Daily Mashriq


طاقتور کا احتساب ہی اصل احتساب ہوتا ہے

طاقتور کا احتساب ہی اصل احتساب ہوتا ہے

نیب کا ریلوے گالف کلب لاہورکی غیرقانونی لیز کیس میں 3سابق جرنیلوں سمیت 9ملزمان کیخلاف احتساب عدالت میں ریفرنس کرنا طاقتور عناصر کے احتساب کی ایک اچھی سعی ہے۔ نیب کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوا ہے کہ اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ریلویز گالف کلب لاہور کی اراضی کمرشل استعمال کیلئے غیرقانونی طور49سال کی لیز پر دی گئی ۔ نیب اعلامیہ کے مطابق سال2001 میں ریلویز گالف کلب لاہور کی33سال کیلئے لیز پر دینے کی پیشکش کی گئی تھی جس پر بڈنگ پراسس کے دوران لیز کا دورانیہ33سال سے بڑھا کر49سال کر دیا گیا اور اراضی 103ایکڑ سے بڑھا کر140ایکڑ کرتے ہوئے ریلوے آفیسرز کالونی کو مسمار کر دیا گیا اور ریلویز کی قیمتی اراضی ارزاں نرخوں پر من پسند کمپنی کو لیز پر دیدی گئی۔ نیب نے کیس کی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد سابق وفاقی وزیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) جاوید اشرف قاضی، سابق سیکرٹری ریلویز لیفٹننٹ جنرل (ر) سعیدالظفر، سابق جنرل منیجر ریلویز میجر جنرل (ر) حامد حسن بٹ، سابق جنرل منیجر ریلویز اقبال صمد خان، سابق ممبر فنانس ریلویز خورشید احمد خان، سابق ڈائریکٹر ریلویز بریگیڈیئر (ر) اختر علی بیگ اور عبدالغفار، رمضان شیخ، پرویز قریشی اور رائل پام گالف کلب کے سپانسر اور دیگر افسران کو ملزم قرار دیتے ہوئے ان کیخلاف ریفرنس اسلام آباد کی احتساب عدالت میں دائر کر دیا ہے۔ وطن عزیز میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی اور اختیارات کا ناجائز استعمال کوئی پوشیدہ حقیقت ہے نہ گھڑی ہوئی کہانیاں ہیں۔ یہ روز روشن کی طرح عیاں معاملات ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں اس طرح کے معاملات کا نوٹس لینے اور اس طرح کے عناصر کو سزا دلوانے کی سنجیدہ مساعی کم ہی دیکھی گئی ہیں، خاص طور پر ریٹائرڈ جنرلز‘ ججز‘ جرنلسٹس جیسے قبیلے کے لوگ تو کسی احتساب کے زمرے میں ہی شمار نہیں ہوتے حالانکہ اگر ان افراد میں سے دوچار کا بھی صحیح معنوں میں احتساب شروع ہو جائے تو ملک میں پورے نہیں تو کرپشن وبدعنوانی کے آدھے واقعات کی تو یقیناً روک تھام ہوگی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اب ہمیں من حیث القوم اس امر کا تعین کرنا ہوگا کہ بدعنوان اور راشی جس مقتدر ومحترم ادارے‘ طبقے اور برادری سے تعلق رکھتا ہو اس کا فعل قابل دفاع نہیں بلکہ قابل مواخذہ ہے۔ کسی اہم عہدے پر متمکن شخص کو محض اس کے عہدے اور اس ادارے کے وقار کو ٹھیس پہنچنے کی خاطر سزا نہ دی جائے تو یہ پورے ادار ے کے وقار کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہوگا۔ اس طرح سے ہی اداروں میں رشوت وبدعنوانی پروان چڑھتی ہے۔ ادارے کھوکھلے ہوتے ہیں اور خسارہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جب بدعنوانی کے مقدمات نیب میں آجائیں تو پھر نیب کو اتنا طاقتور اور بااختیار ہونا چاہئے کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کر سکے۔ اب جبکہ عملی طور پر ایک بڑا مقدمہ قائم کر دیا گیا ہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ تمام تر دباؤ اور رکاوٹوں کے باوجود اس مقدمے کو عدالت میں ثابت کرنے میں کوتاہی کا مظاہرہ نہیں ہوگا اور تفتیشی افسران سمیت احتساب کے عمل سے متعلق جملہ ذمہ داری آزادانہ طور پر اس کیس کو انجام تک پہنچانے میں متانت سے کام لیں گے۔ اسے بدقسمتی ہی گردانا جائے گا کہ جن تین سابق جرنیلوں کا اب نام آیا ہے ان کے پہلے بھی احتساب کی کوشش ہوئی تھی لیکن نتیجہ معاملے کو دبانے پر منتج ہوا۔ اب جبکہ باقاعدہ طور پر ریفرنس دائر کر دیا گیا ہے تو اس امر کی توقع کی جانی چاہئے کہ ان افراد کو اپنے سابق باوقار ادارے کی اوٹ میں چھپا دینے کی بجائے وہ ادارہ خود ان عناصر کو سزا دلوانے کیلئے متحرک ہو جائے تاکہ وطن عزیز میں اس درجے کے احتساب کی مثال قائم ہو جائے۔ نیب جب کسی معاملے کا نوٹس لیتا ہے اور تحقیقات کا آغاز کرتا ہے تو تاثر یہ ملتا ہے کہ ملزموں نے سب کچھ اس بھونڈے طریقے سے ہڑپ کئے تھے کہ ان کی سزا یقینی ہے مگر رفتہ رفتہ نیب کا شکنجہ اس طرح ڈھیلا پڑجاتا ہے یا ڈھیلا کر دیا جاتا ہے کہ ملزمان صاف بچ نکلتے ہیں۔ اداروں کے اعلیٰ عہدیداروں اور افراد کیخلاف ریفرنسز دائر کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ نیب کے سربراہ اور متعلقہ افسران کو اس امر کا اطمینان ہوتا ہے کہ ان افراد نے بدعنوانی اوراختیارات کے ناجائز استعمال کا ارتکاب کیا ہے اور ان کیخلاف کافی ثبوت اور ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ یقیناً ایسا ہی ہوتا ہوگا مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر رفتہ رفتہ ایسا کیا ہوتا ہے کہ نیب کوئی کیس ثابت نہیں کر پاتی اور کھیل ختم پیسہ ہضم والا معاملہ ہوتا ہے۔ نیب جب تک اپنی ان کمزوریوں پر قابو نہیں پاتی اس وقت تک ایسے بیلوں کا منڈھے چڑھ جانے کا سوال اُٹھنا بلاسبب نہ ہوگا۔ ہمارے تئیں اس مقدمے کا فیصلہ خواہ جو بھی آئے اس کا انحصار شواہد پر ہونا ہے، اس سے زیادہ اہم یہ ہوگا کہ نیب تحقیقات اور شواہد پیش کرنے اور ملزمان کو حتی الوسع سزا دلوانے میں کسی دباؤ یا پھر کسی مصلحت کا شکار نہ ہو۔

متعلقہ خبریں