Daily Mashriq


شفاف مردم شماری کی ضرورت

شفاف مردم شماری کی ضرورت

جب کوئی قوم درست طور پر اپنے نفوس کی تعداد شمارکرنے سے قاصرہوتی ہے توسیاسی ' معاشی' عمرانی اور ترقیاتی اعتبار سے اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ مردم شماری کی افادیت اور اہمیت کا اندازہ اس عام سی مثال سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک گھر میں افراد کی گنتی کے بغیر خاتون خانہ کے لئے کچن چلانا انتہائی دشوار ہوتا ہے ، چہ جائیکہ کروڑوں کی آبادی پر مشتمل ملک اندازے سے چلایا جائے۔پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے بعد چار دہائیوں تک باقاعدگی کے ساتھ مردم شماری ہوئی۔ 1951ء ' 1961' 1972ء اور 1982ء میں۔ 1971ء کی جنگ کی وجہ سے ایک برس کی تاخیر یعنی 1972 میںمردم شماری ہوئی۔ 1991ء میں ہونے والی مردم شماری میں اختلاف پیدا ہوا جو 7برس تک رہا ۔ بالآخر 1998ء میں ن لیگ کی حکومت نے پانچویں مرتبہ مردم شماری کرائی۔اس تاریخی پس منظرکے بعد یوں 19سال کے طویل عرصہ کے بعد مردم شماری وقوع پذیر ہورہی ہے۔ مردم شماری کے عدم انعقاد سے انتخابی حلقہ بندیاں آج کے زمینی حقائق کی عکاسی نہیں کرتیں' دیہی علاقوں کو زیادہ جب کہ شہری علاقوں کو کم نمائندگی حاصل ہے۔ عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کا دارومدار آبادی کے درست اعدادوشمار پر ہوتا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں میں اس وقت ردوبدل کیا جاتا ہے جب اعداد وشمار تازہ نہ ہوں یا تخمینوں کی بنیاد پر ہوں جو موجودہ صورت حال ہے۔

تعلیم اور صحت عامہ کی خدمات اس وقت تک درست طور پرعوامی ضروریات کی عکاسی نہیںکرتیں اگر منصوبہ بندی تخمینوںکی بنیاد پر ہو۔ مردم شماری عوام کی گنتی سے زیادہ اہم کام سماجی اور معاشی عوامل کی نشاندہی کرتی ہے' جس میں آبادی میں اضافے کی شرح اور اس کا پھیلاؤ' دیہی اور شہری آبادی کی تقسیم ' عمر کا ڈھانچہ ' شرح خواندگی' تعلیم کا حصول' ملازمت' ہجرت اور صحت عامہ کی سہولتوں کی نشاندہی شامل ہے۔ یہ تمام عوامل ترقیاتی منصوبہ بندی ' بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور صحت وتعلیم کے لیے وسائل مختص کرنے کے لیے اہم ہیں۔ آج صوبائی تعلیم کے صوبائی محکمہ اہم مصرفی فیصلوں کے لیے مبہم اعداد و شمار استعمال کرنے پر مجبور ہیںاور پھرقومی وسائل میں سے صوبوں کے حصوں کی تقسیم کا اہم ترین مسئلہ بھی ہے۔ حتیٰ کہ قومی اقتصادی کمیشن (این ایف سی) کا گزشتہ ایوارڈ 1998ء کے اعداد و شمار کی بنیاد پردیا گیا ۔ 19سال بعد شروع ہونے والی مردم شماری کے طریقہ کار پر سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے اعتراضات کیے جا رہے ہیں۔ یہ اعتراضات بلا وجہ نہیں بلکہ ان میںکسی قدر صداقت بھی ہے ۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے مردم شماری کے طریق کار پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں معلومات تک رسائی جیسے بنیادی حق کو خفیہ رکھا گیا ہے۔ انہوںنے سوال اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیاہے کہ مردم شماری میںجو معلومات اکٹھی کرکے مرتب کی جائیں' انہیں ویب سائٹ پر شائع کیا جائے' تاکہ عوام جان سکیں کہ ان کے علاقے میںہونے والی مردم شماری میںکتنے گھر سامنے آئے ہیں۔ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ لوگ لا علم رہیں اور تمام معلومات اسلام آباد روانہ کر دی جائیں۔ جو شہری مردم شماری کے عملہ کو معلومات فراہم کرتا ہے تو اس کے پاس بھی اس بات کاثبوت ہونا چاہیے کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک سال کے بعد پتا چلے کہ اس کے متعلق ریکارڈ میںشامل معلومات وہ نہیں جو اس نے مردم شماری عملہ کوفراہم کی تھیں۔ موجودہ طریق کار پر سندھ کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا اوربلوچستان کو بھی اعتراض ہے کیونکہ ان صوبوں میںافغان مہاجرین موجود ہیں جب کہ افغان مہاجرین کے لیے علیحدہ سے کوئی خانہ نہیں اور ان صوبوں میں صرف اس وجہ سے کئی مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ گزشتہ دنوں اپنے گاؤں گیا تو اتفاق سے مردم شماری عملہ کو ڈیوٹی سرانجام دیتے پایا۔ میں ان کے پاس گیا اور مردم شماری کے طریقہ کار اور عوام کے عملہ کے ساتھ تعاون بارے میں سوال کرنے لگا۔مردم شماری کے اہلکاروںنے جہاں دیگر مسائل بتائے اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا کہ گاؤںدیہات میں چونکہ لوگ کم پڑھے لکھے ہوتے ہیں اس لیے درست معلومات فراہم نہیں کرتے۔ مثال کے طور پر بچوں کی عمر کے حساب سے یا نمبر کے حوالے سے درست نہیں بتاتے۔ چھوٹے کو بڑا اور بڑے کو چھوٹا بتا دیتے ہیں یا جو معلومات فراہم کرتے ہیں وہ محض اندازے کی بنا پرہی کرتے ہیں۔ میں نے سوال کیا کہ جب آپ کو معلوم ہے کہ گاؤں کے لوگ خصوصاً خواتین کی اکثریت ان پڑھ ہوتی ہے تو اس حوالے سے آپ کی کیا ٹریننگ ہے ،اگر ان کی بتائی ہوئی معلومات کے مطابق اندراج ہو چکا ہے تو اس کی درستگی کیسے ہو گی؟ اس سوال کے جواب میںمردم شماری عملہ کے پاس ہلکی سی مسکراہٹ اور خاموشی کے سوا کچھ نہ تھا۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ 19سال کے طویل عرصہ بعد شروع ہونے والی مردم شماری کو ہرلحاظ سے شفاف بنایا جائے کیونکہ ہماری معیشت' سیاست اور ترقی درست گنتی پر مبنی ہے،مردم شماری کے درست اعداد و شمار کی بنیاد پر صوبوں میں قومی وسائل کی تقسیم کے ذریعے ان کا حصہ طے کیا جاتا ہے اور متنازع اعدادو شمار لازمی طور پر اختلاف کی جانب لے جاتے ہیں ۔کہیںایسا نہ ہو کہ 19سال بعدبھی ایسی مردم شماری ہو کہ جسے تکمیل کے بعد متنازعہ بنا دیا جائے جیسے 1991ء میںہونے والی مردم شماری کو متنازعہ بنا کر مسترد کر دیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں