Daily Mashriq

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی بدترین ریاستی دہشت گردی

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی بدترین ریاستی دہشت گردی

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی جاری ہے اور قابض فورسز نے بین الاقوامی انسانی قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے مزید 7کشمیری نوجوانوںکو شہیدکر دیا ہے' پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق بھارتی فوج نے 30اور 31جولائی کی رات وادی نیلم میں معصوم شہریوں کو کلسٹر بموں سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 4سالہ بچے سمیت 2افراد شہید اور 11افراد شدید زخمی ہو گئے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بھارتی سکیورٹی فورسز جان بوجھ کر شہری آبادی کو کلسٹر بموں سے نشانہ بنا رہی ہیں' کلسٹر بموں کا استعمال کر کے بھارتی فوج جنیوا کنونشن اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی مرتکب ہو رہی ہے۔ بھارتی فوج کی جانب سے تمام بین الاقوامی اقدار کو بالائے طاق رکھتے ہوئے شہری آبادیوں پر ممنوعہ ہتھیاروں کا استعمال بھارت کے مکروہ چہرے اور اخلاقی اقدار کو بے نقاب کرتا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹرفیصل کے مطابق رواں سال بھارت نے 1824ویںبارجنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی جس کے نتیجے میں 16افراد شہید جب کہ 105زخمی ہوئے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارتی فورسز کی جانب سے کلسٹر بموں کے استعمال کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے فیصلہ کیاہے کہ بھارت کی جانب سے کلسٹر ایمونیشن کے استعمال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کے سفیروں کو بریفنگ دی جائے ' وزیر خارجہ نے بتایا کہ نہتے کشمیریوں پر بھارتی فورسز کے حالیہ مظالم اور کلسٹر ایمونیشن کے استعمال بارے اقوام متحدہ کو خط لکھ دیا گیا ہے جب کہ تمام تر ظلم و جبرکے باوجود مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بھارت کے ہاتھ سے نکل چکی ہے' تمام تر بھارتی ہتھکنڈوں کے باوجود مسئلہ کشمیر پرپاکستان کا مؤقف سنا جا رہا ہے۔ یہی مناسب وقت ہے کہ پاکستان کی قیادت کو اس موقع پر روایتی مذمت کی بجائے عالمی برادری کو بھر پور طریقے سے باور کرانا چاہئے کہ کس طرح طاقت کے نشے میں دھت بھارت نہتے کشمیریوں پر مظالم ڈھا رہا ہے،وزارت خارجہ کی جانب سے سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کو خط لکھنے کے بعد پاکستان کی طرف سے یہ مطالبہ بھی کیا جانا چاہئے کہ اقوام متحدہ اپنی نگرانی میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے کشمیریوں پر مظالم کا سروے کرائے کیونکہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں چند روز قبل 10ہزار فوجیوں کی تعیناتی کی گئی جس کے محض ایک ہفتہ بعد مزید 28ہزار فوجی تعینات کر دیے گئے' مجموعی طور پر38 ہزار فوجیوں کی تعیناتی میں 280سے زیادہ کمپنیوں کی پیراملٹری فورسز وادی میں تعینات ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں فوج کی تعیناتی کا فیصلہ بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دیول کی مقبوضہ کشمیر کے دورے سے واپسی کے فوری بعد آیا جس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ہے ۔بھارتی سرکار کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں مزید فوج کی تعیناتی کے احکامات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس پیش کش کے بعد جاری کیے گئے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اس تنازعہ پر ثالثی کے لیے تیار ہیں۔ امرواقعہ یہ ہے کہ بھارت نہتے کشمیریوں پر کھلی ریاستی دہشت گردی کا مرتکب ہو رہا ہے ' بھارت عالمی برادری کی نگرانی میں صلح صفائی کے ساتھ مسئلہ کشمیر کاپرامن حل نکالنے کی بجائے اس کا جواب نہتے کشمیریوںپرمظالم کی صورت دے رہا ہے' اس سے قبل بھارتی فورسز کی جانب سے پیلٹ گن سے بھی شہریوںکو نشانہ بنایا جا چکا ہے جس میں درجنوں شہری اور معصوم بچے آنکھوں کی بینائی سے محروم ہو چکے ہیں۔ اب کی بار بھارتی فورسز نے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے کلسٹر ایمونیشن کا استعمال کیا ہے۔ کلسٹر بم فضا یا زمین سے پھینکنے جانے والے گولوں کی ایک قسم ہے جس کے اندر چھوٹے چھوٹے مزید گولے موجود ہوتے ہیں ۔ یہ گولہ جب پھینکا جاتا ہے تو اس سے نکلنے والے مزید چھوٹے گولے وسیع علاقے میں جانی نقصان اور گاڑیوں کو تباہ کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ یہ گولے حملے کے وقت بھی اور بعد ازاں بھی سول آبادیوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں کیونکہ نہ پھٹنے والے گولوںکو اگر ہٹایا یا ناکارہ نہ بنایا جائے تو طویل عرصے بعد بھی یہ نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مئی 2008ء میں آئرلینڈمیںکلسٹر بموں پرہونے والے کنونشن کی توثیق کرنے والے ممالک پراس بم کے استعمال کی پابندی عائد ہے جب کہ 2010ء سے اس پر پابندی انٹرنیشنل قوانین کا حصہ ہے۔ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں فورسز میں اضافہ اور کلسٹر ایمونیشن کا استعمال اس بات کی علامت ہے کہ بھارت بدحواسی کا شکار ہے اور بدحواسی کے عالم میں بڑی کارروائی کا ارادہ رکھتا ہے جس کی وہ اپنے تئیں اندرون خانہ تیاری کر چکا ہے۔ اس مقصدکے پیش نظر بھارت کی جانب سے سیاحوں اور ہندو زائرین کو فوری طور پر مقبوضہ کشمیر چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے جب کہ گزشتہ کئی ماہ سے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 35 اے اور آرٹیکل 370کے خاتمے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ جس پر مقبوضہ کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ او رمحبوبہ مفتی سمیت حریت قیادت اور کشمیری عوام شدید تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔ یاد رہے پاکستانی آئین اور بھارتی آئین کے آرٹیکل 35اے جہاں ریاست کی آزاد حیثیت کو برقرار رکھنے کا تقاضا کرتاہے وہاںپر ریاست کی حیثیت کا تعین بھی کرتا ہے۔ بھارتی آئین میں جموں و کشمیر کی خصوصی شہریت کے حق سے متعلق موجود دفعہ 35اے کے مطابق جموں و کشمیر کی حدود سے باہر کسی بھی علاقے کا شہری ریاست میں منقولہ و غیر منقولہ جائیداد کا مالک نہیں بن سکتا' یہاں نوکری حاصل کر سکتا ہے اور نہ ہی اسے یہاں سرمایہ کاری کا اختیار حاصل ہے ۔بھارت کے لیے اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے یہ آرٹیکل رکاوٹ ہے اس لیے بھارتی سرکار سرے سے اس آرٹیکل کوہی ختم کر دینا چاہتی ہے۔ اس ضمن میں دیکھنا ہو گا کہ بھارتی سپریم کورٹ تمام آئین وقانون اور اصول و ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر بھارتی سرکار کے حق میں فیصلہ کرے گی یا آئین و قانون کے مطابق فیصلہ دے گی؟ ان حالات میں عالمی برادری کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بھارت کی بڑھتی ہوئی ریاستی دہشت گردی کو دیکھتے ہوئے کشمیری عوام کا ساتھ دے 'بھارتی فورسز کے مظالم کا نوٹس لے ' عالمی برادری کے پیشِ نظر یہ امر بھی ہونا چاہیے کہ اگر بھارتی سرکار طاقت کے نشے میں کشمیری عوام کی امنگوں کے خلاف کوئی فیصلہ کرتی ہے تو کشمیری عوام اسے ہرگز قبول نہیں کریں گے اور یوں مقبوضہ کشمیر میں تشدد و جبر کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔

متعلقہ خبریں