Daily Mashriq

میڈیا پر سیاست نہیں ہوتی

میڈیا پر سیاست نہیں ہوتی

یہ کوئی مبالغہ کی بات نہیں حقیقت ہے کہ عمران خان نے وزیراعظم کے عہدے تک پہنچنے کیلئے بہت جدوجہد کی، انہوں نے 2013ء کے عام انتخابات کے نتائج جو نواز شریف کے حق میں تھے پہلے قبول کرنے کے بعد پھر اس سے انحراف کرتے ہوئے دھاندلی کا الزام لگا دیا اور مرحلہ وار تحریک نوازشریف حکومت کیخلاف شروع کر دی، اس تحریک میں انہوں نے نہ صرف مسلم لیگ ن بلکہ پی پی اور جے یو آئی (ف) کو شدید ترین طور پر ہدف تنقید بنایا، اس موقع پر سوشل میڈیا کا کامیابی کیساتھ استعمال کیا گیا۔ پوری تحریک میں پاکستان اور بعض غیرملکی ذرائع ابلاغ نے عمران خان کا پورا پورا ساتھ دیا، علاوہ ازیں بعض قومی ادارے بھی عمران خان کیساتھ کھڑے رہے، جہاں جہاں وہ قانونی طور پر پھنستے نظر آئے وہاں سے بھی ان کو چھوٹ ملی، جس کے نتیجے میں انہوں نے وہ منز ل پالی جس کیلئے وہ بائیس سال پہلے میدان سیاست میںکودے تھے۔

