Daily Mashriq

راہول جیتنا چاہتے بھی ہیں یا نہیں؟

راہول جیتنا چاہتے بھی ہیں یا نہیں؟

راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ وہ2 حلقوں سے انتخاب لڑیں گے۔ اس فیصلے نے جہاں ان کے حامیوں کو حیران کیا وہیں کمیونسٹوں کو جھنجھلا کر رکھ دیا ہے۔ کیریلا کے جنگلاتی اور ماحولیاتی طور پر نازک حلقہ انتخاب وایاناڈ میں ان کے حریف اتحاد لفٹ فرنٹ ہیں اور ووٹرز زیادہ تر مسلمان ہیں۔ دوسری طرف بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اس فیصلے کو خوف کی ایک علامت کے طور پر بیان کیا ہے کیونکہ اب راہول اترپردیش میں امیٹھی کے علاوہ دور دراز واقع ریاست کیریلا سے بھی انتخاب لڑ رہے ہیں۔ کہیں اس فیصلے کے سبب راہول نے خود کو مشکل صورتحال میں تو نہیں ڈال دیا ہے؟ اس حوالے سے کچھ بھی کہنا مشکل ہے۔ اتحادوں کی تشکیل کے اہم سوال پر انہیں درست تجویز نہیں دی گئی ہے۔ اگر وہ اپنی بہتر جبلتوں کے مطابق قدم اُٹھاتے، تو وہ وزیرِاعظم مودی کے متبادل ایک ناقابل تسخیر سیکولر اور جمہوری ہیرو بن کر اُبھرتے۔ مگر ایسا کچھ نہیں ہونا تھا۔

یہ تو صاف ظاہر ہے کہ وہ گومگو کی صورتحال سے دوچار ہیں اور خود کو بے حس یا پھر لاچار سا پیش کرتے ہوئے حزب اختلاف کیلئے راہیں مزید تنگ کرنے کا خطرہ مول لے لیا ہے جبکہ ان کا بظاہر یہ رویہ ایک طاقتور اتحاد کے قیام کیلئے بدتر ثابت ہوگا۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کس طرح ان کی جانب سے اپنائی گئی راہ غلط ہے اور موجودہ حالات میں حزب اختلاف کو کون سے مسائل کا سامنا ہے۔1989 میں جب راجیو گاندھی حزبِ اختلاف کی بینچ پر بیٹھے تھے تو اس وقت کانگریس کے پاس197 نشستیں تھیں اور ووٹ کا40 فیصد حصہ حاصل تھا یعنی آج مودی کو حاصل31 فیصد سے نمایاں طور پر زیادہ تعداد، یہ بات الگ ہے کہ مودی کے پاس نشستوں کی تعداد زیادہ ہے۔

راجیو گاندھی کو وزارت عظمیٰ کے عہدے کا حلف اُٹھانے کی دعوت دی گئی مگر انہوں نے یہ دعوت مسترد کردی۔ یہ ایک اخلاقی سبق تھا کیونکہ انہوں نے اکثریت کیساتھ کامیابی حاصل نہیں کی تھی مگر اس کی وجہ ایک یہ بھی تھی کہ اس سے پہلے وجود میں آنے والی لوک سبھا میں حاصل404 نشستوں کے مقابلے میں انہوں نے کافی کم نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی جبکہ یہ بھی خیال رہے کہ 1984 کے انتخابات میں راجیو گاندھی نے49 فیصد ووٹ کیساتھ کامیابی حاصل کی تھی، انتخابات میں اتنی شرح کیساتھ کامیابی کبھی نہرو بھی حاصل نہیں کرسکے تھے۔وی پی سنگھ کی جنتا دل18 فیصد ووٹ اور143 نشستوں کیساتھ کافی فرق کیساتھ دوسرے نمبر پر آئی۔ وی پی سنگھ دائیں بازو کے ہندوؤں اور کمیونسٹوں کی مدد سے وزیرِاعظم بنے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے1984 میں حاصل ہونیوالی2 نشستوں کے مقابلے میں 1989 کے انتخابات میں85 نشستیں حاصل کیں۔ تاہم ان کے ووٹ کی شرح12 فیصد رہی۔

2019 کے انتخابات میں بی جے پی کو زیادہ سے زیادہ190 نشستوں اور کم سے کم بھی140 نشستوں پر کامیابی کے امکان ظاہر کئے جارہے ہیں۔ مذکورہ نشستوں کی امکانی تعداد راجیو گاندھی کو 1989 میں حاصل ہونے والی197 سے کافی کم ہے کہ جس کیساتھ راجیو گاندھی نے وزارت عظمی کے عہدے کا موقع اپنے ہاتھ سے جانے دیا۔ابھی تو ابتدائی دن ہیں اور زیادہ حقیقت پسندانہ اندازے11 اپریل کو545 نشستوں میں سے91 نشستوں پر ہونے والے پہلے انتخابی مرحلے کے بعد ہی لگائے جاسکیں گے۔ موجودہ وقت میں یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ کانگریس شاید بی جے پی سے زیادہ نشستوں پر کامیابی حاصل نہیں کر پائے گی مگر بھارت میں ایسی بی جے پی مخالف علاقائی جماعتیں موجود ہیں جو (کانگریس کیساتھ مل کر) ایک مضبوط متبادل سامنے لاسکتی ہیں۔من موہن سنگھ کی 2 حکومتیں نشستوں کی بہت ہی کم تعداد کیساتھ تشکیل دی گئی تھیں۔ انہوں نے2004 میں بی جے پی کی138 نشستوں کے مقابلے میں145نشستیں حاصل کی تھیں اور2009 میں بی جے پی کی116 کے مقابلے میں206 نشستیں حاصل کی تھیں مگر ان کے پاس اتحادی تھے۔ یہاں ایک بات قابلِ غور یہ ہے کہ من موہن سنگھ نے2008 میں ممبئی پر ہونے والے دہشتگرد حملے کے بعد پاکستان کیخلاف کوئی فوجی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا اس کے باوجود جب دوسری بار میدان میں اُترے تب ان کی نشستوں اور ووٹ کی شرح میں اضافہ میں ہوا۔

یہ حقیقت مودی پرسوار اس جنگی جنون کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔ اگرچہ اس جنگی جنون کو بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر تو پیش کیا جاتا ہے مگر اس سے کوئی خاطر خواہ فائدہ پہنچتا نظر نہیں آتا۔راہول گاندھی کی نظریں کہاں ہیں؟ وزیرِاعظم مودی نے2014 میں اتحادیوں کے بغیر282 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ اب محض272 نشستیں ہی انہیں اکثریت بخش دیں گی۔ اتحادیوں کیساتھ ان کی پارٹی کے غیرمتاثر کن ووٹ کی شرح35 فیصد اور نشستوں کی تعداد336 تک جا پہنچی تھی۔ تاہم اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس بار مقابلے میں مودی کو فیصلہ کن شکست دینے کیلئے اب بھی65 فیصد ایسے ووٹرز موجود ہیں جن میں تحرک پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔مگر ایک مشکل ہے، 2009 اور 2014 کے درمیان کانگریس کے ووٹرز میں9 فیصد تک کمی واقع ہوئی اور20 فیصد سے بھی کم ووٹوں کی شرح کیساتھ کم ترین شرح حاصل کی۔

(باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں