Daily Mashriq

شدت پسندی کے اچانک رونما ہونے والے واقعات

شدت پسندی کے اچانک رونما ہونے والے واقعات


گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں شدت پسندوں کی جانب سے مختلف علاقوں میں سکولوں کو نقصان پہنچانے کا عمل قابل مذمت اور تشویشناک امر ہے۔ ایک منظم کارروائی سے بہت سارے سوال اور خدشات کا پیدا ہونا فطری امر ہے۔ اطلاعات کے مطابق شدت پسندوں نے ضلع کے بعض زیرتعمیر اور تکمیل کے قریب سکولوں کو نشانہ بنایا اور آگ لگا کر نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ شدت پسندوں نے12 سرکاری سکولوں کو نشانہ بنایا جن میں لڑکیوں کے سکول بھی شامل ہیں۔ ان میں سے تقریباً چار سکول لڑکیوں کے تھے جبکہ سات کے قریب سکولوں میں بچے جاتے تھے اور باقی سکول زیر تعمیر تھے۔ گلگت بلتستان میں ایک ساتھ اتنی بڑی تعداد میں سرکاری سکولوں کو نشانہ بنانے کا واقعہ اس سے پہلے علاقے میں کبھی نہیں ہوا۔ کچھ عرصے پہلے دیامر سمیت علاقے کے مختلف علاقوں میں شدت پسندی کے واقعات پیش آئے تھے لیکن حالیہ کچھ برسوں میں یہ مکمل طور پر پرامن تھے اور شدت پسندی کے واقعات کی توقع بھی نہیں تھی کہ اچانک شدت پسندوں نے اس پرامن علاقے میں ایک مرتبہ پھر بے چینی پیدا کرنے کی کوشش کی۔ اقوام متحدہ کے حالیہ سروے کے مطابق گلگت بلتستان میں شرح خواندگی ملک کے باقی حصوں کے مقابلے میں زیادہ ہے اور والدین کے بچوں کو سکولوں میں بھیجنے کے رجحان میں اضافے کی وجہ سے نئے سکولوں کی تعمیر شروع کی گئی تھی۔ دیامر کی تحصیل چلاس کے پولیس افسر ایس پی رائے محمد اجمل نے میڈیا کو بتایا کہ حملہ آور بظاہر مقامی ہی لگتے ہیں کیونکہ علاقے کے بعض حصوں میں اب بھی ایسے افراد پائے جاتے ہیں جو تعلیم بالخصوص لڑکیوں کی تعلیم کیخلاف ہیں۔ اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں اور نیم قبائلی علاقوں میں کچھ عرصہ قبل سرکاری سکولوں کو نشانہ بنانے کے واقعات عام تھے تاہم قبائلی علاقوں میں سیکورٹی فورسز کی کارروائیوں کے بعد ان واقعات میں نمایاں کمی آئی۔ ضلع دیامر کے علاقے چلاس میں اس سے پہلے شدت پسندی کے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں جن میں سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کے علاوہ غیر ملکی سیاح بھی ہلاک ہوئے۔ اگست2013 میں چلاس میں شدت پسندی کے ایک واقعے میں سپرنٹینڈنٹ پولیس، پاکستان فوج کے ایک کرنل سمیت تین افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ اس واقعے سے دو ماہ پہلے جون میں دیامر کے علاقے میں دہشتگردوں نے نانگا پربت بیس کیمپ میں دس غیرملکی اور ایک پاکستانی سیاح کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ اس واقعے کا چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ازخود نوٹس لے لیا ہے۔ چیف جسٹس نے مذکورہ معاملے پر سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری کشمیر وگلگت بلتستان اور وفاقی حکومت سے48 گھنٹے کے اندر جواب طلب کر لیا چونکہ ایک ساتھ کئی سکولوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے اسلئے یہ اتفاقی واقعہ نہیں بلکہ منظم گروہ کی کارروائی ہے جس کا جلد سے جلد پتہ لگانا ضروری ہے۔ فی الوقت ان واقعات کو دہشتگردی کے واقعات سے جوڑنے اور اسے دہشتگردی سے تعبیر کرنا شاید مناسب نہ ہو لیکن بہرحال ان واقعات کو شدت پسندی کے واقعات قرار دینے میں تامل نہیں۔ شدت پسندی کے واقعات میں اکثر وبیشتر لڑکیوں کے سکولوں کو نشانہ بنانے اور لڑکیوں کی تعلیم کیخلاف متشدددانہ اقدامات ہی سے شروع ہوتے ہیں۔ سوات میں بھی شدت پسندی کی لہر کا اولین نشانہ زنانہ تعلیمی ادارے ہی تھے۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کا ان اضلاع سے متصل ضلع چترال تعلیم اور خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم کے میدان میں ملک کے ترقی یافتہ اضلاع کے مقابلے پر آگیا ہے اور تیزی سے نہ صرف تعلیم حاصل کرنے کے رجحان میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے بلکہ ایسی معیاری تعلیم جس کے بل بوتے پر طالبات میڈیکل کے روایتی شعبے کیساتھ ساتھ دیگر غیر روایتی شعبوں میں بھی مسابقت کے ذریعے جگہ بنانے لگی ہیں۔ صرف اس سال ضلع چترال سے اعلیٰ ملازمتوں کے امتحان میں تین لڑکیوں کا پرکشش ملازمتوں کا میرٹ پر حصول قابل ذکر امر ہے۔ محولہ علاقوں میں اس درجے کی معیاری تعلیم سے پورے معاشرے پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں جو تنگ نظر عناصر کیساتھ ساتھ ملک دشمن عناصر کی آنکھ میں چبھن کا باعث بننا کسی حیرانگی کی بات نہیں۔ ان علاقہ جات کا چین سے ارضی اتصال اور جغرافیائی قربت کے باعث پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ میں ترقی کے ثمرات اور مواقع سے فائدہ اٹھانے کے مواقع بھی کافی زیادہ ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو یہ اسباب ہر دو قسم کے دشمنوں کو سازشوں پر اُبھارنے اور متوجہ کرنے کیلئے کافی ہیں۔ ان علاقوں میں سنی اسماعیلیہ سنی شیعہ فسادات کرانے کی بھی کوششیں ہوتی رہی ہیں جو علاقے کے عوام کے اتحاد کے باعث کامیابی سے ہمکنار نہ ہو سکیں۔ فی الوقت جبکہ معاملے کی تحقیقات کا مرحلہ ہے اور امید ہے کہ مقررہ وقت پر ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ چیف جسٹس کو پیش کرنے پر صورتحال کا اندازہ ہو سکے گا لیکن ایک بات بہرحال طے ہے کہ اس پورے علاقے میں حالات خراب کرنے کی کوشش غیر متوقع نہیں۔ دہشتگردی کیخلاف جنگ کے ایام میں اس امر کی طرف باربار توجہ دلائی جاتی رہی ہے کہ اس جنگ کا اختتام شمالی علاقہ جات اور چترال میں متوقع ہے۔ ممکن ہے کہ گزشتہ روز کے واقعات کے عوامل مقامی ہی نکل آئیں اور اس کے پیچھے کوئی بڑی سازش کار فرما نہ ہو لیکن ہم جیسے مارگزیدوں کو ان واقعات سے تشویش میں مبتلا ہونا اور قسم قسم کے خدشات کا اظہار بلاوجہ اور بے موقع نہیں۔ ان واقعات سے علاقے میں ایسے شدت پسند عناصر کی موجودگی کا بھی امکان ہے جو اس پورے خطے میں سرگرم ہونے کیلئے پرتول رہا ہے اور افغانستان میں وہ عناصر سرگرم عمل بھی ہیں۔ چونکہ یہ واقعات علاقے میں خواتین کی تعلیم وترقی اور مقامی امن وامان کیلئے واضح چیلنج کی مانند ہیں اسلئے اس ضمن میں احتیاط اور پوری تیاری کی حالت میں رہنے میں حرج نہیں۔ ان واقعات میں ملوث عناصر کی گرفتاری ہی کافی نہ ہوگی بلکہ ان کے پس پردہ کرداروں اور ان کو اُکسانے والوں کا بھی کھوج لگایا جانا چاہئے تاکہ اس کے تناظر میں استحکام وسلامتی کے تقاضوں پر پورا اُترنے کے قابل ٹھوس فیصلے کئے جاسکیں۔

اداریہ