Daily Mashriq

عشق کا انتقام

عشق کا انتقام

فرعون کے دل میں ذرہ برابر خوف خدا ہوتا تو وہ خدا ہونے کا دعوی نہ کرتا۔ لیکن اللہ تعالی کو یہ منظور تھا کہ وہ خدائی کا دعویٰ کرے ، اس نے فرعون کے گھر میں ننھے منے موسیٰ کو بھیجنا تھا، جس کی پرورش فرعون کی ملکہ آسیہ نے کرنی تھی اور اس ہی موسیٰ نے جس وقت جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنا تھا تو اس نے فرعون کے خدا ہونے کی دعویداری کی قلعی کھولنی تھی۔ ایمان والے کہتے ہیں کہ ہر کام اس کے حکم سے ہوتا ہے۔ مشیت قدرت کے بغیر ایک پتے کو بھی مجال جنبش نہیں۔

وقت کرتا ہے مدتوں پرورش برسوں

حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

فراعنہ مصر بہت سے تھے۔ مگر وہ فرعون جس نے خدائی کا دعوی کیا اور جس کے اس دعوی کو باطل قرار دینے کے لئے اور فرعون کو نشان عبرت بنانے کے لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھیجا گیا وہ ایک ہی تھا ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور اسکے لشکر جرار کو غرقاب کر کے نشان عبرت بنا دیا اور یوں دنیا والوں کو 'ہر فرعونے را موسیٰ است' کی ضرب المثل پتھر پر کھنچی ہوئی لکیر بن گئی ۔ اگر وہ چاہتا تو فرعون اور موسیٰ کے درمیان جاری رہنے والی کشمکش کے بغیر ہی فرعون کا کام تمام کر دیتا۔ دیکھا نہیں خدائی کا دعوی کرنے والے نمرود کو ایک مچھر کے ذریعے کیفر کردار کو پہنچادیا اس مسبب الاسباب اور قادر مطلق نے جو جواز پیدا کرتا ہے اور پھر اسباب پیدا کرتا ہے کسی کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے کا ۔ پاکستان بننے کا جواز دو قومی نظریہ تھا۔ لیکن پاکستان کے اثاثوں پر قبضہ کرنے والے اس کی دولت کو لوٹ کر بیرون ملک منتقل کرنے والے اوراس دولت کے بل بوتے نسل در نسل حکومت کرتے رہنے کے خواب دیکھنے والے یہ سمجھتے رہے کہ ہم یوں ہی اس ملک کے عوام کو بے وقوف بنا کر عنان حکومت پر اپنا قبضہ جمائے رکھیں گے۔ ملک کی تاریخ میں دھوکہ فریب اور محسن کش رویوں کے سبب اقتدار پر قبضہ جمانے کا آغاز اس روز سے ہوا جب ملک میں پہلا مارشل لاء لگا اوراسلامی جمہوریہ پاکستان کے سارے جمہوری خواب افواج پاکستان کے بوٹوں تلے روندے جانے لگے ۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کے اپنے عہد اقتدار کو برقرار رکھنے کے لئے جمہوریت پسند قوتوں کی آنکھ میں دھول ڈا ل کر ملک میں بنیادی جمہوریت کا نظام متعارف کرایا گیااور پھر اس ہی بی ڈی سسٹم کو آلہ کار بناکر افواج پاکستان کا سپہ سالار ملک کے تاج و تخت پر حکمرانی کے مزے لوٹنے لگا۔ پھر یوں ہوا کہ اس ہی فرعون کے محل میں پلنے والے موسیٰ نے اس کے عنان اقتدار کے تخت کو تختہ کردیا۔اس کھینچا تانی میں حکومت فوجی جرنیل یحییٰ خان کے ہاتھ میں آئی تو اس پشاوری فوجی جوان نے پہلی بار شفاف الیکشن کروا کر فوجی اقتدار کے تابوت میں کیل ٹھونک دی۔ لیکن افسوس کہ یہ کیل آخری ثابت نہ ہوئی۔ یحیٰ خانی دور کے شفاف الیکشن نے مجیب الرحمان کی جھولی میں مشرقی پاکستان اور ذولفقار علی بھٹو کے حصے میں مغربی پاکستان ڈال کر مملکت خداداد کو دو لخت کرنے کا جواز پیدا کردیا۔ ایسے میں مشیت ایزدی نے پشاور میں آکر بسنے والے افواج پاکستان کے سربراہ جنرل محمد ضیاء الحق کو ملک کے سفید وسیاہ کا مالک بنا دیا۔ کہتے ہیں کہ میاں نواز شریف ضیاء کی گود میں پل کر جواں ہوا اور جاگ پنجابی جاگ کا نعرہ لگاتا وزیر اعلیٰ پنجاب سے وزیر اعظم پاکستان کے منصب پر پہنچ کر مملکت خداداد کی املاکات اور اس کے اثاثہ جات کو اپنی صنعت و حرفت اور تجارت کے لئے استعمال کرنے لگا۔جب عمران خان نے شوکت خانم کینسر ہسپتال کے لئے نواز شریف سے امداد طلب کی تو انہوں نے عمران کو ہسپتال بنانے کے لئے زمین عطیہ کی اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ وہ سیاست میں آجائے، لیکن عمران نے شوکت خانم ہسپتال کی زمین کے بدلے بکنا پسند نہ کیا ، اس نے ہسپتال کی تعمیر کے لئے چندہ اکٹھا کرنا شروع کیا تو اسے شدید مشکلات پیش آئیں ، نواز شریف کے بعد بے نظیر کا دور آیا لیکن اسے ہسپتال کی تعمیر کے لئے مالی مشکلات پیش آئیں تو اس نے بے نظیر حکومت سے امداد طلب کی تو تب بھی اسے سیاست میں شامل ہونے کا کہا گیا ، لیکن اس نے انکا ر کردیا ، جس کے جواب میں ہسپتال کی تعمیر کے لئے اس کی جھولی میں مایوسیاں ڈالی جاتی رہیں ، جب اس نے سیاست دانوں کا یہ رویہ دیکھا تو وہ چندے کا بکسہ اٹھائے سیدھا پاکستانی قوم کے در احساس پر دستک دینے لگا، وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ پاکستانی کس قدر سخی ، فراخ دل اور درد دل رکھنے والے ہیں، پاکستانیوں نے اپنی جمع پونجیاں عمران کی جھولی میں ڈال دیں اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے اس نے شوکت خانم ہسپتال کی تعمیر کے خواب کو تعبیر کا روپ دے دیا، کہتے ہیں کہ جب ہسپتال بن گیا تو آصف علی زرداری نے اس کے افتتاح کرنے کی خواہش کا اظہار کیا لیکن عمران نے زرداری تو زرداری حکمرانوں کے روئیے کے پیش نظر بے نظیر تک کو بھی ہسپتال کی افتتاحی تقریب میں شریک ہونے کی دعوت نہ دی،اور ساتھ ہی عوام کے جوش اور جذبہ کو دیکھ کر اس نے سیاست میں آنے کی قسم کھا کرپاکستان تحریک انصاف بنانے کا عندیہ دے دیا،

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر

لوگ ساتھ آتے گئے اورکارواں بنتا گیا

(باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں