Daily Mashriq

ریکوڈک ذخائر اور بلوچستان کی محرومیاں

ریکوڈک ذخائر اور بلوچستان کی محرومیاں

بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے، سب سے زیادہ قدرتی وسائل سے مالامال ہونے کے باوجود سب سے زیادہ پسماندہ صوبہ بھی ہے شاید بلوچستان کی قسمت بدلنے کیلئے ابھی مزید وقت درکار ہے، صوبے کے نمائندے اور سرکاری مشنری دیانت کا مظاہرہ کرے تو قلیل وقت میں صوبے کا مقدر تابناک ہو سکتا ہے۔ صوبے کے وسائل اور یہاں کے عوام کے مفادات کے تحفظ کے بجائے چشم پوشی کا برتاؤ ہو رہا ہے۔ دراصل یہی روئیے مرکز گریز رجحانات کی وجہ بن رہے ہیں، جس کا ملک دشمن عناصر فائدہ اُٹھا کر پاکستان کو کمزور کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔ بلوچستان سونا، چاندی، تانبا، تیل، گیس، کوئلہ، کرومائٹ سمیت بیش بہا قیمتی پتھروں اور معدنیات کا عظیم خزانہ اپنے سینے میں چھپائے ہوئے ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ان وسائل سے بلوچستان کو کماحقہ فائدہ حاصل نہ ہوسکا۔ حکمرانوں کیلئے شاید یہ سوال اہم نہیں ہے کہ ہم آج تک بلوچستان کے معدنی ذخائر سے فائدہ کیوں نہیں اُٹھا سکے ہیں، ہمیں اس بارے بھی علم نہیں کہ بھارت کی بلوچستان میں مداخلت اور عالمی قوتوں کی بلوچستان میں دلچسپی کی وجوہات کیا ہیں؟ ہماری مثال تو اس ناگ کی سی ہے کہ جو خزانے پر بیٹھا ہوتا ہے اس خزانے سے خود مستفید ہوتا ہے نہ ہی کسی دوسرے کو اس سے فائدہ اُٹھانے دیتا ہے۔ ریکوڈک کے منصوبے پر ٹھیتیان کمپنی سے معاہدہ ختم کیا گیا۔ اس وقت نواب اسلم رئیسانی کی حکومت تھی۔ فیصلہ یقیناً صوبے کے مفاد میں تھا، حکمت عملی البتہ صائب نہ تھی۔ یوں مسئلہ عالمی عدالت میں چلا گیا اور اب صورتحال یہ ہے کہ ریکوڈک کے بارے میں مقدمہ بلوچستان کے گلے کی ہڈی بن گیا ہے۔ 1990ء کی دہائی میں چین کیساتھ سیندک کے کاپر اور سونے کے ذخائر بروئے کار لانے کا معاہدہ کیا گیا۔ اس منصوبے پر کام شروع ہوا لیکن اتنے سال بیت جانے کے باوجود صوبے کے حصے سمیت اس کے معاشی ودوسرے اثرات کے حوالے سے عدم اطمینان کا اظہار ہو رہا ہے۔ اس کے مالی ثمرات صوبے کو نہ ملنے کے مترادف ہیں۔ 1950ء کی دہائی میں دریافت ہونے والی سوئی گیس سے صوبے کا غالب حصہ آج بھی محروم ہے اور صوبے کا نفع بھی چشم کشا ہے۔ صوبے کے مختلف علاقوں میں تیل وگیس کی دریافت ہورہی ہے اور یہ عمل اب بھی جاری ہے۔

ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ تیل وگیس کی تلاش کے منصوبوں میں بلوچستان کی حکومت کی اجازت ومرضی کو اہمیت نہیں دی گئی۔ اس تناظر میں پی پی ایل اور چینی کمپنیوں کیلئے حکومت اور بیوروکریسی کی اہمیت چنداں نہیں رہی ہے۔ اب کی صورتحال واضح کرنا جام کمال کی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ آیا صوبائی حکومت کی رضامندی کو کس درجے کی فوقیت واہمیت حاصل ہے۔ بہرکیف موجودہ حکومت خوش کن اعلانات کررہی ہے اور پیش رفت کی دعویدار بھی ہے۔ جام کمال فرما چکے ہیں کہ بلوچستان کے محاصل میں اضافے کیلئے سخت ہاتھ پاؤں مارنے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر صوبے کی آمدنی میں اضافہ نہ کیا گیا تو اس سے ترقی کا عمل ممکن نہ ہوگا۔ مذکورہ تمہید کی حقانیت جام کمال کی اس تشویش سے ثابت ہوتی ہے کہ بے پناہ قیمتی معدنی وسائل کا مالک ہونے کے باوجود بلوچستان کی سالانہ آمدنی صرف پندرہ ارب روپے ہے۔ بیوروکریسی بہرحال قدرت رکھتی ہے کہ وہ وفاق سمیت کسی کو صوبے کا استحصال نہ کرنے دے۔ صوبے کے محاصل میں اضافے کو بھی فوقیت دینی چاہئے۔ یہاں سیاسی جماعتوں کا کردار بہت اہمیت رکھتا ہے کہ حکومت اور بیوروکریسی کے شانہ بشانہ کھڑی ہوں۔ صوبے کے اندر بین الاقوامی سرمایہ کاروںکی آمد قلیل مدت میں یقینی بنانے کی مساعی ہونی چاہئے۔ حکومت بروقت اور تیز رفتار پالیسیاں وضع کرے، گورننس بہتر کرے تاکہ بیرونی سرمایہ کار بلاخوف وتردد صوبے کا رخ کریں۔ ہونا یہ چاہئے کہ سردست اس سیکٹر کی ترقی کے لوازمات پر توجہ دی جائے۔ ترجیحی بنیادوں پر اس راہ میں حائل مشکلات پر قابو پانے کی تدبیر وحکمت عملی اپنانی چاہئے۔ بلوچستان کے اندر محکمہ معدنیات کا اسٹرکچر بہتر بنانے اور اسے جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے، نیز محکمے کے افسران اور دوسرے عملے کی جدید تقاضوں کے مطابق تربیت ہونی چاہئے۔ یقیناً بلوچستان میں سرمایہ کاری کے بہت سارے مواقع موجود ہیں۔ مقامی معیشت کو استحکام کس طرح دینا ہے اس پر جامع پالیسی بنانے کی ضرورت ہے۔ مربوط پالیسیوں اور ویژن کیساتھ صوبے کے وسائل ومعدنیات صوبے کے عوام کی ترقی وخوشحالی کیلئے استعمال ہوسکتے ہیں۔ بلوچستان کے عوام میں یہ تاثر بہت گہرائی کی حدتک پایا جاتا ہے کہ بلوچستان کی محرومیوں کا ذمہ دار وفاق ہے، اگر بلوچستان کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو بلوچ عوام کے وفاق سے شکوہ مبنی برحق معلوم ہوتا ہے، اس لئے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلے بلوچستان کے عوام کا احساس محرومی دور کی جائے اور بلوچستان کے عوام وقائدین کو اعتماد میں لیکر معدنی ذخائر سے سب سے پہلے بلوچستان کو اور بعدازاں پورے ملک کو مستفید کیا جائے۔

متعلقہ خبریں