سیاست کی اٹکھیلیوں میں میڈیا کامیابیاں تو دلاتا ہے مگر اقتدار کی سنجیدگی میں میڈیا وہ کردار ادا نہیں کرتا وہاں اس کا مزاج محتسبانہ ہوتا ہے۔ شاید یہ بات عمران خان کو ہنوز معلوم نہیں ہو سکی ہے چنانچہ اسی سمجھ کی بنیاد پر انہیں چودھری نثار نے وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے بیان دیا ہے کہ عمران خان حکومتیں ٹویٹر پر نہیں چلتیں۔ چودھری نثار سیاست کی گرم سرد دیکھے ہوئے ہیں ان کو عمران خان کو صائب مشورہ ہے، ویسے بھی جب سے عمران خان برسراقتدار آئے ہوئے ہیں تب سے وہ اور ان کی ٹیم سوشل میڈیا کو ہی پکڑے بیٹھی ہوئی ہے ان کا گمان ہے کہ جس طرح نواز شریف کی حکومت کو ڈھانے میں ان کا میڈیائی جادو چل گیا اسی طرح حکومت جادو بھی سر چڑھ جائے گا۔ ایسا نہیں ہے عوام کو ٹویٹ سے یہ یقین تو آگیا کہ سانحۂ ساہیوال پر وزیراعظم صدمے میں چلے گئے ہیں مگر وہ اس صدمے کا نتیجہ جاننا چاہتے ہیں۔ ایک بات اور بڑی شد ومد سے دیکھنے کو مل رہی ہے کہ وہ میڈیا کے ذریعے ہی عوام کا دھیان اصل مسائل سے ہٹانے کیلئے نان ایشو کی طرف موڑ رہے ہیں جس کی وجہ سے عوام اور ان کے سیاسی مخالفین کی جانب سے بار بار یہ کہا جا رہا ہے کہ عمران خان نے اب تک اپنی ذات کو وزیراعظم کے طور پر قبول نہیں کیا ہے بلکہ وہ اب بھی وزیراعظم کی کرسی پر نہیں کنٹینر پر کھڑا محسوس کئے جا رہے ہیں۔ نوازشریف حکومت کیخلاف تحریک کے دوران ان کا جو مؤقف تھا ان کا نعرہ تھا کہ وہ پاکستان سے لوٹی گئی دوسو ارب ڈالر کی رقم سوئٹزر لینڈ سے واپس لائیں گے، چوروں کو گرفتار کریں گے، ان کو سڑکوں پر گھسیٹیں گے مگر ان میں سے کسی بھی ایشو پر کوئی کام نہیں ہوا بلکہ نان ایشو مسائل کو اُچھالا جا رہا ہے جس سے حکومت کی اہلیت کا اندازہ عوام کو ہو چلا ہے، مثلاً افغانستان کے مسئلے پر طالبان اور امریکی حکام کے مابین مذاکرات ہو رہے ہیں اس موقع پر یہ کہنا کہ پاکستان افغانستان میں عبوری حکومت چاہتا ہے چنانچہ اشرف غنی کی حکومت نے جلتا بھنتا بیان دیا اور اس کو افغانستان کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت قرار دیا۔ ادھر امریکی حکومت نے بھی اپنا سخت ردعمل دیا چنانچہ پی ٹی آئی کو اب تک اندازہ نہیں ہو سکا کہ اس کو کہاں تک قدم بڑھانا چاہئے اور کب قدم کو آگے رکھنا ہوگا۔ اسی طرح الیکشن کمیشن کے دو ارکان کی تقرری کا معاملہ ہے جس کے بارے میں یہ وضاحت جاری کی گئی کہ وزیراعظم کے سیکرٹری نے خط لکھ کر اپوزیشن لیڈر سے کہا تھا کہ وہ اپنے نامزد کردہ دو افراد کے نام قومی اسمبلی کی کمیٹی کو ارسال کر دیں تاکہ ان کی تقرری کا فیصلہ کر لیا جائے اور اپوزیشن کی جانب سے خط لکھنے کو جو غیرآئینی، غیرقانونی اور غیراخلاقی قدم قرار دیا گیا تھا اس کو رد کر دیا گیا۔ آئینی طور پر جب وفاقی الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری کا معاملہ آتا ہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ وزیراعظم حزب اختلاف کے لیڈر سے مشورہ کر کے تقرری کرتا ہے اور یہ مشورہ بالمشافہ ہوا کرتا ہے، اگر ملاقاتوں میں معاملہ طے نہیں پاتا تو اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے ایک کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے پھر یہ کمیٹی فیصلہ کرتی ہے چنانچہ اس بارے میں وزیراعظم عمران خان نے حزب اختلاف کے لیڈر جو میاں شہباز شریف ہیں کو مشورے کیلئے مدعو کرنے کی بجائے براہ راست خط لکھ کر نام طلب کر لئے جو کسی طور مناسب نہیں۔ عمران خان حزب اختلاف کے لیڈر کو مدعو کرنے سے کیوں کترا رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ شہباز شریف کا سامنا نہیں کر سکتے اسلئے دوسرے راستے اختیار کر رہے ہیں۔ یہ درست ہے کہ حکومت حکومتی انداز میں چلتی ہے۔ اسی طرح وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے حزب اختلاف کے لیڈروں کو خطوط لکھے کہ حکومت نیشنل ایکشن پلان پر اپوزیشن کو بریفنگ دینا چاہتی ہے تاکہ ان کو اعتماد میں لیا جائے، اس دعوت نامے کو تمام سیاست دانوں نے رد کردیا، شہباز شریف کی جانب سے تجویز گئی کہ پارلیمان کو اس بارے میں اعتماد میں لیا جائے جو ایک مؤثر ادارہ ہے۔ جس پر شاہ محمود قریشی نے اجلاس ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ نیشنل ایکشن پروگرام کا وزارت امور خارجہ سے کیا تعلق ہے، یہ کام وزارت داخلہ کا ہے چنانچہ حزب اختلاف کے لیڈروں کو وزیر داخلہ کی جانب سے اجلاس میں شرکت کا دعوت نامہ جانا چاہئے تھا جو وزیر خارجہ کی جانب سے بھیجا گیا، اس کی بھی وجہ یہ ہے کہ شہریار آفریدی وزیر مملکت ہیں وہ مدعو نہیں کر سکتے تھے، البتہ وزارت داخلہ کا قلمدان براہ راست وزیراعظم کے پاس ہے یا دوسرے الفاظ میں اس وقت وزیراعظم ہی وزیر داخلہ کا بھی عہدہ سنبھالے ہوئے ہیں چنانچہ انہیں مدعو کرنا چاہئے تھا مگر وہ اس میں شان کسرت سمجھتے ہیں چنانچہ غلط طور پر وزیر خارجہ کو ذمہ داری سونپی گئی چنانچہ یہ بات درست ہے کہ حکومت ٹویٹر کے ذریعے نہیں چلا کرتی۔

متعلقہ خبریں