Daily Mashriq

غلیظ قرضوں کی جنگ

غلیظ قرضوں کی جنگ

بیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں جب خلافت عثمانیہ جو خلافت راشدہ کے تسلسل کی آخری کڑی تھی ختم ہوئی تو اس کیساتھ ہی مسلمانان عالم قومی‘ لسانی اور علاقائی بنیادوں پر ریاستوں اور ملکوں میں تقسیم ہوگئے۔ خلافت عثمانیہ کے انہدام سے پہلے امت مسلمہ سودی نظام معیشت سے محفوظ ہونے کیساتھ ساتھ دیگر بڑی بڑی معاشرتی اور سماجی قباحتوں سے محفوظ تھی۔سود انسانیت کیلئے کتنی مضر ہے اور یہ معاشروں کے اخلاقیات کو کس طرح گھن کی طرح کھاتی ہے اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تشریف آوری سے قبل اسی سودی نظام معیشت کے سبب دنیا بدترین فساد کا شکار ہوچکی تھی اور اس کا بدترین معاشرتی وسماجی مظہر غلامی کی شکل میں موجود تھا‘ جس نے انسانیت کو ذات پات اور اونچ نیچ کی تقسیم سے دوچار کرکے انسانیت کے اعلیٰ شرف سے حیوانیت کے درجے سے بھی بدتر حالات سے دوچار کیا تھا۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے میدان عرفات میں اپنے آخری خطبہ مبارک میں انسانی معاشروں کو جو چارٹر آف انسانیت عطا فرمایا اس میں سود کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم کرا کر حرام قرار دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دور مبارک میں اسلامی ریاست میں سونا‘ چاندی‘ گندم‘ جو اور کھجور ونمک کے ذریعے تجارت ہوتی تھی اور مسلمان سپر پاور کی حیثیت سے دنیا پر غالب آکر حکمران ہوگئے۔ یہاں تک کہ مارچ 1924ء میں کمال اتاترک نے سلطان عبدالحمید کو معزول کرا کر خلافت کے خاتمے کا اعلان کیا۔

مسلمان امت آج کے بڑے بڑے اسلامی ملکوں‘ سعودی عرب‘ مصر‘ شام‘ عراق‘ ترکی اور بعض دیگر ریاستوں میں بٹ کر رہ گئی اور مغرب ان پر ہر لحاظ سے حاوی ہوگیا۔ مغرب نے بیسویں صدی میں سائنسی ترقی کرکے دنیا بھر کو ٹیکنالوجی اور علوم کے زور پر اپنی تہذیبی وثقافتی اثرات سے اس حد تک متاثر کیا کہ عرب ممالک سے قومیت اور وطنیت کی آوازیں اُٹھیں۔ ترکی میں کمال اتاترک نے مغرب کی اندھی تقلید کو ترقی کے مترادف سمجھتے ہوئے ہر اسلامی علامت کو مٹانا ضروری سمجھا۔ مصر سے جیسے اہم اسلامی ملک کے مغرب زدہ حکمرانوں نے اہرام مصر اور فراعنہ کو اپنی ثقافتی وتاریخی پہچان قرار دیتے ہوئے جمال عبدالناصر جیسے حکمران اپنی تقریروں میں ’’نجن ابناء الفرعون‘‘ (ہم فرعون کی اولاد ہیں) فخریہ تکرار کرتے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بیسویں صدی کے وسط میں مسلمان ممالک مغرب کی براہ راست غلامی سے نکل کر بھی حکومتی اور حکمرانی سطح پر ان کے ماتحت ہی رہے۔

برطانیہ اور یورپ کی دیگر استعماری طاقتوں نے اس بات کا بھرپور اہتمام کیا تھا کہ مسلمان ممالک سے مغرب کی حکمرانی ظاہری طور پر ختم ہو کر ان ہی کے آلۂ کار اور ذہنی طور پر مرعوب لوگ ہی مسلمان عوام پر حکمران رہتے ہوئے ان کے نظام حکمرانی ومعیشت ومعاشرت پر فخر کرتے ہوئے آگے بڑھائے۔

بیسویں صدی کے اواخر سے لیکر آج تک عالم اسلام میں جو شورش عوام اور حکمرانوں اور عالم اسلام کے حکمرانوں کے درمیان برپا ہے اس کی پشت پر مغربی فکر اور سودی نظام معیشت کی کارستانیاں کارفرما ہیں۔

اسلامی ممالک کو معاشی میدان میں آئی ایم ایف اور سودی نظام بینکنگ کے ذریعے اپنے وسائل پر اعتماد اور خوداعتمادی سے محروم کرکے رکھ دیا گیا۔ مسلمان ممالک کو آئی ایم ایف سے ایسے قرضے دلائے گئے جس کا ایک خطیر حصہ مغربی ماہرین کی مشاورت اور کنسلٹنسی پر اٹھا اور ایک بڑا حصہ اس ملک کے حکمران طبقات کی تجوریوں میں منتقل ہو کر دوبارہ یورپ کے بینکوں میں پہنچا۔ اس کے نتیجے میں مسلمان ملکوں کے عوام ایسے غلیظ قرضوں کے جال میں پھنس گئے کہ ان کیلئے زندگی گزارنا سزا کے مترادف ٹھہر گیا۔ بقول ساحرؔ

زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے

جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں

قرضوں میں ترکی اور پاکستان بری طرح پھنس گئے تھے لیکن ترکی کو تو الحمدللہ طیب اردگان کی صورت میں نجات دہندہ مل گیا اور آج وہاں پاکستان جیسی صورتحال نہیں ہے۔ ہم نے عمران خان کو اسی امید ونظیر پر چنا تھا لیکن شاید پاکستان اور ترکی کے عوام‘ حالات اور سیاسی جماعتوں میں بہت بڑا جوہری فرق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان کے اسد عمر بڑی آئیں بائیں شائیں کرکے آخرکار آئی ایم ایف کے قدموں میں دو زانوں ہو کر بیٹھنے ہی والے ہیں حالانکہ عوام کو عمران خان سے یہ اُمید نہ تھی‘ عمران خان نے تو ’’معاشی غارت گر‘‘ (An Economic hit man) پڑھی اور لوگوں کو پڑھنے کی ترغیب دیتے رہے ہیں۔

ہمیں خطرہ ہے کہ یہ غلیظ قرضے جو ہمارے حکمرانوں نے لئے ہیں اور عوام سے پوچھا تک نہیں ہے۔ ہمیں خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر تو مجبور کرچکے ہیں‘ کہیں پاکستان کی بقا کیلئے ناگزیر قوت (ایٹمی طاقت) کیلئے خطرات کا باعث نہ بنیں۔ اس لئے عمران خان کی حکومت کے وزیر خزانہ کو ان باتوں کا خیال رکھنا ہوگا ورنہ وہ دن دور نہیں جب پاکستان کے عوام وطن عزیز کی حفاظت کیلئے نرم انقلاب (پُرامن انقلاب) کیلئے اُٹھ کھڑے ہوتے ہوئے کہیں گے کہ جس نے قرضے لئے ان ہی کے اثاثوں سے ادا کئے جائیں۔

متعلقہ خبریں