Daily Mashriq

پن بجلی اور نفرتوں کے بیج

پن بجلی اور نفرتوں کے بیج

بزرگوں سے ایک واقعہ سنا ہے کہ آزادی کے بعد ایک شخص تھری ناٹ تھری بندوق کندھے سے لٹکا کر جا رہا تھا' سڑک کنارے کھڑے سپاہی نے اس کو روک کر کہا' اس کا لائسنس ہے تمہارے پاس' اس دور میں دو تین قسم کی بندوقیں عام تھیں' ایک تو شارٹ گن تھی' دوسری پانچ گولیاں چلانے والی جسے عوامی زبان میں پنج ڈزی کہتے تھے اور سب سے زیادہ خطرناک تھری ناٹ تھری تھی جس کے چیمبر میں 11گولیاں سما سکتی تھیں۔ تھری ناٹ تھری اٹھا کر جانے والے نے سپاہی کو ایک لمحے کے لئے گھورا اور پھر بندوق کمر سے اتار کر اس کی نالی کا رخ سپاہی کی طرف کرتے ہوئے جواب دیا' اس کا لائسنس اس کی نالی کے اندر ہے' چاہو تو ٹریگر دبا کردکھا دوں! بے چارہ سپاہی گھبرا کر پیچھے ہٹ گیا اور خوفزدہ لہجے میں بولا' نہیں کوئی ضرورت نہیں' بس ٹھیک ہے۔ غالباً ایسے ہی واقعات کے تانے بانے پشتو زبان کی بعض کہاوتوں کے ساتھ جا کر ملتے دکھائی دیتے ہیں یعنی وہ جو پشتو میں کہتے ہیں کہ زبردست کا بیل اونچائی پر بھی چڑھ جاتا ہے' غالباً اردو میں اسے '' زبردست کاٹھینگا سر پر'' والی صورتحال سے تشبیہہ دی جاسکتی ہے۔ تو واپڈا بھی اس ملک کا ایک ایسا ' زبردست'' یعنی طاقتور ادارہ ہے جس کاجادو چھوٹے صوبوں کے سر چڑھ کر بولتا رہتا ہے' اس حوالے سے جس کا تذکرہ آگے کی سطور میں سامنے آرہا ہے راقم گزشتہ کئی برس سے اپنے کالموں اور اظہاریوں (مختلف اخبارات کے اداریوں) میں لا تعداد بار تذکرہ کرکے صوبہ خیبر پختونخوا کے موقف کی تائید و حمایت کرتا آرہا ہے بحیثیت ایک قلم کار یہ راقم پر اپنے صوبے کا وہ قرض ہے جو عرصہ دراز سے اتارنے کی اپنی سی کوشش کر رہا ہوں۔ کوئی مانے یا نہ مانے' اس حق کو تسلیم کرے یا نہ کرے ' اس سے مجھے کوئی غرض نہیں۔ تاہم میرا ضمیر مطمئن ہے کہ اپنے صوبے کے جائز حق کی جنگ سب سے زیادہ لڑ چکا ہوں اور اب بھی لڑ رہا ہوں اورجب تک سانس تب تک آس آگے بھی اپنی کوششیں جاری رکھوں گا۔

وہ مری سوچ سے خائف ہے تو اس سے کہنا

مجھ میں اڑتے ہوئے طائر کو تہہ دام کرے

تازہ ترین خبر کے مطابق واپڈا نے خیبر پختونخوا حکومت کو پن بجلی کے خالص منافع کی ادائیگی کے حوالے سے طے پانے والے اے جی این قاضی فارمولے کے بنیادی ڈھانچے کو خامیوں پر مبنی قرار دیتے ہوئے اسے '' غیر آئینی '' اور ناقابل عمل قرار دیا ہے۔ اس بات کا انکشاف سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پانی و بجلی کے حالیہ اجلاس کے جاری ہونے والے منٹس میں ہوا ہے جبکہ کمیٹی کے ممبران نے واپڈا کی جانب سے مشترکہ مفادات کونسل کے اندر تسلیم شدہ فارمولے کو غیر آئینی قرار دینے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واپڈا حکام کو وضاحت پیش کرنے کے لئے کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں طلب کرلیا ہے' نعیم ضرار نے کہا تھا

