Daily Mashriq


نئی حکومت کی خصوصی توجہ کے اہم موضوعات

نئی حکومت کی خصوصی توجہ کے اہم موضوعات

اگرچہ اس وقت آئندہ ہفتے کے روز بننے والی نئی حکومت کو پاکستان کی پہلی ''گرینڈ اور مضبوط اور عمران خان کی مخالفت پر ادھار کھائی اپوزیشن کے ہاتھوں اپنی عبوری اکثریت پورا کرنے کیلئے آزاد اور چھوٹی موٹی پارٹیوں کے ارکان کو منانے اور اپنے ساتھ ملانے کے اہم کام میں مشغولیت کے سبب کسی اور بات اور کام کا ہوش کم ہی ہے اور اگر خیر سے پی ٹی آئی کی حکومت بن گئی (جو بنتی نظر آرہی ہے) تو اس گرانڈیل اپوزیشن اور عمران خان کے اپنے لمبے چوڑے وعدوں کی وجہ سے بھی پہلے سو دن میں تو شاید ان کو سر اٹھانے کی فرصت بھی نہیں ہوگی کہ کجا اس قسم کے سنجیدہ اور اہم موضوعات کی طرف توجہ دے سکیں لیکن ان اہم موضوعات پر بات کرنے سے پہلے جملہ ہائے معترضہ کے طور پر دو تین باتوں کی طرف سیاسی جماعتوں بالخصوص پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی توجہ مبذول ہو جائے تو شاید ملک وقوم کیساتھ خود پی ٹی آئی کیلئے مفید ثابت ہوں۔

اس وقت پورا پاکستان دیکھ رہا ہے کہ جہانگیر ترین' عمران خان کے ایک مخلص دوست کی حیثیت سے پی ٹی آئی کی حکومت بنانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگائے ہوئے ہیں لیکن شاہ محمود قریشی اور ان کے درمیان نقطہ نظر یا لائحہ عمل اور طرز عمل کا اختلاف شاید اتنا ہو یا نہ ہو جتنا پاکستان کا ایک بڑا چینل اپنے پروگراموں اور خبروں میں عوام کو دکھا اور سمجھا کر پی ٹی آئی کے ورکروں کی صفوں میں انتشار پھیلانے کی کوششوں میں لگا نظر آتا ہے۔ لہٰذا عمران خان کو اپنی پہلی فرصت میں ان دو اہم اور متحرک رہنماؤں کے درمیان خلوص دل کیساتھ صلح صفائی کروا کر اپنی توانائیوں کو مل کر پارٹی کیلئے صرف کرنے پر آمادہ کریں۔ ان کے درمیان شاید پرسنلٹی کلیش کے سبب ذرا چپقلش موجود ہے اور ہر ایک کی کوشش ہے کہ عمران خان کی قرب سے پی ٹی آئی حکومت میں زیادہ رسوخ کا حامل بن جائے لیکن اس قسم کے طرزعمل سے پارٹی کو نقصان پہنچنے کے علاوہ پی ٹی آئی کے ورکرز میں بھی بددلی سی پیدا ہوتی ہے لہٰذا جتنا جلدی ہو سکے اس کا سد باب کیا جائے۔دوسری اہم بات یہ کہ عمران خان وفاق اور صوبائی سطح پر ایک ایک معتبر' باضمیر اور زبان پر عبور رکھنے والے شخص کو پارٹی کے ترجمان کے طور پر متعین کرے اور ان کو پارٹی کی پالیسی اور رہنما واساسی خطوط ونکات لکھ کر دئیے جائیں اور ان ہی کے مطابق میڈیا سے بات چیت کی جائے۔ اس وقت نعیم الحق' فواد چودھری' فیصل جاوید اور صوبائی سطح پر دیگر لوگ میڈیا کے ذریعے پی ٹی آئی کے معاملات' انتخابات اور حکومت کے حوالے سے بات کرتے ہیں اور اکثر ان کی باتوں کے درمیان تضاد آجاتا ہے جس کو مخالفین اور میڈیا والے اچک کر بات کا بتنگڑ بنا کر پارٹی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں اور بعض اوقات مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں۔ مثلاً پچھلے دنوں جام کمال خان اور سردار یار محمد رند کیساتھ جہانگیر ترین نے کھڑے ہو کر جب جام کمال کو بلوچستان کا آئندہ کا وزیراعلیٰ بنانے کا اعلان کیا تو رند وہاں سے کیمروں کے سامنے ناراض ہو کر نکل گئے۔ وہ پی ٹی آئی کے صوبائی صدر ہیں۔ چاہئے تھا کہ اس قسم کے اعلان سے پہلے ان کو بھی اعتماد میں لیا جاتا۔ اس کیساتھ ہی اس بات کے اثرات سردار اختر جان مینگل پر بھی پڑے۔ پی ٹی آئی کو مرکز اور بلوچستان میں مخلوط حکومت کے قیام اور نئے صدر کے انتخاب میں اشد ضرورت ہوگی لیکن جام کمال خان کے اعلان سے وہ متردد ہوگئے ہیں۔ اسلئے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو چاہئے کہ اس قسم کے اہم امور کے اعلان سے قبل ضروری ہوم ورک کے علاوہ عمران خان یا ان کے اس قسم کے امور کیلئے متعین پارٹی کے سینئر رہنماؤں کے درمیان مشورہ بہت ضروری ہے تاکہ پارٹی اور گائیڈ لائن کے حوالے سے عوام اور اپوزیشن کے سامنے بھانت بھانت کی بولیاں نہ بولی جائیں۔

