Daily Mashriq


ہم تم ہوں گے بادل ہوگا

ہم تم ہوں گے بادل ہوگا

آج ہم کھلے آسمان تلے سوئیں گے اور ساون کی پرخنک ٹھنڈی ٹھار ہواؤں کے مزے لوٹیں گے۔ اگر بھنبھناتے مچھروں نے سونے دیا تب نا۔ میری بات کا ترکی بہ ترکی جواب دیتی ہوئی میری بیگم بولی۔ کبھی کبھی ازراہ تفنن میں اپنی بیگم کو بے غم بھی کہہ دیا کرتا ہوں۔ میں اسے اچھے برے بہت سے ناموں سے پکارتا ہوں۔ اس نے میری اس حرکت کا کبھی بھی برا نہیں منایا۔ آج میں نے اسے بیگم کی بجائے بے غم اسلئے کہا کہ کھلے آسمان کے نیچے کھلی فضا میں شب بسری کیلئے مچھر دانیاں، جسم پر ملنے کیلئے مچھر بھگاؤ لوشن اور مچھروں کو دور رکھنے کیلئے ان کو ناگوار گزرنے والی دھونی، غرض مچھروں اور ساون کے برستے کیڑوں کی یلغار سے ہم جملہ دستیاب دفاعی ہتھیاروں سے لیس ہو کر اپنی اپنی مچھر دانیوں میں گھس گئے۔ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے چل رہے تھے۔ آسمان پر کالی گھٹاؤں کے مرغولے چندا ماموں سے آنکھ مچولی کھیل رہے تھے۔

چندا ماموں دور کے، کھوئے پکائے چور کے

آپ کھائیں تھالی میں، چندا کو دیں پیالی میں

چندا گیا روٹھ، یوں پڑ گئی پھوٹ

چندا کے گھر جائیں گے، چندا کو منائیں گے

نانی یا دادی اماں سے یہ بالک ٹپہ سن کر ہم نے اپنے لاشعور کے کسی کونے کھدرے میں سنبھال رکھا تھا۔ سو آسمان پر بادلوں کی ٹولیوں کی چندا ماموں کیساتھ اٹکھیلیاں دیکھ کر ذہن کی پٹاری سے باہر نکل آیا یہ بالک ٹپہ اور گنگنا گنگنا کر سنانے لگا اپنی سی آواز میں ساتھ رکھی چارپائی کے مچھردانی کے حصار میں چھپی بیگم المعروف اپنی بے غم صاحبہ کو۔ سوچ رہا تھا کہ موصوفہ 68سال کے اس منے سے بچے کی یادداشت کی داد دے کر اس کا دل بڑھائے گی، لیکن وہ یوں خاموش لیٹی رہی جیسے وہ بیگم سے بے غم ہونے کا اسم بامسمی کردار ادا کر رہی ہو۔ سوچا اچھا نہیں لگا اسے میرا بالک ٹپہ سو میں ایک اور بین بجانے لگا اسے سنانے کیلئے۔ دیکھو جی یہ آسمان پر جو کالے کالے بادل ہیں نا۔ ہوا کے دوش پر ہزاروں میلوں کا سفر کرتے ہوئے یہاں پہنچے ہیں۔ یہ سمندر کی سطح سے اٹھنے والے آبی بخارات ہیں جو ٹھنڈے ہوکر برف کے چھوٹے چھوٹے ذرے بن کر ہوا میں تیرنے لگتے ہیں اور جب یہ آپس میں مل کر اتنے بڑے ہوجاتے ہیں کہ ان کے وزن کو ہوا سہار نہیں سکتی تو یہ زمین پر گرنے لگتے ہیں اور زمین والے خوشیوں سے پھولے نہ سماکر کہنے لگتے ہیں کہ آسمان سے باران رحمت کا نزول ہوگیا۔ اپنی بیگم لن ترانیوں کو خاطر میں کیا لاتی۔ اس کی ہاں یا ہوں کی بجائے ہمارے کانوں میں اس کے نسوانی خراٹوں کی آواز پہنچ کر ہمیں کیا بکواس کر رہا ہے۔ بس سو بھی جانا کا حکمیہ جملہ ادا کرنے لگی۔ ہم بے غم کے ہر غم سے آزاد خراٹوں کی آواز سن کر قہر درویش برجان درویش کے مصداق یوں چپ ہو رہے جیسے کبھی بولے ہی نہ ہوں۔ ہائے ری قسمت، کاش کوئی قدردان ہوتا اور سنتا رہتا ہمارے مواعظ حسنہ۔ بھلے سے داد نہ ملتی اس دماغ سوزی کی، ہاں ہوں میں جواب تو ملا ہوتا۔ آہ۔ ہم نے ٹھنڈی آہ بھری اور پہلو بدل کر دل ہی دل میں

رم جھم کے گیت ساون گائے بھیگی بھیگی راتوں میں

ہونٹوں پہ بات جی کی آئے بھیگی بھیگی راتوں میں

جیسے ساون کے گیت گنگنانے لگا اور پھر یوں لگا جیسے

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے

پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے

کے مصداق آسمان پر اڑتے بادلوں نے سن لی ہو ہمارے دل کی بات۔ رم جھم پھوار بن کر برسنے لگے کالے بادل۔ بارش!! بیگم نے ہڑبڑا کر کہا۔ لیکن میں نے ایک ہاتھ دو دوسرے ہاتھ لو کے مصداق بدلہ لینے کی ٹھانی اور اس کی اس ہڑبڑاہٹ کے جواب میں کچھ بھی بولنا مناسب نہ سمجھا۔ وہ مچھر دانی نامی کچھار سے نکلی اور جو ہاتھ میں آیا اُٹھا کر چھپر چھت کے نیچے پناہ لینے کو بھاگی۔ بھاگتی رہے، یا بھاگ ہی جائے، بے ذوق کہیں کی۔ میں نے دل ہی دل میں سوچا اور رم جھم پھوار کا حظ اُٹھانے کیلئے جیسے تھا اور جہاں تھا کی بنیاد پر لیٹا رہنا مناسب سمجھا۔ غضب کا ساون ہے۔ دل ہی دل میں سوچنے لگا اور پھر یوں لگا جیسے کسی نے کہا ہو ''ٹھہر ذرا چکھاتے ہیں تمہیں مزا ساون رت سے پینگیں بڑھانے کا''۔ رم جھم پھوار نے موسلا دھار بارش کا روپ دھارا اور پھر آسمان پر تیرتا سمندر نالے اور پرنالے بن کر شہر بھر کو بہا کر لے جانے کی قسم پوری کرنے لگا، یا اللہ خیر۔ بوریا بسترہ، مچھر دانیاں، دھونی والی بتیاں اور جانے کیا کچھ دھرے کا دھرا رہ گیا اور ہم اپنی گھر والی کو یوں پکارتے اس کے چھاؤں چھپر میں پناہ لینے کو بھاگے جیسے قیامت آگئی ہو قیامت سے پہلے۔ سارا شہر جل تھل کا میدان بن چکا ہوگا۔ بی آر ٹی کی تخریبات پر کیا گزری ہوگی ہمیں اس سے کچھ غرض نہیں تھی ہمیں فکر لاحق ہوگئی تھی اس جھونپڑی کی جو واپڈا ٹاؤن کے پلاٹوں میں جمع ہو جانے والے پانی میں گھٹنوں گھٹنوں دھنسی الحفیظ والامان کا ورد کر رہی تھی۔ صرف میرے زیر تعمیر مکاں کی نہیں تھی یہ ناگفتہ بہ حالت زار سب ہی نالاں تھے شہر کے ہنگاموں سے بھاگ کر جنگل میں منگل منانے کے آرزومند۔ اوپر تلے کی اس ساون برسات نے بہتوں کے مکان کی بنیادوں کو نقصان پہنچایا۔ اخبار کی خبروں میں چھتیں گرنے اور ڈوب مرنے کی خبریں شائع ہونے لگیں جن میں ایک خبر میں واپڈا ٹاؤن کے مکینوں نے پلاٹوں میں جمع ہو جانے والے پانی کو ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے جی ٹی روڈ کو بلاک کرنے کی دھمکی دے دی مگر حق دوستی ادا کرنے کے دعوے داروں کے کانوں پر تادم تحریر کوئی جوں تک نہیں رینگی

مجھے دوست کہنے والے ذرا دوستی نبھا دے

مطالبہ ہے حق کا کوئی التجا نہیں ہے

متعلقہ خبریں