Daily Mashriq

مثبت طرزاختلاف کا ردعمل بھی مثبت آنا چاہئے

مثبت طرزاختلاف کا ردعمل بھی مثبت آنا چاہئے


پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کا عمران خان کے وزیراعظم بننے پر یوم سیاہ منانے کی تجویز مسترد کرنا اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی صوبائی قیادت کا صوبے میں احتجاج کے دوران سڑکیں بند نہ کرنے کا اعلان مثبت طرز عمل ہے جس کا تحریک انصاف کو بھی اعتراف کر لینا چاہئے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایک خاص دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے انتخابی دھاندلی پر احتجاج اور الیکشن کمیشن کے دفاتر کا گھیراؤ کر کے ان کی کارکردگی کی طرف توجہ دلانا اور مینڈیٹ سے محروم کرنے کی شکایت اصولی طور پر درست ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دیگر چھوٹی جماعتوں کے مقابلے میں بڑی جماعتوں کا نرم رویہ اور تصادم کی پالیسی اختیار کرنے سے گریز تضادات اور منافرت سے بچنے کی اچھی سعی ہے لیکن دوسری جانب یہ متوقع حکمران جماعت کے قائد اور الیکشن کمیشن کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس طرز احتجاج کو وقعت دیتے ہوئے ان کے تحفظات دور کرنے کی ہر ممکن یقین دہانی کرائیں اور ان سیاسی جماعتوں کو احتجاج ترک کرنے کیلئے قابل قبول فارمولہ پر راضی کریں۔ سیاسی معاملات کا حل بات چیت اور مفاہمت سے ہی ممکن ہے مشاہدے کی بات ہے کہ جو سیاسی قائدین اس طرح کے معاملات میں بروقت فیصلہ کرتے ہوئے مفاہمت اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے سے کتراتے ہیں ان کو بعد ازاں احتجاج کے سخت ہونے سے دوہرے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ملک سیاسی بحران سے دوچار ہو جاتا ہے۔ الیکشن کمیشن کے کردار وعمل کے باعث ملک میں انتخابات کے حوالے سے جو آراء پائی جاتی ہے اس کا ناکام رہنے والی جماعتوں کے علاوہ دوسری جانب کے افراد بھی اب دبے لفظوں میں اعتراف کرنے لگے ہیں اور اس بات پر اجماع ہونے لگا ہے کہ الیکشن مکمل طور پر شفاف نہ تھے الیکشن کمیشن کے اب تک کے اقدامات تسلی وتشفی کے نہیں بلکہ غلط فہمی میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ مستزاد الیکشن کمیشن اور نادرا کی چپقلش سے معاملات مزید مشکوک ہوگئے ہیں بہتر ہوگا کہ برسر اقتدار آنے والے، حزب اختلاف اور الیکشن کمیشن سبھی فریق غلط فہمیوں سے صرف نظر کرتے ہوئے ثبوت اور شواہد کے مطابق ایک دوسرے کو اپنا نقطہ نظر واضح کرنے اور دوسروں کا نقطہ نظر سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک میں سیاسی انتشار اور بے یقینی کی کیفیت پیدا نہ ہو اور آنے والے حکمرانوں کو سیاسی حریفوں سے الجھنے کی بجائے عوامی مسائل کے حل پر یکسوئی سے توجہ دینے کا موقع ملے۔
مضر صحت اشیاء کیخلاف مؤثر کارروائی کی ضرورت
پشاور میں خیبر پختونخوا فوڈ اتھارٹی کی جانب سے مضر صحت مرغیوں کے انکشاف کے بعد شہریوں کی جانب سے شدید بے چینی کا اظہار فطری امر ہے۔ مضر صحت مرغیوں کی فروخت کی اطلاعات پر شہری مرغی کے گوشت کے استعمال میں محتاط ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب مضر صحت مرغیوں کے حوالے سے تاحال ماہرین حیوانات کی جانب سے اس وائرس کے حوالے سے تفصیلات سامنے نہ آ سکیں۔ جس سے شکوک وشبہات کی فضا میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ واضح رہے کہ پشاور میں اور جمعہ کے روز ایبٹ آباد میں خیبر پختونخوا فوڈ اتھارٹی نے برائلر مرغیوں سے بھری گاڑیاں تحویل میں لے لی تھیں اور یہ کہا گیا تھا کہ مذکورہ مرغیاں وائرس سے متاثرہ ہیں شہری مطالبہ کر رہے ہیں کہ ماہرین حیوانات اس حوالے سے شہریوں کو حقیقت سے آگاہ کریں اور وائرس کی تفصیلات اور اس سے بچاؤ کے حوالے سے بھی احتیاطی تدابیر سے آگاہی دی جائے۔ صحت کے حوالے سے ہر شخص کا محتاط ہونا فطری امر ہے جس طرح کی صورتحال آئے روز سامنے آرہی ہے اس فضا میں کسی بھی چیز کو ہاتھ لگاتے ہوئے وسوسے ذہن میں آتے ہیں۔ فوڈ اتھارٹی کی مختلف کاوشیں اپنی جگہ اطمینان کا باعث ضرور ہیں لیکن ابتدائی کارروائی کے بعد یہ معلوم نہیں ہوتا کہ عوام کو اس کارروائی کے بعد ان کے حفظان صحت کو درپیش ان خطرات سے محفوظ بنایا گیا ہے کہ نہیں جس کا متعلقہ حکام نے نوٹس لیکر کارروائی کی تھی۔ ان حالات میں فوڈ اتھارٹی کے حکام کی ذمہ داریوں میں مزید اضافہ ہوا ہے جس پر توجہ دینے اور عوام کا اعتماد بحال کرنے کیلئے پہلے سے زیادہ کوشاں رہنے کی ضرورت ہے۔

اداریہ