Daily Mashriq


دختر فلسطین

دختر فلسطین

آج سے تقریباً 70سال پہلے ارض فلسطین پر اسرائیلی ریاست کا غیر قانونی اور غیر اخلاقی قیام عمل میں لایا گیا اور دنیا بھر سے یہودی آبادی اس ریاست میں منتقل ہوگئی اسرائیلی ریاست ایک خاص ایجنڈے کے تحت قائم کی گئی اسلیئے اپنے قیام کے 19سال بعد اس نوزائیدہ صہیونی ریاست نے بیک وقت مصر ، شام اور اردن پرحملہ کردیا ، اردن سے بیت المقدس چھین لیا ، شام سے گو لان کی پہاڑیاں ہتھیالیں اور مصر سے صحرائے سینا کا ایک وسیع رقبہ اپنے قبضے میںلے لیا جب عرب ممالک کو تھوڑا ہوش آیا تو انہوں نے مراکش کے شہر رباط اسیاای ممالک کی سربراہ کانفرنس کا انعقاد کیا اور اسرائیلی حملے کی مذمت پر اکتفا کیا ۔ پہلی عرب اسرائیل جنگ کے بعد انورسادات اور حافظ الاسد کی سربراہی میں مصر اور شام نے چند سال بعد اسرئیل پر حملہ کر ڈالا اور اسکے ناقابل شکست ہونے کے تصور کر بڑا دھچکا لگا ۔ اس جنگ کے بعد اسرائیل کی سفارتی اور جنگی پالیسیوں میں انہتائی شدت آگئی اور اپنے وجود کے بچائو کیلئے سب کچھ کرنے پر اڑگیا ، ایک زمانہ تھا جب تنظیم آزادی فلسطین کے چیئر مین یاسر عرفات دینا بھر کے دارالحکومت میں اپنی انتھک سفارتی کوششوں سے فلسطینی عوام کے حقوق اور اسرائیلی ظلم وتم سے دنیا کو آگاہ کرتے رہے ۔ لیکن اسرائیلی حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی ۔ یاسر عرفات مرحوم کو اوسلو مذاکرات میں الجھایا گیا اور مصر کے ساتھ امریکہ نے کیمپ ڈیوڈ مذاکرات کا ڈرامہ کھیلا امن کے نام پر اسرائیلی وزیراعظم اور مرحوم یاسر عرفات کو نوبل پرائز سے نوازا گیا لیکن یہ سب کچھ فلسطینی عوام کے حقوق کا مداوا نہ کر سکی ۔ بلکہ صیہونی فوج لگاتار ظلم وستم کے پہاڑ ڈھاتی رہے ، دنیا آج تک صابر ہ اور شتیلہ کے فلسطینی کیمپوں میں نوزائیدہ بچوں کا قتل عام نہیں بھولی جن کو اسرائیلی فوجیوں نے بیدردی سے شہید کر ڈالا تھا ۔ انڈونیشیا کے جزیرے مشرقی تیمور کے عوام کے حق کود اختیاری کا جنون تو عالمی ضمیر پر سوار تھا جن کی آزادی کیلئے ریفرنڈم کرایا لیکن فلسطین کے عوام کے حوالے سے عالمی طاقتیں اور ان کا ضمیر مجرمانہ خاموشی کا مرتکب ہے۔ اس پورے پس منظر میں آج کل ایک سترہ سالہ فلسطینی بیٹی ''احد تمیمی'' عالمی منظر نامے پر فلسطینی مزاحمت کی علامت کے طور پر سامنے ابھر کر سامنے آئی ہے ۔ یہ فلسطینی بیٹی غزہ کی پٹی کے ایک چھوٹے سے گائوں نبی صالح کی رہائشی ہے ۔ ان کا پورا خاندان سالہاسل سے اسرائیلی فوجیوں کی زیادتیوں کی نہ صرف مزاحمت کر رہاہے بلکہ اس ضمن میں رائے عامہ ہموار کرنے کے ساتھ ساتھ فلسطینی عوام کے جذبہ آزادی کو بھی بھارہا ہے ، احد تمیمی نے اپنے بھائی کو آٹھ ماہ قبل مسلح اسرئیلی فوجیوں کے ہاتھوں سے چھڑانے کی کوشش کی اور موت کی پرواہ کیئے بغیر مسلح اسرائیلی فوجی کو تھپڑ رسید کیا جسکی پاداش میں اسے گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا اور اسے آٹھ ماہ قید کی سزا ہوئی گزشتہ ہفتے وہ آٹھ ماہ قید کے بعد رہاہوئی غزہ میں ہزاروں فلسطینیوں نے ان کا خیر مقدم کیا ۔

رہائی کے بعد وہ وظیم فلسطینی قائد مرحوم یاسر عرفات کے مزار پر گئی اور اپنے عزم کی تجدید کی ۔ فلسطینی اتھارٹی کے چیئر مین محمود عباس نے بھی ان سے ملاقات کی اور اسکی دلیری کو خراج تحسین پیش کیا جنوبی افریقہ کے بانی نیلسن منڈیلا کے پوتے منڈلا منڈیلا نے انہیں آزادی کی علامیت قرار دیا اورانہیں ایوراڈ دینے کااعلان کیا ۔آج سے پچاس سال قبل بیت المقدس پر اسرئیلی قبضے کے بعد کسی کو وہم وگمان بھی نہیں تھا کہ اسرائیل اس کو اپنا دارالخلافہ بنائے گا ، اسرائیل اپنی ہٹ دھرمی اور توسیع پسندی سے قطعاً باز نہیں آرہا ۔ صرف امریکہ اور چند گنتی کے غیر معروف ملکوں نے اسرائیل کے اس فیصلے کو قبول کیا ہے لیکن اسرائیل کے اس فیصلے نے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی تمام کوششوں پر پانی پھیر ڈالا ۔ اب عرب ممالک مزید خوش فہمی کا شکار نہ ہوں اور دیگر مسلم ممالک کے ہمراہ صیہونی عزائم کا ادراک کر کے انکی توسیع بندی اور ظلم وستم کے خاتمے کیلئے متحدہوجائیں 70سال سے ہمارے فلسطینی بھائی بہن اور بچے اپنے لئے آزاد وطن کی جدوجہد میں مصروف ہیں ۔ مرحوم یاسر عرفات کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ آزاد فلسطینی ریاست کیلئے نہ تھکا دینے والی جدوجہد کی ۔ محمود عباس اب صرف غزہ کی پٹی میں ایک مجبور علامت بن کر رہ گئے ہیں ۔ سعودی عرب اور ایران کی چپقلش ۔ شام کی اندوہناک صورتحال یمن میں خانہ جنگی اور دیگر عوام عالم اسلام اور خصوصاً مشرق وسطیٰ کے ممالک کیلئے باعث تشویش ہے ۔ ان مسائل کی وجہ سے فلسطین کا مسئلہ پس منظر میں جارہا ہے ۔ اگر اسلامی ممالک اور خصوصاً عرب ممالک اپنے فرائض سے عہدہ بر آہ ہونے کا عہد کر لیں تو مسئلہ فلسطین کا حل ضرور نکل آئے گا ۔ شرط صرف عزم اور ارادے کی ہے ۔ عظیم فلسطینی مجاہدہ لیلیٰ خالد سے لیکر احد تمیمی تک فلسطینی بیٹیوں نے وہ داستانیں رقم کی ہیں جو آزادی کی مستحق اقوام کا وطیرہ ہیں ۔ اسرائیل جب چاہتا ہے غزہ کی پٹی پرپانی ، بجلی اور راشن بند کردیتا ہے لیکن یہ اوچھے ہتھکنڈے فلسطینی مزاحمت کو کمزور نہیں کر پائے ۔ میری زندگی میں دوبار (ایک بار اسلامی سربراہ کانفرنس منتقدہ کا سابلا۔۔۔مراکش اور ایک بار لندن میںمرحوم یاسر عرفات سے ملاقات ہوئی ۔ دونوں مرتبہ میں نے ان سے سوال کیا کہ آزاد فلسطین کیلئے جدوجہد کب تک جاری رہیگی ؟ ۔ دنوں مرتبہ انہوں نے بے ساختہ جواب دیا ''قیامت تک ''۔ میں ان کے عزم اور حوصلے سے بہت متاثرہوا ، غزہ کی پٹی میں غربت ہے ، بیروزگاری ہے ، شہری سہولتیں ناپید ہیں ۔ بجلی اور پانی نہ ہونے کے برابر ہے ایسے میں احد تمیمی جیسی قوم کی بیٹی کا عزم یقیناً لائق تحسین ہے ۔ درحقیقت غلامی پر سمجھوتہ موت کے مترادف ہوتا ہے اور فلسطینی عوام اس کے لیئے قطعاً تیار نہیں ۔رہائی کے وقت اس عظیم فلسطینی بیٹی نے کہا کہ اسرائیلی تسلط کے خاتمے تک لڑینگے ۔ وہ واقعی دختر فلسطین ہے ۔

متعلقہ خبریں