Daily Mashriq

’کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کا ایف اے ٹی ایف سے کوئی تعلق نہیں‘

’کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کا ایف اے ٹی ایف سے کوئی تعلق نہیں‘

اسلام آباد: وزیر مملکت برائے امور داخلہ شہریار آفریدی نے کہا کہ کالعدم تنظیموں کے خلاف حکومتی کارروائیوں کا فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے ساتھ دہشت گردی کی مالی معانت روکنے کے لیے طے کیے گئے ایکشن پلان سے کوئی تعلق نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومتی کارروائیوں کا مقصد ملک کی آئندہ آنے والی نسلوں کو مستقبل میں ان تنظیموں کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنا ہے۔

حکومتی کارروائیوں پر سفیروں کے ایک گروہ کو بریف کرتے ہوئے وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیموں کے خلاف تمام کارروائیاں ہمارا اپنا فیصلہ تھیں جو 2014 میں قومی اتفاقِ رائے سے تشکیل دیے جانے والے نیشنل ایکشن پلان (این اے اپی) کے تحت کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا پیغام واضح ہے کہ کسی کو ریاست کی رٹ چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی کسی کو ہماری سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت دی جائےگی۔

شہریار آفریدی نے یہ واضح کیا کہ ایف اے ٹی ایف کے ساتھ طے کیے گئے ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے ضروری اقدامات اٹھانا ملک کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کالعدم تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن کے لیے وزارتی اور سیکریٹری سطح پر کمیٹی تشکیل دی گئی اور اس حوالے سے مذہبی رہنماؤں کو بھی اعتماد میں لیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، اس سلسلے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر کالعدم تنظیموں کے خلاف بے مثال کارروائیاں کیں۔

شہریار آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ ’تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے خلاف کی گئیں کارروائیاں انتہا پسندی کے خلاف ریاستی عزم کی مثال ہے جسے اپوزیشن اور عالمی برادری نے بھی سراہا‘۔

غیر ریاستی عناصر کے خلاف کارروائیوں کے حوالےسے وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ ’آسیہ بی بی کے فیصلے کے خلاف ہونے والے احتجاج سے جس طرح حکومت نے نمٹا، وہ سب کے لیے واضح پیغام ہے کہ کوئی بھی حکومت سے اپنی شرائط منوا نہیں سکتا‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس دور میں جب دنیا عالمی گاؤں بن چکی ہے کوئی بھی ملک تنہا نہیں رہ سکتا، پاکستان نے دنیا کو دہشت گردی سے بچانے کے لیے جنگ لڑی لیکن کسی نے آج تک یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کی کہ جو ملک 1960 میں ترقی کے سفر پر رواں دواں تھا اس کے خلاف اب منفی تاثر کیوں پایا جاتا ہے۔

وزیر مملکت کا مزید کہنا تھا کہ ’ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ تمام ادارے اور پورا پاکستان ایک صفحے پر ہے اور ہم ایک ٹیم کی طرح اقدامات اٹھا رہے ہیں کوئی بھی اب پاکستان سے اپنی شرائط منوا نہیں سکتا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری فوج اور عوام نے جو قربانیاں دی اس سے ہم دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم نے پاکستان کو پرامن ملک بنا لیا ہے اور اب ہمارے دروازے دنیا کے لیے کھلے ہیں‘۔

متعلقہ خبریں