Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

خواجہ داناؒ اپنے زمانے کے نامور بزرگ گزرے ہیں۔ آپ جونک یا جنوق نامی گائوں میں جو بخار ا میں خوارزم سے کچھ ہی دور ہے پیدا ہوئے ایام طفولیت میں ہی آپ ؒ کے سر سے ماں باپ کا سایہ اٹھ گیا۔ بچپن میں آپ کے والد ماجد حضرت بادشاہ پر دہ پوش نے جام شہادت نو ش کیا ۔ جو شاہ اسماعیل صفوی کی جنگ میں شریک تھے۔ حضرت خواجہ حسن عطار ؒ نے اپنی وفات سے قبل آپؒ کو یہ نصیحت فرمائی کہ اے میرے فرزند! اے میرے عزیز اور اے میرے پیارے ! اے بزرگوں کے سچے اور کامل خلیفہ ! اور اس عالم کے ایک مہان ! میرے نصیحت ہوش گوش سے سنو اور اس کو یاد رکھو۔ یہ دنیا ایک مہمان خانہ ہے ۔ ایک آتا ہے ایک جاتا ہے۔ جو آیا ہے اس کو جانا ہوگا، جس طرح مہمان ایک مختصر قیام کے لئے آتا ہے اسی طرح سے ہم سب اس دنیا میں چند روز کیلئے آئے ہیں وقت آئے گا، چلے جائیں گے۔ نہ کوئی رہا ہے ، نہ رہے گا۔ یہ دنیا بے وفا ہے ۔ اس نے کسی کے ساتھ وفا نہیں کی ۔ یہ دنیا مکرو فریب اورفتنہ وفساد کی جاہے۔ یہاں سکون اور اطمینان قلب حاصل نہیں۔ یہاں دکھوں اور مصیبتوں سے دوچار ہوناپڑتا ہے۔ موت ہر ذی روح کو آنا ہے۔ موت سے کو ئی نہیں بچ سکتا۔ موت کا کڑواگھونٹ سب کو پینا ہے۔ موت سر پر سوا ر ہے۔ بھاگ کر کہاں جائیں گے ۔ چھپیں تو کس جگہ چھپیں ۔ ہر جگہ موت کی دسترس ہے۔ پس تم کو چاہئیے کہ موت سے نہ گھبرائو اورموت کے وقت خود کو پریشانی میں نہ ڈالنا اور نہ ہی اپنے دل کو حیران اور پریشان کرنا۔ اتنا فرما کر حضرت خواجہ حسن عطا رؒ نے دو رکعت نماز ادا کی ۔ سجدہ کی حالت میں جان شیرین جان آفرین کے سپرد کردی۔ خواجہ حسن عطاؒ رکی وفات آپ ؒ کے لئے بچپن کا بڑااہم صدمہ تھا ، کیوں کہ والد اور والدہ نے جب آپؒ کو داغ مفارقت دیا تو اس وقت آپ کم عمر تھے۔ یہ واقعہ آپ کے ہوش میں ہوا۔ آپ سخت پریشان تھے کہ کیا کریں اور کیا نہ کریں۔ آپ اکیلے تھے، جنگل تھا ، نہ کوئی معاون تھااور نہ کوئی مددگار، آپ رنجیدہ خاطر بیٹھے سوچ رہے تھے کہ تجہیز وتکفین کا کیا ہوگا۔ نماز جنازہ کیسے ہوگی۔ ان ہی خیالات میں ڈوبے ہوئے تھے۔ کہ آپ نے دیکھا کہ قبلہ کی طرف سے ایک نورانی گروہ آرہا ہے۔ آپ دیکھ کر خوش ہوئے ۔ سمجھ گئے کہ یہ غیب سے انتظام ہے ۔ وہ نورانی گروہ حضرت خواجہ سید حسن عطارؒ کے جسد خاکی کے پاس آیا۔ میت کو تالاب کے صاف وپاک پانی سے غسل دیا۔ کفن پہنا کر جنازہ تیار کیا اور نماز جنازہ پڑھی ۔ دفن کے بعد آپ کو تسلی تشفی دے کر وہ نورانی گروہ غائب ہوگیا۔ اس بات میں ذرہ برابر شک نہیں کہ یہ دنیا فانی ہے ۔ اس دنیا میں جو بھی آیا ہے اس کو اس دنیا سے جانا ہے یہاں جو بھی مال وزر جاوا حشمت ہم نے کمائی ہے اس نے یہیں رہ جانا ہے ۔ ساتھ صرف اعمال کی گٹھڑی ہوگی جو آخرت میں کام آئے گی ۔

متعلقہ خبریں