Daily Mashriq

خریدار کو سزا کون دے گا۔۔۔۔؟

خریدار کو سزا کون دے گا۔۔۔۔؟

سینیٹ چیئر مین صادق سنجرانی کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد ناکام ہو گئی،اپوزیشن کے حمایت یافتہ حاصل بزنجو کو 50ووٹ ملے ،صادق سنجرانی کو 45 جبکہ 5ووٹ مسترد ہوئے، اپوزیشن نے الزام عائد کیا ہے کہ دھاندلی زدہ الیکشن کی تاریخ دہرائی گئی ہے جبکہ حکومت اس بات پر خوش ہے کہ وہ اپوزیشن کی تمام جماعتوں کا مقابلہ کرنے میں کامیاب ٹھہری اور اسے سیاسی محاذ پر شکست کا سامنا نہیں کرنا پڑاہے ،اپوزیشن کی شکست کے بعد پیپلزپارٹی کے سینیٹرز نے چیئرمین بلاول کے پاس اپنے استعفے جمع کرا دیئے ہیں اور اپوزیشن کی جانب سے اس مسئلے کا منطقی حل نکالنے کیلئے اے پی سی کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ اپوزیشن کے مطابق انہیں سینیٹ میں واضح اکثریت حاصل تھی جس میں اپوزیشن کے 65ارکان جبکہ حکومت کو 35ارکان کی حمایت حاصل تھی اس کے باجود اپوزیشن کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تو اس کا واضح مطلب یہ ہوا کہ اپوزیشن کے 14سے 15 سینیٹرز پارٹی کے برخلاف ووٹ دیا ہے ،حکومت اسے ضمیر کی آواز پر لبیک کہنے سے تعبیر کر رہی ہے جبکہ اپوزیشن اسے ضمیر فروشی کا نام دے رہی ہے کہ پیسوں کے لالچ میں بعض سینیٹرز نے اپنے ضمیر کا سودا کیا ہے۔ کچھ دن پہلے ہی ایک سینیٹر نے انکشاف کیا تھا کہ سینیٹ الیکشن کے موقع پر بالخصوص تحریک عدم اعتماد کے موقع پر ایک ایک سینیٹر کروڑوں میں بکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں اندر کا حال خوب جانتا ہوں۔ الیکشن کے بعد تو پورا ملک ہی جان گیا ہے کہ سینیٹرز کی خریدوفروخت کے ذریعے تحریک کے نتائج میں تبدیلی کی گئی ہے کیونکہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے صرف 53 ووٹوں کی ضرورت تھی جبکہ تحریک عدم اعتماد پر 64 سینیٹروں کے دستخط تھے اور یہ سب جمعرات کو ایوان میں موجود تھے لیکن کسی نے کرشمہ دکھایا اور ووٹ ادھر سے ادھر ہو گئے۔ یہ بلا وجہ تو نہیں تھا کہ وزیر اعظم عمران خان چیئر مین سینیٹ صادق سنجرانی کی پیٹھ ٹھونک رہے تھے اور ان کے تمام حواری یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ تحریک عدم اعتماد ناکام ہوگی۔ ایسا ہی ہوا لیکن خرید وفروخت کے عمل سے پورا ایوان بالا عدم اعتماد کی زد میں آگیا۔ ایسے ایوان پر کیسے اعتماد کیا جا سکتا ہے جس میں اکثریت بکائو مال ہو۔ اب تحقیق ہوتی رہے گی کہ کون کون بکا ، لکیر پیٹتے رہیے۔ گو کہ چیئر مین سینیٹ کی تبدیلی سے عوم اور ان کے مسائل کا کوئی تعلق نہیں ، عوام کا مسئلہ تو روز بڑھتی ہوئی مہنگائی ہے جس کا کوئی علاج حکمرانوں کے پاس نہیں۔ انہوں نے صرف ایک وعدہ پورا کیا ہے کہ مہنگائی اتنی بڑھے گی کہ لوگوں کی چیخیں نکل جائیں گی۔ اور ایسا ہی کر دکھایا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان اٹھتے بیٹھتے دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کو اوپر اٹھائیںگے اس دوران کتنے ہی پاکستانی غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر اوپر جا چکے ہیں۔ راتوں رات لاکھوں افراد غربت کی لکیر سے نیچے ، بہت نیچے جا گرے ہیں۔ ان کی بلا سے سینیٹ کا چیئرمین صادق سنجرانی رہے یا حاصل بزنجو ۔جماعت اسلامی کو اپوزیشن جماعتوںکی جانب سے مورد الزام ٹھہرایا گیا گو کہ اس کے صرف دو سینیٹرز ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ جماعت اسلامی اس ڈرٹی گیم سے دور رہی۔ سینیٹ کے ارکان کی کل تعداد 104 ہے۔ ان میں سے کسی نے یا تو ابھی حلف نہیں اٹھایا یا کوئی ملک سے باہر تھا۔ چنانچہ جمعرات کو کل100 ارکان ایوان میں موجود تھے ان میں سے 64 وہ تھے جنہوں نے تحریک عدم اعتماد پر دستخط کر رکھے تھے چنانچہ یہ یقینی تھا کہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو جائے گی۔ اسی لیے صادق سنجرانی نے ایک دن پہلے ہی فائلیں اور ضروری اشیاء گھر بھجوا دی تھیں۔ حکومت کی یقین دہانیوں کے باوجود ان کی گھبراہٹ غیر متوقع نہیں تھی۔ شاید اسی لیے چیئرمین سینیٹ نے پہلے اپنے خلاف ہی ووٹ دے دیا اور غلطی کا احساس ہونے پر اسے پھاڑ کر دوسری پرچی حاصل کی۔ کئی سینیٹروں کے ووٹ ضائع ہوئے یا انہوں نے ضائع کردیے لیکن اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایوان بالا کے ان معزز ارکان کو صحیح طرح ووٹ ڈالنا ہی نہیں آتا، ایسے لوگ قانون سازی یا قومی اسمبلی سے منظور ہونے والے کس بل کے بارے میں کیا فیصلہ کر سکیں گے؟

تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری خفیہ طریقے سے کی گئی جس کی وجہ سے سینیٹروں کو اپنی وفاداریاں تبدیل کرنے کا نادر موقع مل گیا۔ یہ کام خفیہ طریقے سے نہ ہوتا تو گھوڑوں کے تاجروں کو دشواری ہوتی اور لوٹوں کو شرم آتی جنہوں نے اپنی اپنی پارٹیوں کے فیصلوں سے انحراف کیا۔ ایسے 14 ارکان کی تلاش جاری ہے یوں متحدہ حزب اختلاف کے مقابلے میں حکومت جیت گئی جو سنجرانی کے ساتھ تھی۔لیکن ایک پہلو کی جانب کوئی غور نہیں کیا جا رہا ہے کہ آخر ان 14سینیٹرز کا خریدار کون تھا؟ضمیر فروشوں کے خلاف پارٹی کارروائی کی مجاز ہے لیکن جس نے خریدا ہے اس کے خلاف کبھی کوئی کارروائی عمل میں کیوں نہیں لائی جاتی؟ سیاسی جماعتوں کو اس بارے غور کرنے کی ضرورت ہے۔گو کہ سینیٹ میں تحریک انصاف کے ارکان کی تعداد بہت معمولی ہے اور سنجرانی کو چیئرمین بنانے کے لیے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے ووٹ دیے تھے ورنہ ان کی اپنی پارٹی مضبوط نہیں ہے۔ یہ بھی عجیب تماشا ہے کہ یہی پارٹیاں بہت جلد سنجرانی کے خلاف کھڑی ہوگئیں لیکن منہ کی کھانی پڑی۔ گو صادق سنجرانی سے کسی کو کوئی شکایت نہیں تھی اور وہ ایوان کو بخوبی چلا رہے تھے لیکن حکومت کو زک دینے کے لیے یہ کھیل رچایا گیا جو الٹا پڑ گیا جو بحرانوں میں گھری اور مسائل کی شکار حکومت کے ہاتھ مضبوط کر گیا۔ ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد ناکام ہوگئی جو حکومت کی طرف سے جوابی کارروائی تھی۔ گو کہ سنجرانی کا تعلق تحریک انصاف سے نہیں لیکن پوری حکومت ان کے پیچھے کھڑی تھی اور اپوزیشن کی اس ناکامی سے حکومت کو من مانی کرنے کی کھلی چھوٹ مل گئی۔ سینیٹ میں ایک سنجرانی سب پر بھاری کے نعرے لگے (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں