورسز اور خفیہ ایجنسیوں کے نوٹس میں لائے بغیر براہ راست امریکیوں کی نگرانی میں انہی کے توسط سے شر وع ہو کر انجام کو پہنچا تھا ۔سول ادارے کسی خاموش مفاہمت کے تحت اس آپریشن کو تعاون اور آگاہی کی اوونر شپ دینے کو تیار بیٹھے تھے مگر فوج کے فوری ردعمل نے انہیں بھی خوف زدہ کر دیا اورآپریشن کا کریڈٹ لینے کے لئے ان کے پہلے سے تیار بیان اور مضامین''ان کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد'' کی تصویر ہو کر رہ گئے ۔ حسین حقانی اسامہ بن لادن کی موجودگی کا سوال اُٹھا کردرحقیقت یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں ریاستی اداروں یا کسی مخصوص اورمحدود حلقے کے تعاون سے روپوش تھا۔جو امریکی اسامہ بن لادن کو ڈھونڈ نکال سکتے ہیں انہیں اب تک یہ خبر کیوں نہ ہو سکی کہ اسامہ بن لادن کی روپوشی اورجائے روپوشی کسی ریاستی ادارے کے علم میں تھے؟خود امریکی ادارے یہ بات کہہ رہے ہیں کہ اس کا ثبوت نہیں ملا کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں ریاستی اداروں کے تعاون سے روپوش تھا ۔اگر اسامہ بن لادن کو ریاستی یا کسی بااثر شخصیت کا تعاون حاصل ہوتا تو ہر چھ مہینے کے بعد وہ مخصوص فون سم کارڈ آن کرکے سعودی عرب کال ملانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوتی اور بیان کی گئی کہانی کے مطابق یہ کال کچن کے اخراجات کی رقم کی غرض سے ملائی جاتی تھی۔ایبٹ آباد آپریشن سے جڑی تما م باریکیوں کو جانچنے اور تمام پرتوں کو پرکھنے کے لئے ہی ایبٹ آباد کمیشن قائم ہوا اور اب تک اس کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر نہیں آسکی ۔اب اس مسئلے پر ٹویٹ اور جواب آں ٹویٹ ،بیانات ،مضامین کی سیاست ہو رہی ہے ۔ ماضی کی یہ گرد اُڑانے سے اب کچھ ہاتھ آنے والا نہیں ۔ایبٹ آباد کمیشن کو اوونر شپ دینے کی خواہش رکھنے والے اصل کردار ایک اور این آر او کی لانڈری سے دُھل دھلا کر نکل رہے ہیں اور پراُمید ہیں کہ اگلے منظر میں ان کا مرکزی کردار ہوگا ۔حسین حقانی کو قلق ہے کہ اصل کردار انہیں چھوڑ کر چپکے چپکے لانڈری سے گزر گئے اور وہ پیچھے تنہا رہ گئے اسی لئے وہ مزید مضامین لکھنے پر اصرار کر کے لانڈری پولیٹکس کا مزہ خراب کرنے تُلے بیٹھے ہیں ۔ حسین حقانی کا یہ شکوہ جائز ہے کہ پاکستان میں دو فیکٹریاں لگی ہیں ایک میں لوگوں کو غدار قرار دیا جاتا ہے اور دوسری سے انہیں دھو کر پوتر بنایا جاتا ہے اور یوں وہ اگلی ذمہ داری کے اہل قرار پاتے ہیں۔حالیہ دنوں میں جیلوں کے کچھ کھلتے ہوئے پھاٹک ،ای سی ایل سے خارج ہوتے ہوئے نام ،رینجرز کے جلو میں تاج پوشی کے مظاہرے حسین حقانی کے شکوے کو جوازیت اور وزن عطاکرنے کے لئے کافی ہیں۔ گویاکہ پاکستان میں اب بھی نظریہ ٔ ضرورت ہی سب سے بڑا نظریہ اور سب سے طاقتور قانون ہے ۔ہر دور کے اپنے ہیرو اپنے ولن ،اپنے غدار اور اپنے وفادار ہونے کا جو سلسلہ قیام پاکستان کے وقت چل نکلا تھااب بھی جاری ہے۔پاکستانی سیاست کو نظریہ ضرورت سے آزادکرکے اصولی بنیادوں پر استوار کرنے کی ضرورت ہے ۔حساس اور اہم معاملات پر ٹویٹ اور جواب آں ٹویٹ پانی بلوکر مکھن تیارکرنے کی امید کے سوا کچھ اور نہیں۔

متعلقہ خبریں