Daily Mashriq


بغل میں چھری منہ میں رام رام

بغل میں چھری منہ میں رام رام

مشیر خارجہ سرتاج عزیزبھارت کے شہر امر تسر میں ہونے والے ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس میں شرکت کے لئے اپنے وفد کے ساتھ پہنچ گئے ہیں۔ دو روزہ کانفرنس میں خطے کے ممالک افغانستان میں امن و ترقی سے متعلق تبادلہ خیال کریں گے سرتاج عزیز کانفرنس میں پر امن افغانستان کے لئے پاکستان کی کوششوں سے شرکاء کو آگاہ کریں گے اور افغان مصالحتی عمل پر بھی بات کریں گے۔ ہارٹ آف ایشیاء کا ایجنڈا پر امن افغانستان ہے اور افغانستان کو پر امن بنانے کے علاوہ ا قتصادی و معاشی ترقی کے معاملہ پر غور کیا جائے گا۔ اس موقع پر گزشتہ روز بھارت کے پر دھان منتری نریندر مودی نے مندوبین کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز عشائیے میں آئے تو وزیر اعظم مودی نے ان سے مصافحہ کیا اور پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف سے متعلق سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ ان کی صحت کیسی ہے۔ سرتاج عزیز نے وزیر اعظم پاکستان کی صحت کے بارے میں بتاتے ہوئے مودی کے لئے نواز شریف کی جانب سے نیک تمنائوں کا پیغام بھی پہنچایا۔ اس سے پہلے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کے لئے جو ان دنوں علیل ہیں پھولوں کا گلدستہ اور نیک تمنائو کا اظہار کہا جہاں تک کانفرنس کے موقع پر دونوں حکومتوں کے رہنمائوں کی جانب سے ایک دوسرے کے لئے اچھے جذبات کے اظہار کا تعلق ہے۔ یہ معمول کی کارروائیاں ہیں کہ بین الاقوامی سطح پر یہی طور طریقے اپنائے جاتے ہیں۔ تاہم جہاں تک دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی حقیقت کا تعلق ہے اس سے ایک دنیا واقف ہے کہ یہ بھارت ہی ہے جو خطے میں کشیدگی کو ہوا دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ اس کا واضح ثبوت کشمیر کنٹرول لائن پر گزشتہ دو ڈھائی ماہ سے کشیدگی میں اضافہ کے علاوہ دونوں ملکوں کے درمیان بین الاقوامی سرحد پر بھارتی افواج کی شر انگیز کارروائیاں بھی ہیں اور اس حوالے سے حال ہی میں ریٹائرڈ ہونے والے آرمی چیف راحیل شریف کے آخری انتباہی پیغام کے علاوہ موجودہ آرمی چیف جنرل باجوہ کی اپنی افواج کو واضح ہدایات سے کہ کسی بھی قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے دونوں ملکوں کے مابین تعلقات کی صورتحال واضح ہو کر سامنے آجاتی ہے۔ چونکہ بھارتی حکمرانوں کو مقبوضہ کشمیر کے اندر آزادی کی تازہ لہر نے بہت زیادہ پریشان کر رکھا ہے اور ملک کے اندر غلط پالیسیوں سے بھارتی عوام مودی سرکار سے سخت نالاں ہے اس لئے اس صورتحال سے بچنے اور عوام کی توجہ اندرونی مسائل سے ہٹانے کے لئے نہ صرف وہ پاکستان اور آزاد کشمیر میں شر انگیزی کر رہے ہیں بلکہ الزامات کا طومار پاکستان کے سر باندھ رہے ہیں جبکہ بھارتی سیاسی پارٹیوں کے رہنماء ان الزامات کو غلط قرار دیتے ہوئے بھارتی حکومت کے پروپیگنڈے کو باطل قرار دے رہے ہیں۔ ان سب کے پیچھے بھارتی حکومت کے ہاتھ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کی علالت کی وجہ سے ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس کی میزبانی وزیر خزانہ ارون جیٹلی کر رہے ہیں جنہوں نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پر الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنا محاسبہ کرے کہ دونوں ممالک کے درمیان تنائو کی وجہ کیا ہے۔ نریندر مودی نے بہت سارے اقدامات اٹھائے مگر اس کے جواب میں پٹھان کوٹ اور اڑی میں حملے پاکستان کے ایماء پر ہوئے۔ ارون جیٹلی کی تقریر کا مقصد صرف اور صرف پاکستان کو بلا وجہ مطعون کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں ہوسکتا کیونکہ جو الزامات ارون جیٹلی نے لگائے ہیں وہ نہ نئے ہیں نہ ہی بھارت ان کے حوالے سے آج تک کوئی ثبوت پیش کرسکا ہے اور ان الزامات کا جواب گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے یہ کہہ کر دیا کہ بھارتی حکمرانوں کے پاس پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ یہ ان کی اپنی غلط پالیسیوں کا شاخسانہ ہے مگر عوام کو گمراہ کرنے کے لئے پاکستان پر الزام تراشی کرتے ہیں۔ ان حقائق کی روشنی میں بھارتی حکمرانوں کو اپنا رویہ درست کرنے پر توجہ دینی چاہئے اور بے بنیاد الزام تراشی سے گریز کی راہ اپناتے ہوئے کشمیر اور دوسرے مسائل پر بات چیت کی راہ اپنا کر دونوں ملکوں کے مابین تعلقات کو معمول پر لانے کی سعی کرنی چاہئے۔ اس ضمن میں ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے امر تسر پہنچنے پر صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی جو پیشکش کی ہے اس پرخلوص خواہش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارتی حکمرانوں کو آگے آکر مسئلے کا با عزت اور با وقار حل تلاش کرنے میں مزید لیت و لعل کو آڑے نہیں آنے دینا چاہئے۔ صرف اسی مسئلے کی وجہ سے خطے پر ہر وقت جنگ کے بادل چھائے رہتے ہیں اور دونوں ملکوں کے ایٹمی طاقت ہونے کی وجہ سے بہتر یہی ہے کہ مسئلہ کشمیر گفت و شنید سے حل کرکے خطے کو امن کا گہوارہ اور دنوں ملکوں کے عوام کو ایک بہتر مستقبل دیا جائے۔

متعلقہ خبریں