Daily Mashriq


تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے

تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے

پشتو زبان کا ایک محاورہ ہے ''خولہ ہم قلعہ دہ ہم بلا''۔ یعنی یہ زبان ہی ہے جو انسان کو محفوظ بھی رکھتی ہے اور اسے نامراد ی کی اتاہ گہرائیوں میں بھی گرا دیتی ہے، سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کے بارے میں خبر آئی ہے کہ انہوں نے گزشتہ روز میاں نوازشریف کیساتھ اڈیالہ جیل میں ملاقات کی کوشش کی مگر سابق وزیراعظم نے اس ملاقات کا پیغام مسترد کرتے ہوئے جواب میں کہلوا دیا کہ ''آپ کی محبتوں اور نیک تمناؤں کا شکریہ''۔ اب ہم یہ تو نہیں جانتے کہ میاں نواز شریف نے جو الفاظ ان کی خواہش کے جواب میں جوابی پیغام کے طور پر استعمال کئے ہیں ان میں طنز پوشیدہ تھا یا پھر وہ صدق دل سے یہی کچھ کہنا چاہتے تھے۔ اس حوالے سے ہمیں خود چوہدری نثار علی کی ان تقریروں، پریس کانفرنسوں اور بیانات سے رجوع کرنا پڑے گا جو گزشتہ لگ بھگ ایک سال کے دوران اپنی سابقہ پارٹی اور ممدوح کے حوالے سے اپنی ''زبان مبارک'' کی وساطت سے بطور تبصرہ سامنے لاتے رہے ہیں اور بار بار یہ ارشاد فرماتے رہے کہ میں تو نواز شریف کو اس صورتحال تک پہنچنے سے بچانے کیلئے مشورے دیتا رہا مگر وہ ہی مان کر نہیں دے رہے تھے، بعض تجزیہ کاروں کے مطابق میاں نواز شریف کے اردگرد موجود بعض ہارڈ لائنرز جنہیں دوسرے الفاظ میں ہاکس (Hawks) بھی کہا جاتا ہے انہیں بیک فٹ پر جانے کی راہ میں مزاحم تھے گویا دیکھا جائے تو دونوں طرف تھی''آگ'' برابر لگی ہوئی یعنی نہ میاں نواز شریف اپنی زبان پر قابو رکھنے کو تیار تھے نہ چوہدری نثار موصوف پہلے تولو پھر بولو کے اصول پر یقین رکھتے تھے، یوں دونوں کی راہیں جدا ہونا ایک فطری امر تھا۔ اس پر ہمیں ہندکو زبان کا ایک محاورہ یاد آگیا ہے جو دانائی کا مرقع ہے کہ ''گہل کہندی اے تو منوں مونہتوں کڈ تے میں تنوں شہروں کڈ نی آں''۔ یعنی بات کہتی ہے تو مجھے منہ سے نکال، میں تجھے شہر سے نکال دیتی ہوں۔ یعنی بقول مرزا غالب

ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے

تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے

اس پر ہمیں میر تقی میر یاد آگئے جو گفتگو میں انتہائی محتاط تھے، شاید انہوں نے بھی سن رکھا ہوگا کہ عقلمند وہ ہوتا ہے جو دوسروں کی زیادہ سنتا ہے اور خود کم کم ہی بولتا ہے یا پھر یہ کہ پہلے تولو پھر بولو کے اصول کے قائل تھے تاہم ان کی خموش رہنے کی خاصیت میں زیادہ اہم کردار ان کی اپنی زبان کا تحفظ تھا، وہ ہر ایرے غیرے کیساتھ گفتگو میں بہت محتاط رہتے تھے، ایک بار انہیں دہلی سے لکھنؤ کا سفر درپیش تھا، ان دنوں سفر زیادہ تر بگھیوں (ایک قسم کا تانگہ) کے ذریعے ہوتا تھا، ان کا ایک ہمسفر عام سا دیہاتی شخص تھا جو سارے راستے میں دیہاتی لہجے میں اُردو زبان بول بول کر اس کا حلیہ بگاڑ رہا تھا، جواب میں میر تقی میر صرف ہوں ہاں کر کے یا سر ہلا کر رہ جاتے۔ جب وہ شخص منزل مقصود پر پہنچنے کے بعد اُترنے لگا تو اس نے میر تقی میر سے کہا، عجیب شخص ہو اتنے لمبے سفر میں میری کسی بات کا جواب تک نہیں دیا، میر صاحب جو پہلے ہی اس شخص کی فضول گفتگو سے اکتائے ہوئے تھے، کہنے لگے میاں ہم نے کرایہ سفر کا دیا ہے تمہاری فضول گفتگو سننے اور اپنی زبان خراب کرانے کا نہیں۔ میری تقی میر، زبان، بیان، فصاحت اور ندرت زبان کے حوالے سے بہت ہی محتاط تھے، جب لکھنؤ میں وہ ایک مشاعرے میں گئے اور لوگوں نے ان کی ظاہری پوزیشن کا مذاق اُڑانا شروع کیا تو اپنی جانب شمع محفل آنے پر کیا خوب فرمایا کہ وہاں ہر شخص کی زبان گنگ ہوگئی

کیا بود وباش پوچھو ہو پورب کے ساکنو

ہم کو غریب جان کے ہنس ہنس پکار کے

دلی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب

رہتے تھے منتخب ہی جہاں روزگار کے

اس کو فلک نے لوٹ کے ویران کر دیا

ہم رہنے والے ہیں اسی اُجڑے دیار کے

اس کے بعد لکھنؤ کے لوگوں کا کیا حال تھا یہ بھی ادبی تاریخ ہے، بہرحال بات ہو رہی تھی چوہدری نثار علی خان اور میاں نواز شریف کے باہمی تعلقات کی، جن پر آج کل خزاں کے سائے منڈلاتے دکھائی دے رہے ہیں حالانکہ چھوٹے میاں یعنی شہباز شریف آخری وقت تک اس کوشش میں تھے کہ چوہدری نثار علی خان کو پارٹی کا ٹکٹ دے کر انتخابی میدان میں اُتار دیا جائے کہ وہ ٹکٹ کیلئے درخواست دیں گے نہ ہی کبھی انہوں نے ماضی میں ایسی کوئی درخواست دی ہے اور اس کے بعد ایک آدھ مزید بیان میں انہوں نے خود میاں نواز شریف پر اعتراض کرنے کیساتھ ساتھ تواتر کیساتھ مریم نواز کی ''نوکری'' کرنے سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ مریم کی قیادت کوکبھی تسلیم نہیں کریں گے۔

بات یہیں تک رہتی تو کوئی بات بھی تھی مگر آزاد امیدوار کے طور پر انہوں نے اپنے انتخابی جلسوں میں جو زبان استعمال کی اس سے جہاں رعونت کی بو آرہی تھی وہیں لیگ (ن) اور دوسری جماعتوں کو چیلنج بھی کرتے رہے، اسی کا نتیجہ تھا کہ قومی اسمبلی کی دونوں نشستیں ہار گئے جبکہ صوبائی اسمبلی کی نشست بڑی مشکل سے بچا پائے۔ اسی لئے توکہتے ہیں کہ پہلے تولو، پھر بولو۔ بقول منیر نیازی

کجھ انج وی راہواں اوکھیاں سن

کجھ گل وچ غم دا طوق وی سی

کجھ شہر دے لوک وی ظالم سن

کجھ مینوں مرن دا شوق وی سی

متعلقہ خبریں