یہ سڑک کب کی جا رہی ہے کہیں

پھر بھی موجود ہے وہیں کی وہیں

واپڈا کے اندر جو طاقتور لابی موجود ہے اس کی طاقت کا سر چشمہ ایک مخصوص لسانی طاقتور گروہ ہے جو ملکی وسائل کو صرف ایک خاص حصے تک محدود رکھنا چاہتا ہے اور یہ جواب اچانک اس پر یہ منکشف ہوگیا ہے کہ اے جی این قاضی فارمولہ سرے سے ہی غیر آئینی ہے حالانکہ اسی واپڈا نے صوبہ سرحد ( کے پی ) کے مسلسل مطالبات پر اے جی این قاضی کمیشن کی ثالثی کو قبول کیاتھا' کمیشن نے بڑی عرق ریزی سے دن رات ایک کرکے تمام تر جزئیات کو سامنے رکھتے ہوئے ایک فارمولہ طے کیا تو اسی واپڈا نے اس کو تسلیم نہ کرتے ہوئے عدالتوں کارخ کیا۔ طویل اور تھ کادینے والی عدالتی جنگ میں لوئر کورٹ سے مقدمہ ہارتے ہوئے بتدریج بڑی' پھر اس سے بڑی اور بالآخر سپریم کورٹ میں بھی بری طرح شکست سے د وچار ہونے کے بعد صدر مملکت ( غالباً تب غلام اسحاق ڈار صدر تھے) کی جانب سے اس معاہدے کو تحریری اور تصدیقی ضمانت فراہم کی گئی مگر وہ جو کہتے ہیں کہ زبردست کاٹھینگا سر پر تو واپڈا حکام نے اب تک اس کو دل سے تسلیم نہ کرتے ہوئے آج تک صوبے کو اس کا جائز حق دینے پر کوئی توجہ نہیں دی اور یوں توہین عدلت کامسلسل ارتکاب کر رہا ہے اور اب تو اس نے اے جی این قاضی کمیشن ہی کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اس پر سوال اٹھا دئیے ہیں۔ تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی مدت سے خیبر پختونخوا کو مختلف حیلوں بہانوں سے اس کے جائز قانونی حق سے محروم رکھتے ہوئے واپڈا نے یہ سوال پہلے کیوں نہیں اٹھایا کہ اے جی این قاضی فارمولہ غیر آئینی ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ آج تک مرکز اور خیبر پختونخوا میں مختلف حکومتیں رہی ہیں اور وفاق میں بر سراقتدار آنے والی کوئی بھی حکومت اسی خاص لابی کے زیر اثر خیبر پختونخوا کے حق کی ادائیگی پر تیار نہیں ہوتی تھی اور یہ مخصوص لابی جس طرح چاہتی پن بجلی منافع کی ادائیگی روک کر من مانی پر اتر آتی مگر اب کئی دہائیوں بعد تحریک انصاف کی حکومت نہ صرف خیبر پختونخوا میں دوسری بار ا قتدار سنبھالے ہوئے ہے بلکہ مرکز میں بھی یہی جماعت اقتدار میں ہے اور وزیر اعظم عمران خان نے وزیر اعلیٰ محمود خان کے ساتھ بار بار وعدہ کیاہے کہ صوبے کو اس کے جائز حق سے مزید محروم نہیں رکھا جائے گا مگر بد قسمتی سے اس وقت وہی مخصوص ذہنیت پھر اس معاملے میں '' ڈرائیونگ سیٹ'' پر وفاقی وزیر خسرو بختیار کی شکل میں براجمان ہے(باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں