Daily Mashriq

فروغ سیاحت، دعوے بہت عملی اقدامات کم

فروغ سیاحت، دعوے بہت عملی اقدامات کم

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیر وسیاحت کے بے پناہ مواقع موجود ہیں اور بہت سے ایسے علاقے بھی ہیں جو اب تک ان چھوئے ہیں، دنیا سیاحت سے اربوں ڈالرز کما رہی ہے جبکہ ہم چند ملین بھی مشکل سے کما رہے ہوں گے۔ بلوچستان کے ساحلی علاقے دنیا کے بہترین بیچ بن سکتے ہیں، پاکستان میں سیاحت کو ہم نے ہی فروغ دینا ہے، پاکستان میں جتنے خوبصورت سیاحتی مقامات ہیں اور کہیں نہیں ہیں، ہمارے پاس مذہبی سمیت ہر طرح کی سیاحت کے مواقع موجود ہیں، ہمارے لوگوں کو پتہ ہی نہیں کہ پاکستان میں کیسے پرکشش مقامات ہیں۔ ہمارے شمالی علاقہ جات میں آج تک انگریز کے بنائے ہوئے ریزارٹ استعمال کئے جا رہے ہیں، اب تک کوئی نیا حکومتی ریزارٹ ہی نہیں بنا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پہاڑی سلسلوں میں بھی ایک تنوع ہے ایسے قدرتی مناظر کہیں نہیں ملتے۔ ملائیشیاء میں صرف ساحلی سیاحت ہے وہ پھر بھی 22ارب ڈالر کماتا ہے، ہم یہاں ٹورازم کو فروغ دیکر ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کر سکتے ہیں۔ ملک میں سیاحت کے فروغ اور سیاحوں کو راغب کرنے سے قبل ضروری چیز قیام امن ہے۔ وطن عزیز میں بلاشبہ دہشتگردی کا سدباب ہو چکا ہے لیکن اس کے باوجود بعض عوامل ایسے ہیں جن کی موجودگی میں سیاح اس ملک کا دورہ کرنے سے کتراتے ہیں۔ گو یہ عوامل براہ راست کسی خطرے کا باعث نہیں اور نہ ہی کبھی رہے ہیں لیکن اس کے باوجود پروپیگنڈا ایسا ہے جو بیرونی سیاحوں کی پاکستان آمد میں رکاوٹ ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وطن عزیز کو دیگر مسائل اور اعتراضات سے نکالنے کیلئے جہاں اس حوالے سے مزید اقدامات کی ضرورت ہے وہیں اس پروپیگنڈے کو بھی عملی طور پر غلط ثابت کرنے کیلئے اقدامات ضروری ہیں۔ اگر دیکھا جائے سیاحت کے فروغ کے تناظر میں تو نہیں دیگر عوامل کی بنیاد پر جو اقدامات ہو رہے ہیں وہ اگر دنیا کیلئے تسلی بخش ہوں تو سیاحت کے حوالے سے بھی اس کے مثبت اثرات سامنے آسکتے ہیں۔ فروغ سیاحت کیلئے سیاسی طور پر ملک میں استحکام، احتجاج دھرنا اور سڑکوں کی بندش کے حالات کا نہ ہونا بھی ایک اہم معاملہ ہے۔ ملک میں آئے روز کوئی نہ کوئی سیاسی اور عوامی مسئلہ پیش آنا بھی سیاحت کے فروغ میں رکاوٹوں کا باعث ہے۔ وطن عزیز میں سیاحت کے مقامات اور لوگوں کا مہمان نواز ہونا ہی کافی نہیں سیاحت کے فروغ کیلئے سڑکوں‘ ٹرانسپورٹ رسائی‘ نقل وحمل‘ بود وباش جیسے اقدامات کی بھی ضرورت ہے۔ ایک جانب جب ہم فروغ سیاحت کیلئے کوشاں ہیں اور اس کیلئے اقدامات ہو رہے ہیں تو دوسری جانب ذرائع ابلاغ میں اس قسم کی اپیلیں بھی شائع ہو جاتی ہیں کہ نجی شعبے میں کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری سے ہر قسم کی سہولیات سے آراستہ بود وباش کے انتظامات کے باوجود سیاحوں کی کشش کے حامل علاقے میں سڑک کی عدم تعمیر واحد مسئلہ ہے جس کے باعث سرمایہ کاری اور سیاحت متاثر ہو رہی ہے۔ ملک کے جس صوبے میں بھی مختلف قسم کی سیاحت کا جائزہ لیا جائے امکانات کی بھرمار ہے۔ تاریخی اور مذہبی مقامات اور قدرتی مناظر سے لیکر کوہ پیمائی تک ہر قسم کے مواقع موجود ہیں۔ سیاحت سے آمدنی کے حصول کے مواقع سے انکار نہیں لیکن اس شعبے میں جو سرمایہ کاری کی ضرورت ہے اس کی بہرحال کمی نظر آتی ہے۔ سیاحت کے فروغ کیلئے سوشل میڈیا مناسب فورم اس وقت ہوسکتا ہے جب سیاحوں کو ویزوں کے حصول سے لیکر ائیر پورٹ پر اترنے اور واپسی تک کے مراحل میں نجی شعبے کو پوری طرح شامل کیا جائے۔ سرکاری شعبے کی کارکردگی پر انحصار کو اگر سیاحت کے فروغ میں رکاوٹ قرار دیا جائے تو خلاف حقیقت نہ ہوگی۔ دنیا بھر میں سیاحت کے فروغ کی ذمہ داری ٹریول ایجنٹ اورٹورآپریٹرز ادا کرتے ہیں جو سیاحوں سے رابطوں، ان کو دعوت دینے‘ ان کے سفر کے انتظامات‘ مقام سیاحت اور ملکی قوانین ومعاملات سے متعلق ان کے سوالات کا جواب دینا اور عملی طور پر ان کو مہارت اور سہولت سے ان مراحل سے گزارنے کی ساری ذمہ داری ٹریول ایجنٹس اور ٹورآپریٹرز انجام دیتے ہیں۔ پاکستان میں بجائے اس کے کہ اس شعبے سے دنیا کے دیگر ممالک کی طرح کا کام لیا جائے ٹریول ایجنٹس کو ہم نے صرف ائیر لائن کا ٹکٹ جاری کرکے کمیشن وصول کرنے تک محدود کر دیا ہے۔ یہ ایک وسیع کاروبار ہے جسے وسعت دیکر اور بین الاقوامی تجربات سے فائدہ اُٹھا کرملک میں سیاحت کے فروغ کیساتھ ساتھ لاکھوں افراد کیلئے روزگار اور کاروبار کے مواقع مہیا کئے جاسکتے ہیں۔ ملک میں سیاحت کے شعبے میں سرمایہ کاری پر ٹرانسپورٹ کے شعبے میں سرمایہ کاری کی جو گنجائش ہے۔ ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کی جگہ جگہ تعمیر، کیمپنگ اور پیرا گلائیڈنگ روایتی کھیلوں کے انعقاد کے مواقع کا پرچار جیسے سطحی قسم کے اقدامات کی جہاں ضرورت محسوس ہو وہاں فروغ سیاحت کی اُمیدیں وابستہ کرنا اور اس شعبے سے زر مبادلہ کا حصول شاید ہی ممکن ہوگا۔ توقع کی جانی چاہئے کہ حکومت اس ضمن میں ہر سطح کے نجی خدمات اور نجی سرمایہ کاری دونوں کے فروغ اور مواقع دینے پر توجہ دے گی اور ملک میں سیاحت سے خاطر خواہ آمدنی کا ہدف پورا کرنے میں کامیابی ہوگی

متعلقہ خبریں