Daily Mashriq

کیا ایک اور این آر او؟

کیا ایک اور این آر او؟

مُجھے اچھی طر ح یاد ہے کہ 12اگست 2016ء کو وزیر دا خلہ چو دھری نثار علی خان نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ایک انتہائی ذمہ دار شخص پاکستان مسلم لیگ(ن) کے سینئر قائدین کے پاس آئے اور کہا کہ پاکستان پیپلز پا رٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی صلح ہو سکتی ہے بشر طیکہ اس میں پیشگی کچھ سی بی ایم یعنی دونوں سیاسی پا رٹیوں کے درمیان ایک دوسرے پر اعتماد کی بحالی کے اقدامات بروئے کار لائے جائیں۔ اوردونوں سیاسی پا رٹیوں کے درمیان اعتماد کی بحالی اقدامات میں سب سے پہلے ایان علی کے کیس کی واپسی اور ڈاکٹر عاصم حسین کی ضمانت پر رہائی شامل ہے۔ اگر حالات اور واقعات کا جائزہ لیا جائے تو ایان علی کو ما رچ 2015ء میں ملک سے 0.5 ملین ڈالر کی منی لانڈرنگ یعنی پاکستان سے ڈالروں کو باہر منتقل کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر عاصم حسین کو اگست 2015 میں 479ارب روپے کی بد عنوانی کے کیس اور اُنکے ہسپتال میں دہشت گر دوں کے علاج معالجے میں معاونت کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ شرجیل انعام میمن کے 5 ارب روپے کی کرپشن کے کیس میں اگست 2015 میں ضمانت پر رہا ہو کر ملک سے باہر چلے گئے اور واپس آنے سے کتراتے رہے۔اسکے علاوہ وفاقی وزیر برائے مذہبی اُمور حا مد سعید کا ظمی کو 8.8 بلین حج کرپشن کیس میں 16سال قید اور 147 ملین روپے جُرمانے اور انکے تین ساتھیوں کو 445 ملین روپے کی سزا سنا ئی گئی تھی ۔حج سکینڈل میں 7 سال سے جیل میں تھے۔جہا ں تک آصف علی زرداری کیس کا تعلق ہے تو اُنہوں نے ایک پبلک میٹنگ میں مسلح افواج کے خلاف بیان دیا تھا جس میں فوج کے سابقہ سربراہ کو خبر دار کیاتھا کہ اگر ہمیں مزید تنگ کیا گیا تو ہم اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے ۔ اسی طرح محترم آصف علی زرداری جون 2015 میں بیرون ملک چلے گئے۔ جب فوج کے سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نومبر 2016 کو ریٹائر ہوگئے تو دسمبر 2016 میں سابق صدر آصف علی زر داری وطن واپس تشریف لائے۔فر وری 2017 کو ایان علی ضمانت پر رہا ہو کر بیرون ملک چلی گئی۔ ما رچ 2017کو شرجیل انعام میمن وطن واپس آئے۔ وفاقی وزیر برائے مذہبی اُمور بھی تمام الزامات سے بری ہو کر جیل سے رہا ہوئے۔ 29 ما رچ2017 کو ڈاکٹر عاصم حسین بد عنوانی اور دہشت گر دوں کی معاونت اور سہولت کار کیس میں 50، 50 لاکھ کے مچلکوں پر ضمانت پر رہا ہوئے۔ جہاں تک ڈاکٹر عاصم حسین کے کیس کا تعلق ہے تو جائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے جس میں آئی ایس آئی، مسلح افواج کی 202 سروے ٹیم، سپیشل برانچ، کائونٹر ٹیریررازم یعنی سی ٹی ڈی اور رینجرز کی دو ٹیموں کے نمائندوں نے ایک مشترکہ رپورٹ میں ڈاکٹر عا صم حسین کو بلیک قرار دیا تھا ۔ 

آئی ایس آئی کے سابق جنرل اعجاز اعوان نے بلیک پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بلیک وہ ملزم ہوتے ہیں جو ثابت شدہ دہشت گردوں کے سہولت کار اور بد عنوان ہوتا ہے اور کسی صورت اسکی ضمانت نہیں ہو سکتی۔ جائنٹ کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر عاصم حسین کے خلاف کرپشن ، بد عنوانی اور دہشت گردوں کی سہولت کاری کے بارے میں کافی ثبوت اور شواہد ہیں۔جنرل اعجاز اعوان نے ایک ٹاک شو میں کہا کہ مُجھے حیرت ہے دو سال بعد یہ پتہ چلا کہ ڈاکٹر عاصم حسین بے گناہ ہے اور انکی رہائی ہو گئی۔ وفاقی وزیر دا خلہ چو دھری نثار علی خان کے بیان اور پی پی پی کے لیڈران کی رہائی سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ پی پی پی اور پاکستان مسلم لیگ(ن) میں ایک اور این آر او ہو گیا ہے جسکی وجہ سے مندرجہ بالا تمام لیڈران رہاہوگئے۔ ہمیں اس سے کوئی سروکارنہیں کہ ان دونوں کے درمیان این آر او ہوا یا نہیں۔جہاں تک مندرجہ بالا تمام کرپشن اور د عنوانیوں کے کیسوں کا تعلق ہے تو نواز شریف اور آصف علی زرداری کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ 19کروڑ کے غریبوں کے خون پسینے کی رقم کو معاف کریں۔ڈاکٹر عاصم حسین ،حامد سعید کا ظمی، شرجیل انعام میمن ، ایان علی پر کرپشن کا جو الزام ہے وہ خیبر پختونخوا کے پورے ایک سال کے بجٹ کے برابر ہے۔
بلو چستان کے دو سال کے بجٹ اور آزاد جموں اور کشمیر کے ٧ سال کے بجٹ کے برابر ہے۔ میں سینیٹ کے چیئر مین رضا ربانی کی اس بات سے اتفا ق کرتا ہوں کہ ملک کے تمام بڑے اداروں کا بلا امتیاز احتساب ہونا چاہئے ۔ پاکستان کی لوٹی ہوئی رقم کو معا ف کرنا اچھا شیوہ نہیں کیونکہ پاکستان کے وسائل پاکستان کے19١ کروڑ عوام کے ہیں یہ کسی کی جاگیر نہیں ۔ اگرمیاں نواز شریف ،آصف زرداری یا دوسرے سیاسی لیڈران ایک دوسرے کے ساتھ یاری دوستی کرنا چاہتے ہیں تو وہ پاکستان کے غریب عوام کے پیسوں پر نہ کریں بلکہ ایک دوسرے کو اپنے حصے کیجاگیر دے کر کریں۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ماضی میں پی پی پی کے قائدین کے خلاف کئی کیسوں میں امتیازی سلوک روا رکھا گیا تھا۔ جیسا کہ سابق چیف جسٹس افتخار چو دھری چھوٹی چھوٹی باتوں پر پاکستان پیپلز پا رٹی کے خلاف سوموٹوایکشن لیتے ۔موجودہ وقت میں تو ایسا لگ رہا ہے جیساکہ پی پی پی اور مسلم لیگ کے درمیان این آر او ہونے والا ہے ۔ اور یہ ایک ایسا این آر او ہے جس میں نواز شریف پانامہ کیس سے بچنے کے لئے پی پی پی اور آصف علی زرداری کا سہارا لے رہے ہیں۔

اداریہ