Daily Mashriq

بارشوں سے نقصان کے ازالہ کی ضرورت

بارشوں سے نقصان کے ازالہ کی ضرورت

امسال مون سون کے موسم میں پورے ملک میں خوب بارشیں ہو رہی ہیں' مسلسل طوفانی بارشوں کے نتیجے میں شہری و دیہی علاقے زیر آب آنے کی وجہ سے نقصان کی اطلاعات ہیں۔ شمالی وزیرستان میں طوفانی بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی سے خدر خیل کے شگہ نامی بازار میں 60دکانوں کا پانی میں بہہ جانے کا افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔ اسی طرح ٹانک اور کرک میں متعدد مکانات پانی سے منہدم ہو گئے جب کہ کئی افراد سیلابی ریلے میں بہہ جانے سے جاں بحق ہو ئے۔ بارش کے باعث پشاور شہر کے نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے 'سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں ، کئی گھروں میں پانی داخل ہو گیا جب کہ یونیورسٹی روڈ ' خیبر روڈ ' سرکلر روڈ ' گلبہار ' حیات آباد اور اسمبلی کے سامنے سڑک پرپانی کھڑا ہونے کے باعث بدترین ٹریفک جام ہو گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ مون سون کی طوفانی بارشوں سے زیادہ تر وہ علاقے متاثر ہوتے ہیں جو نشیبی ہوتے ہیں 'دیہی آبادیوں میں آج کے جدید دور میں بھی کچے مکانات بنانے کا رجحان ہے جس کی بنیادی وجہ غربت اور پسماندگی ہوتی ہے' اس لیے مسلسل بارشوں کی وجہ سے کچے مکانات کی چھتیں گر جاتی ہیں یا پورے کا پورا مکان منہدم ہو جاتا ہے' یوں مکان کے ساتھ ساتھ اس میں رہائش پذیر بھی متاثر ہوتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جن لوگوں کی زندگی بھر کی جمع پونجی بارشوں کی نذر ہو گئی ہے' وفاقی اور صوبائی سطح پر ان متاثرین کے زخموں پر مرہم رکھا جائے ۔ اگرچہ بڑے پیمانے پرنقصان کا ازالہ تو مشکل ہو گا لیکن حکومت کی جانب سے کم از کم اس قدر ضرور تعاون ہونا چاہیے کہ جس سے غریب اورمحنت کش سر ڈھانکنے کے لیے چھت بنا سکیں۔

پشاور ہائی کورٹ کا احسن اقدام

ماتحت عدالتوں کی کارکردگی ' ساکھ اور کیسز میں حد سے زیادہ طوالت پرسائلین' ماہرین قانون سمیت سابق چیف جسٹس صاحبان کی طرف سے بھی متعدد بار سوال اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ ماتحت عدالتوں میں کیسز کی طوالت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بعض کیسز میں باپ کی طرف سے دائر کردہ کیس کا فیصلہ بیٹے کی جوانی یا پوتے کی زندگی میں ہوا' یہ ماتحت عدلیہ کی کارکردگی کے تلخ حقائق ہیں جس سے کسی کو مفر نہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ماتحت عدلیہ کی کارکردگی پرسوالات تو تقریباً ہر دور میں اٹھائے جاتے رہے ہیں لیکن اصلاح احوال کی کوششیں کم کم ہی کی گئیں ،اس سلسلے میں پشاور ہائی کورٹ نے بڑا اقدام اٹھایا ہے اور مبینہ طور پر اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام پر سینئر سول جج کو ملازمت ' تین ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کی تنزلی اور تین ریٹائرڈ ججز کی پنشن روکنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ نظام انصاف کی بہتری میں یہ ایک اہم پیشرفت ہے کیونکہ جب عام شہریوں کو یہ معلوم ہو گا کہ قانون شکنی کی صورت میں ججز کو بھی سزا ہو سکتی ہے تو وہ قانون شکنی سے گریز کریں گے ۔پشاور ہائی کورٹ کی طرف سے ماتحت عدلیہ کے 7ججز کے خلاف اٹھائے جانے والے اقدام کی تحسین کی جانی چاہئے، پشاورکورٹ کے اس اقدام کے بعد یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ اب وہ وقت دور نہیں جب ہر شہری کو فوری اور سستا انصاف اس کی دہلیز پر ملے گا۔

متعلقہ خبریں