Daily Mashriq

تبسمِ ٹرمپ

تبسمِ ٹرمپ

امریکیوں سے معاملات طے کرتے ہوئے ہمیں یہ بات اچھے سے ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ جس قدر میٹھے ان کے بول ہوں، اتنے ہی کٹھن ان کے مطالبات ہوتے ہیں۔ ممالک کے درمیان تعلقات کچھ لو کچھ دو کی پالیسی کے تحت پروان چڑھتے ہیں البتہ اس بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ تعلقات کیلئے کیا لیا اور کیا پیش کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کے حالیہ دورہ امریکہ کو کافی سراہا جا رہا ہے البتہ ہمیں اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ اس ملاقات کے دوران کن معاملات پر پیش رفت عمل میں آئی ہے۔ سب سے پہلی بات جو ٹرمپ انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل تھی وہ افغانستان سے امریکی ا فواج کا پر امن انخلاء تھا۔ بلکہ اس ملاقات سے چند ماہ قبل ، امریکی سیکرٹری مائیک پامپیو نے اس بات کا عندیہ دیا کہ امریکہ افغان طالبان کیساتھ ایک ایسے معاہدے کو حتمی شکل دینا چاہتا ہے جس کے تحت رواں سال ستمبر تک امریکی افواج کا پر امن انخلاء یقینی بنایا جا سکے۔ امریکہ بنیادی طور پر ایک ایسا معاہدہ چاہتا ہے جس کے تحت وہ جنگ بندی کے ساتھ ساتھ افغان طالبان اور افغان حکومت کے درمیان طاقت کے متوازن اشتراک کو یقینی بنا سکے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ یہ معاہدہ رواں سال کے اختتام سے پہلے حتمی شکل اختیار کر لے کہ صدر ٹرمپ اپنی آئندہ انتخابی مہم اس وعدے کے ایفا کرنے ساتھ شروع کرنا چاہتے ہیں۔ فروری 2020سے شروع ہونے والی انتخابی مہم جولائی کے مہینے میں اس وقت اپنے عروج پر پہنچے گی جب ڈیموکریٹس کی جانب سے اپنے صدارتی اُمیدوار کا باقاعدہ اعلان کیا جائے گا۔ اس سے پہلے صدر ٹرمپ یہ چاہتے ہیں کہ وہ ٹھوس اور غیر متنازعہ انداز میں امریکی فوجوں کا انخلاء یقینی بنا لیں اور اس سب کیلئے انہیں پاکستان کی اشد ضرورت ہے۔ پاکستان کی حمایت پر ہی اس انخلاء کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار ہے سو ہمیں حالیہ دورے میں امریکہ کے میٹھے بول کے پیچھے کار فرما وجہ ذہن میں رکھنی چاہیے۔ طاقت کے متوازن اشترک کو یقینی بنانا ایک کٹھن مرحلہ ہوگا۔ خاص کر کے بھارت کبھی بھی طاقت کی منصفانہ تقسیم پر راضی نہیں ہوگا۔ اب تک کی صورتحال کے مطابق افغان طالبان کسی طور بھی افغان حکومت کیساتھ بیٹھنے کیلئے تیار نہیں ہیں اور امریکہ کا پاکستان سے اہم ترین مطالبہ ہی یہی ہے کہ وہ طالبان کو حکومتی نمائندوں کے ساتھ بیٹھنے پر رضامند کرنے میں کردار ادا کرے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی ذرئع ابلاغ میں اس دورے کے دوران اور بعد میں اس حوالے سے بڑی شد و مد کیساتھ سرخیاں اور تجزیے ہوتے دکھائی دیے۔ اس ملاقات سے کچھ دن قبل، جولائی کے وسط میں افغان حکومت اور طالبان نے دوہا قطر میں بہرحال سر جوڑ کے بیٹھک کی تھی اور اس دوران یہی طے ہوا تھا کہ دونوں فریق ایک دوسرے کیساتھ تعاون کرنے کیلئے اقدامات کریں گے اور ایک دوجے کیخلاف عسکری کارروائیوں اور خاص کر اہم مقامات پر حملے کرنے سے باز رہیں گے۔ اب دیکھنا یہی ہے کہ کیا یہ معاہدہ کوئی حتمی شکل اختیار کرتا ہے یا نہیں اور ساتھ ہی ساتھ یہ بات بھی یقینی بنانا ہوگی کہ اس معاہدے کے اختتام پر دونوں فریق طاقت کی منصفانہ تقسیم کے کسی فارمولے پر متقق ہو چکے ہوں۔ موجودہ حالات اور وقت کی قلت کے باعث پاکستان سے جس قسم کے تعاون کی توقع کی جا رہی ہے اس پر پورا اترنا اتنا آسان نہیں۔ خاص طور پر تب جبکہ اس سارے عمل کو سبوتاژ کرنے اور پاکستان کی راہ میں روڑے اٹکانے کو کئی دشمن تیار بیٹھے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بات جاننا بھی نہایت اہمیت کی حامل ہے کہ انخلاء کے بعد کی صورتحال ایک دیرپا امن اور استحکام لے کر آئے گی یا نہیں۔ معید یوسف امریکی ادارہ برائے امن کا حصہ ہیں اور انہوں نے اس تمام عمل کا نہایت عمیق انداز میں مشاہدہ کیا ہے، ان کے مطابق امریکی بیوروکریسی افغان امن عمل کے حوالے سے صدر ٹرمپ سے قدر مختلف بلکہ متضاد رائے رکھتی ہے، اس کے مطابق پاکستان پر افغانستان میں مزید تعاون کیلئے شدید دبائو ڈالنا وقت کی ضرورت ہے۔ انخلاء کے بعدافغانستان کو ایک مرتبہ پھر دہشت گردوں کی جنت بننے سے روکے رکھنا امریکی انتظامیہ کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔ انہیں یہ خطرہ لاحق ہے کو افواج کے افغانستان خالی کرنے کے بعد یہاں ایک مرتبہ پھر دہشت گردوں کیلئے محفوظ پناہ گاہیں بننا شروع ہو جائیں گی اور اس کی روک تھام کیلئے امریکہ انسداد دہشتگردی کے اقدامات جاری رکھنے کا رادہ رکھتا ہے اور پاکستان کی اس معاملے میں مکمل حمایت امریکہ کیساتھ ہے۔ البتہ اس تمام عمل میں پاکستان کو جو سب سے بڑا خطرہ یہ لاحق ہے کہ اسے اس سب کے نتیجے میں ایک دفعہ پر 1990 جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کیونکہ عین ممکن ہے کہ امریکہ اپنے انخلاء کے بعد اس خطے کو یکسر نظر انداز کرنا شروع کر دے اور پاکستان اس تمام عمل کے نتائج بھگتنے کو اکیلا رہ جائے۔ امریکی خارجہ پالیسی بھی مستقبل میں جنوبی ایشیاء کے حوالے سے کوئی خاص عزائم لیے نظر نہیں آتی۔ اس خوف کی ایک دوسری صورت یہ ہے کہ اگر امریکہ اپنی منشاء اور منصوبہ بندی کے مطابق یہ خطہ خالی کرنے میں کامیاب نہ ہوا تو اس کا رد عمل کیسا ہوگا۔ صدر ٹرمپ کی مسکراہٹ نے پاکستان کے گلے میں بہت کٹھن اور گھمبیر قسم کی توقعات اور مطالبوں کا طوق ڈال دیا ہے اور کسی کو یہ فکر نہیں کہ ان توقعات یا من چاہے نتائج کے نہ آنے کی صورت میں ہمیں اس تبسم کی کیاقیمت چکانا پڑے گی۔

(بشکریہ ڈان، ترجمہ: خزیمہ سلیمان)

متعلقہ خبریں