تیسری اہم بات یہ ہے کہ عمران خان کو وفاق اور صوبوں کی سطح پر اپنے ورکرز کی اخلاقی اور سیاسی تربیت کا ٹھوس بنیادوں پر اہتمام کرنا چاہئے۔ ان کو نظم وضبط اور ڈسپلن کا پابند بنانے کیلئے باقاعدہ سیمینارز اور ورکشاپ منعقد کرا کر پڑھانا اور سکھانا ہوگا کہ الیکشن کے بعد حکومت سازی کیساتھ ان ورکرز پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ لوگوں سے بالخصوص دیگر پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کیساتھ نرم اور شفیق ومتعاون لہجے میں بات کریں اور بلاامتیاز پارٹی سب کی خدمت اور جائز کاموں میں تعاون پیش کیا جائے۔ یہ تاثر کسی طرح بھی عوام کو نہ ملے کہ اب پی ٹی آئی کی حکومت میں دیگر پارٹیوں کی حکومتوں کی طرح صرف پی ٹی آئی ہی کے لوگوں کے کام ہوتے ہیں۔ چوتھی بات یہ کہ انتخابات کا ایک اہم مرحلہ ضمنی انتخابات کی صورت میں باقی ہے۔ کارکن ابھی سے عوام کیساتھ ان رابطوں کو پہلے سے زیادہ بحال رکھیں جو عام انتخابات کے دوران رکھے تھے۔ اپوزیشن جماعتوں کی کوشش ہوگی کہ پی ٹی آئی کی اس دوران کوتاہیوں اور کمزوریوں کو ایکسپلائٹ کرکے اور دھاندلی کا واویلا مچا کر عوام کو اپنی طرف متوجہ کریں اور اگر یہ ضمنی انتخابات پی ٹی آئی نہ جیت سکیں تو اس کے دھاندلی کا دعویٰ اور بھی مضبوط ہو جائے گا۔ اسلئے ہر لحاظ سے اب پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور ورکرز کو انتہائی سنجیدگی' ذمہ داری اور وطن عزیز کے مفادات اور استحکام کی خاطر ہر الزام' ہر وار اور ہر بہتان کو صبر وتحمل کیساتھ لینا ہوگا کیونکہ کسی بھی دوسرے فرد کی نسبت ان پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

متعلقہ خبریں