Daily Mashriq

سال 2019: پاکستان کی ترقی کی شرح نیپال اور مالدیپ سے بھی کم رہے گی، اقوام متحدہ

سال 2019: پاکستان کی ترقی کی شرح نیپال اور مالدیپ سے بھی کم رہے گی، اقوام متحدہ

اسلام آباد: اقوام متحدہ کے اقتصادی اور سماجی کمیشن برائے ایشیا اور پیسیفک(ای ایس سی اے پی) نے پیش گوئی کی ہے کہ پاکستان کی جی ڈی پی 2019 میں خطے میں سب سے کم رہے گی۔

ای ایس سی اے پی کی جانب سے 'ترقی سے آگے کے عزائم' کے عنوان سے ایشیا اینڈ دی پیسیفک 2019 کے سالانہ اقتصادی اور سماجی سروے میں پیش گوئی کی گئی کہ بنگلہ دیش کی 7.3 فیصد، بھارت کی 7.5 فیصد، مالدیپ اور نیپال کی 6.5 فیصد کے مقابلے میں 2019 میں پاکستان کی جی ڈی پی (مجموعی ملکی پیداوار) 4.2 فیصد رہی گی جبکہ 2020 میں یہ 4 فیصد تک ہوسکتی ہے۔

اس سروے میں یہ انکشاف کیا گیا کہ خطے میں مجموعی طور پر اقتصادی صورتحال مستحکم ہے اور 2019 اور 2020 میں ترقی کی شرح 5 سے 5.1 فیصد تک متوقع ہے۔

تاہم برآمدی شعبے کو یورپ اور ممکنہ طور پر امریکا میں کم طلب کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور امریکا اور چین کی جاری تجارتی جنگ میں بے یقینی جاری رہے گی۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ پاکستان کی معیشت بڑے مالی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور کرنسی پر بڑھتے دباؤ کے باعث ادائیگیوں کی مشکلات کے توازن کا سامنا کر رہی ہے۔

ایشیا پیسفک خطے میں افراط زر (مہنگائی) کے حوالے سے پیش گوئی کرتے ہوئے لکھا گیا کہ 2020 میں 3.8 فیصد تک کمی سے قبل 2019 میں اس میں اعتدال کے ساتھ 4.2 فیصد تک اضافہ ہوگا۔

تاہم تجارتی کشیدگی اور بڑھتی بے یقینی، کرنسی کی قدر میں کمی اور غیر معمولی موسم کے تناظر میں ممکنہ زیادہ ٹیرف صارفین اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ کرسکتا ہے۔

سروے کے مطابق خطے کے وسط سے طویل مدتی امکانات ساختی تبدیلی اور وسیع بنیاد پر پیداواری ترقی پر منحصر ہیں۔

اس رپورٹ میں ان ممالک کو خبردار کیا ہے جو زراعت پر مبنی معیشت کو کسی ایک کے پاس منتقل کر رہے ہیں، جس سے مینوفکچرنگ شعبے کو بائی پاس کرتے ہوئے سروسز کا شعبہ اصل کردار ادا کرتا ہے۔

اقوام متحدہ کے کمیشن کی جانب سے 2019 کے سروے میں یہ نشاندہی بھی کی گئی کہ 2030 تک پائیدار ترقی کے مقاصد کے حصول کے لیے ایشیا پیسفک ترقی پذیر ممالک کے لیے سالانہ 15 کھرب ڈالر کی اضافی سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی، جو 2018 میں ان ممالک کی مشترکہ جی ڈی پی کے 5 فیصد کے برابر ہے۔

متعلقہ خبریں