Daily Mashriq

بجلی قیمتوں میں ماہوار اضافے کا سلسلہ

بجلی قیمتوں میں ماہوار اضافے کا سلسلہ

سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے23 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست دائرکرکے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کو ماہوار بنا دیا ہے۔ ایک درخواست کا فیصلہ ہوتے ہی دوسری درخواست دائر کرنا اب معمول بن گیا ہے۔ نیپرا نے موقف اختیار کیا ہے کہ درخواست فروری کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کی گئی ہے۔ مہنگائی میں اضافہ کی تین بڑی وجوہات میں سے ایک وجہ بجلی کے فی یونٹ کی قیمت میں اضافہ بھی ہے۔ حکومت اپنے مصارف کو محصولات اور انکم ٹیکس کی وصولی ہر قابل ٹیکس آمدنی والے شخص سے یقینی بنانے کی بجائے پٹرولیم مصنوعات بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرکے پوری کرنے کی جس سعی میں ہے یہ کوئی مستقل حل نہیں۔ اب تو قیمت بجلی اور حکومتی ٹیکسوں بمع ٹی وی فیس وسرچارج ملا کر تقریباً مساوی ہوگئے ہیں اور صارف جتنی بجلی استعمال کرتا ہے اس کی قیمت کے برابر ٹیکس وسرچارج بھی حکومت کو ادا کرتا ہے اس کے باوجود گردشی قرضوں کی صورت میں اتنی بھاری رقم جمع ہوتی ہے جس کا ملکی خزانہ متحمل نہیں ہوسکتا۔ فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر جو وصولی ہوتی ہے اس میں اس پن بجلی کا تو سرے سے کوئی حصہ ہی نہیں جو سستے داموں پیدا ہوتی ہے مگر وہ بھی فیول سے پیدا ہونے والی بجلی کے مول بکتی ہے۔ حکومت آخر عوام پر کتنا بوجھ ڈالے گی اور یہ قوم کتنا بوجھ سہارے گی۔

ہمارے ڈاکٹر چکن پاکس کے علاج کے بھی قابل نہیں؟

ضلع دیر میں گیارہ افراد کی اموات کے اسباب جاننے کیلئے امریکہ بھیجی گئی رپورٹ میں ان افراد کی موت کی وجہ چکن پاکس کا قرار دینا ہمار ے نظام علاج‘ ماہرین طب اور تشخیصی لیبارٹریوں سبھی کے حوالے سے کسی اچھے تاثرات کا باعث نہیں۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ مذکورہ اموات ریکاسل نامی خطرناک بیکٹیریا کی وجہ سے نہیں بلکہ لاکڑا کاکڑہ کے سبب ہوئیں۔ہمارے تئیں موت کی وجوہات جاننے سے زیادہ ان کے علاج میں ناکامی اور عدم تشخیص زیادہ اہم تھا جس میں ناکامی سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یا تو ان کے علاج میں غفلت کو چھپانے کیلئے ایسا کیاگیا یا پھر واقعی ہمارے ہسپتالوں میں تعینات ڈاکٹروں کو اتنا بھی اندازہ نہیں کہ مریض کو بیماری کیا ہے۔ ہر ڈاکٹر سمجھے بنا سمجھے درست یا غلط ادویات لکھ دیتا ہے جس کا نتیجہ منفی اور خطرناک نکلنا یقینی ہوتا ہے۔ رپورٹ آنے کے بعد اب یہ محکمہ صحت کے حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان ڈاکٹروں کیخلاف تحقیقات اور تادیبی کارروائی کریں جن کی غفلت کے باعث مریض موت کے منہ میں چلے گئے۔ پی ایم ڈی سی کو بھی شکایت بھیجنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ بھی ذمہ دار عناصرکیخلاف کارروائی کرے۔ جب تک ڈاکٹروں سے پوچھ گچھ اور ان کو عدالتوں ومتعلقہ اداوں میں ان کی شکایت نہیں کی جائے گی اور ان کو احتساب اور پوچھ گچھ کا ڈر نہیں ہوگا وہ ایک عام بیماری کو سمجھنے اور اس کا علاج کرنے میں اسی طرح غفلت کا مظاہرہ کرتے رہیں گے جس کا ارتکاب دیر کے ہسپتالوں کے ڈاکٹروں نے کیا۔ حکومت کو جب بھی کسی علاقے میں وباء پھیل جائے اور اموات ہونے لگیں تو بجائے اس کے کہ مقامی معالجین ہی پر بھروسہ کیا جائے ماہرین کی ٹیم ان علاقوں میں بھیجنی چاہئے تاکہ اموات کی تعداد کو کم کیا جاسکے اور چند زندگیاں بچائی جاسکیں۔

غیرحاضر اساتذہ کیخلاف ایک مرتبہ پھر تحقیقات

قبائلی اضلاع میں پرائمری سے لیکر ہائیر سیکنڈری کی سطح تک میں تعلیمی سرگرمیوں سے متعلق تفصیل طلبی اورطویل عرصہ سے غیرحاضر اساتذہ کی حاضری یقینی بنانے کیلئے بھی اقدامات پر توجہ کا عندیہ کافی نہیں بلکہ اس سنگین مسئلے کے حل کیلئے موقع پر جاکر عملی اقدامات اور عوام کو اس عمل میں شریک کئے بنا ممکن نہیں۔ قبائلی اضلاع میں سینکڑوں میں ایسے سکولوں کی موجودگی کوئی راز کی بات نہیں جس میں کئی سالوں سے تعلیمی سرگرمیاں معطل اور سکول بند پڑے ہیں اور اساتذہ گھروں میں بیٹھ کر تنخواہیں وصول کررہے ہیں ان میں سے متعدد اساتذہ بیرونی ممالک ہونے کے باوجود تنخواہیں بھی وصول کررہے ہیں۔یہ سب کچھ محکمے کے حکام کی ملی بھگت، حصے داری اور چشم پوشی کے بغیر ممکن نہیں۔ محولہ شکایات اور مسائل کسی سے پوشیدہ نہیں لیکن کبھی بھی سنجیدگی کیساتھ ان کے حل پر توجہ نہیں دی گئی۔ اب کے بار اگر واقعی حکومت سنجیدہ ہے تو پھر سطحی اقدامات کی بجائے عملی طور پر پہلے ان سکولوں کا کھوج لگایا جائے ان کی عمارتیں تلاش کی جائیں اور پھر ان سکولوں میں تعینات اساتذہ کو ڈھونڈ نکالا جائے جو سکول گھوسٹ اور اساتذہ عدم حاضری پر تنخواہ وصول کرنے کے مرتکب پائے جائیں ان سے وصولیاں کی جائیں اور متعلقہ حکام کو چارج شیٹ کیا جائے اس سے کم کسی اقدام کا پہلے کی طرح لاحاصل ہونا عجب نہ ہوگا۔

متعلقہ خبریں