Daily Mashriq


توجہ طلب خدشات ومطالبات

توجہ طلب خدشات ومطالبات

عوامی نیشنل پارٹی نے دور حاضر میں پختونوں کو درپیش مسائل ومشکلات کے دائمی حل کیلئے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان تمام مسائل ومشکلات کے حل کیلئے اپنی آئینی، قانونی، جمہوری اور پارلیمانی طریقے سے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسفندیار ولی خان نے فاٹا انضمام میں تاخیر پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ بلاضرورت لیت ولعل اور تاخیر مزید پیچیدہ مسائل کو جنم دے گی، انہوں نے کہا کہ فاٹا کو آئندہ الیکشن سے قبل صوبے میں ضم کر کے صوبائی اسمبلی میں نمائندگی دی جائے اور آئین میں ترمیم کر کے صوبائی کابینہ میں فاٹا کا حصہ مختص کیا جائے، انہوں نے کہا کہ فاٹا دہشتگردی سے متاثر ہوا ہے لہٰذا اس کی ترقی کیلئے مالی پیکیج کو بھی یقینی بنایا جائے،اسفندیار ولی خان نے کہا کہ سی پیک میں پختونوں اور خصوصاً فاٹا کو یکسر نظر انداز کرنا ملک کی سلامتی کیلئے خطرناک ہے، انہوں نے کہا کہ چینی سفیر کیساتھ ملاقات اور ان کی طرف سے یقین دہانی کے باوجود فاٹا اور پختونوں کو سی پیک کے ثمرات سے محروم رکھنا افسوسناک ہے گوکہ ان دنوں بعض عناصر مختلف قسم کے دلکش نعروں کیساتھ پختونوں کو احساس محرومی کا احساس دلانے کی تگ ودو میں ہیں لیکن چونکہ اے این پی سیاسی بھٹی سے گزر کر کندن بننے والی جماعت ہے اور اس کی قیادت ایک خاص زاویہ نظر کی حامل سوچ رکھتی ہے اس بناء پر اے این پی کی قیادت کے مطالبات کی اہمیت اور ضرورت سے انکار ممکن نہیں، اسے بدقسمتی ہی گردانا جائے گا کہ فاٹا کے خیبر پختونخوا سے انضمام کی مخالفت کسی دوسری جانب سے نہیں بلکہ خود پختونوں ہی کی طرف سے سامنے آئی۔ اگر پختون زعماء کی جانب سے اس کی مخالفت نہ ہوتی تو ممکن ہے اب تک فاٹا میں اصلاحات لانے کے عمل میں کافی پیشرفت سامنے آچکی ہوتی۔ جہاں تک اے این پی کے فاٹا کے حوالے سے دیگر مطالبات کا تعلق ہے ہم سمجھتے ہیں کہ ان کو پورا کرنے کے بارے کوئی اختلاف نہیں بعض معاملات پر بروقت توجہ دینے سے کدورتیں بڑھنے کا بھی اندیشہ ہے جس پر غور وخوض کرکے ان پر فوری توجہ وقت کا اہم تقاضا ہے۔ سی پیک میں پختونوں کی نظرانداز کئے جانے کا تاثر شاید اسلئے درست نہ ہو کہ ا س پر خود اسفندیار ولی خان نے اطمینان کا اظہار کیا تھا اگر چینی سفیر سے ملاقات کے دوران کی گئی یقین دہانیوں میں پیشرفت نظر نہیں آتی ہے تو اس سلسلے میں ان سے دوبارہ رابطہ زیادہ موزوں اور بہتر ہوگا تاکہ کام بھی بن جائے اور ہمارے چینی دوست موضوع بحث بھی نہ بنیں۔ ہمارے تئیں بعض معاملات کے جلسوں اور پریس میں تذکرہ موزوں نہیں، توقع کی جانی چاہئے کہ اے این پی کی قیادت اس ضمن میں معاملات کو عوام کے سامنے لانے کی بجائے متعلقین کے سامنے رکھے گی خاص طور پر فاٹا اور سی پیک سے متعلق معاملات کے حل کیلئے سنجیدگی سے متعلقہ فورمز سے رجوع کرے گی۔

الیکشن کمیشن کی پابندی مگر درست عملدرآمد مشکل ہے

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہونیوالے حکم نامے کے مطابق کسی بھی سکول، ہسپتال، سڑک، ٹیوب ویل یا کوئی بھی ترقیاتی اسکیم پر سیاستدانوں کے نام سے سجی تختیاں نہیں لگیں گی۔ حکم نامے میں کہا گیا کہ وفاقی وصوبائی وزراء، رکن قومی وصوبائی اسمبلی یا پارٹی لیڈر کے نام کی تختی نہیں لگائی جا سکتی۔ حکم نامے میں بتایا گیا کہ الیکشن کمیشن نے آئین کے آرٹیکل(3)218 کے تحت پابندی لگائی ہے تاکہ آئندہ عام انتخابات پر اس کے اثرات مرتب نہ ہوں۔ الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ یکم مارچ2018 سے اب تک جن بھی اسکیموں پر سیاستدانوں کی تختیاں لگ چکی ہیں وہ فوری طور پر ہٹائی جائیں اور مستقبل میں بھی نہ لگنے دی جائیں۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی عوامی ترقیاتی منصوبے کی تشہیر یا افتتاح کی تشہیر عوامی رقم کے ذریعے کرنے پر بھی پابندی ہوگی۔ الیکشن کمیشن کی اس ہدایت کی افادیت سے انکار ممکن نہیں لیکن بے دست وپا آئینی ادارے کے پاس ایسے کیا آہنی ہاتھ ہوں گے جن کا استعمال کر کے وہ اس قسم کی خلاف ورزیوں سے باثبوت باخبر ہو پائے گا اور خلاف ورزی کے مرتکب افراد کیخلاف کارروائی ہو سکے گی۔ اس طرح کے عمل کی ایک صوبے اور حلقے میں نہیں پورے ملک میں اس قسم کی خلاف ورزیاں متوقع نہیں بلکہ یقینی ہیں۔ الیکشن کے قریب ہونے پر اس قسم کی پابندیوں پر توانائی صرف کرنے کی بجائے اگرحلقہ بندیوں سے متعلق معاملات اور خاص طور پر کاغذات نامزدگی جمع کرنیوالے امیدواروں کی دیانتداری ہونے سے متعلق قوانین کی پابندی کرائی جائے تو وہ اس عمل سے زیادہ موزوں اور وقت کا تقاضا ہے۔ بہرحال الیکشن کمیشن کی جانب سے اس قسم کی پابندیاں بشرط پابندی احسن عمل ہے اس طرح کی پابندی صرف انتخابات کے مواقع پر نہیں بلکہ اگر مستقلاً لگا دی جائے تو ملک وقوم کا بہت سا پیسہ نمود ونمائش کی نذر ہونے سے بچ جائے گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ الیکشن کمیشن اس ہدایت نامے پر عملدرآمد میں کس قدر کامیاب اور سنجیدہ ہے۔

متعلقہ خبریں