Daily Mashriq


ایبٹ آباد' مری روڈ توجہ طلب!

ایبٹ آباد' مری روڈ توجہ طلب!

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و اعلیٰ تعلیم مشتاق احمد غنی نے خیبر پختونخوا ہائی وے اتھارٹی کے حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ مری روڈ' ایبٹ آباد اور لنک روڈ جھانڑیاں بحالی کے منصوبوںکی تکمیل میں تیزی لاکر یہ اہم منصوبے موسم گرما کے آئندہ سیاحتی سیزن سے قبل مکمل کریں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ایبٹ آباد سے مری تک جانے والی روڈ پر نتھیاگلی' ایوبیا کے علاقے سیاحت کے خصوصی مراکز ہیں اور گرمی کے موسم میں خصوصاً جبکہ سردی کے دنوں میں بھی عام طور پر اس روڈ پر سیاحوں کی آمد و رفت جاری و ساری رہتی ہے۔ گرمی کے دنوں میں اس روڈ پر ٹریفک کا بہت زیادہ رش رہتا ہے اور ماضی میں اکثر حادثات بھی ہوتے رہے ہیں۔ مسافر بسوں کے ڈرائیوروں کی غفلت اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے جنون میں مبتلا ہونے کی وجہ سے بھی جان لیوا حادثات سے قیمتی جانیں ضائع ہوتی رہی ہیں جبکہ یوم آزادی کے حوالے سے اگست کے دنوں میں رش میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے اور خاص طور پر نتھیا گلی اور ایوبیا کے قریب سے گزرنے والی سڑک پر اس قدر رش ہوتا ہے کہ ٹریفک گھنٹوں تک جام رہتی ہے۔ اگرچہ اس میں گاڑی مالکان کا بھی دوش ضرور ہوتا ہے تاہم سڑک کی تنگی بھی ایک اہم وجہ ہے جبکہ ٹریفک کے مسلسل بہائو کی وجہ سے سڑک ٹوٹ پھوٹ کا بھی شکار رہتی ہے اور اس کی دیکھ بھال اور مرمت کی جانب توجہ اشد ضروری ہے اور اب جبکہ سڑک کو کشادہ کرنے کی جانب توجہ دی جا رہی ہے تو یہ ایک اہم ضرورت بھی تھی اور اس سے گرمی کے سیزن میں ٹریفک میں اضافے کی وجہ سے دبائو پر قابو پانے میں مدد ملے گی جبکہ خیبر پختونخوا میں سیاحت کو فروغ میں بھی مدد ملے گی اور پنجاب سے مری کے راستے نتھیاگلی' ایبٹ آباد' کاغان' ناران وغیرہ تک جانے والوں کو بھی آسانی رہے گی۔ اس ضمن میں وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات مشتاق غنی نے بروقت متعلقہ حکام کو انتباہ کیاہے اور اگر کے پی ایچ اے کے حکام نے اپنے فرائض سے عہدہ برآ ہونے میں سنجیدگی کامظاہرہ کیا تو امید ہے کہ محولہ سڑک گرمی کے سیزن شروع ہونے سے پہلے کشادگی کے عمل سے گزر کر تکمیل پذیر ہو جائے گی اور صوبے کی سیاحت میں اہم کردار ادا کرنے کے قابل ہوسکے گی۔

محکمانہ کو آرڈینیشن میں کمی ؟

صوبائی دارالحکومت پشاور میں سڑ کوں کی تعمیر کے دوران مختلف محکموں میں باہمی روابط نہ ہونے کی وجہ سے شہر میں مختلف مسائل جنم لیتے ہیں اور ایک علاقے کی سڑک اگر تعمیر کے مراحل سے گزرتی ہے تو اپنی تعمیر کے کچھ ہی عرصے بعد یہ دیگر محکمو ں کے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچا نے کے دوران دوبارہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ صوبائی خزانے پر اضافی اخراجات کابوجھ بھی بڑھ جاتا ہے ، اخباری اطلاعات کے مطابق سڑکو ں کی تعمیرکیلئے خطیر رقم بجٹ میں مختص کرنے کے باوجود مئو ثر چیک نہ ہونے کی وجہ سے سڑکیں جلد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہیں ، خصوصاً ان سڑکوں کے اطراف رہائش پذیر مکینو ں کی جانب سے تعمیر کردہ خود ساختہ سپیڈ بریکر (جنہیں قبریں کہنا زیادہ مناسب ہوگا ) ، شیرفروشوں ،چھوٹے ہوٹل والوں ، چائے فروشوں ، پھل فروٹ اور سبزیاں بیجنے والوں کی وجہ سے روزانہ مسلسل چھڑ کائو کی وجہ سے یہ سڑکیں وقت سے پہلے کمزور ہو کر بہہ جاتی ہیں ، ناقص نکاسی آب کی وجہ سے بھی یہ سڑ کیں ٹوٹ جاتی ہیں ، دوسری جانب پری میکس کے بنائے گئے سڑکوں پر کیٹ آئیز کی وجہ سے بھی سڑکوں کا حلیہ بگڑ نے کے ساتھ ساتھ گاڑیوں رکشوں ، موٹر سائیکلوں کو سخت نقصان پہنچتا ہے ، اس حوالے سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ سڑکوں کی تعمیر کے بعد ہر دس پندرہ گز کے فاصلے پر تین تین اور کہیں چار چار لائنوں کے کینٹ آئیز لگانے سے ٹریفک کے بہائو پر منفی اثر پڑتا ہے ، کسی بھی علاقے میں سڑکوں کی تعمیر کے روز ٹیلیفون اور سوئی گیس کی لائنوں کے علاوہ پانی کی فراہمی کی لائنوں کو بھی نقصان پہنچ جانے کی وجہ سے نہ صرف متعلقہ محکمے دوبارہ اپنے حصے کے کام کرنے کے لئے جہاں ضرورت ہوتی ہے ان سڑکو ں کو دوبارہ کھود دیتے ہیں اور کام ختم کرنے کے بعد کھدی ہوئی مٹی سڑک کے ٹوٹے ہوئے حصوں سے نکلنے والا میٹریل کھڈوں پر ڈال کر یہ جاوہ جا ، اس کے بعد جہاں جہاں کھدائی کی گئی ہوتی ہے وہاں سے سڑک ادھڑنا شروع ہو جاتی ہے اور تھوڑے ہی دنوں میں تعمیر شدہ سڑک ایک بار پھر کھنڈرات میں تبدیل ہو جاتی ہے ، ضرورت اس امر کی ہے کہ جب متعلقہ محکمے کسی سڑک کو تعمیر کرنے کا منصوبہ منظور کرائیں تو ٹیلیفون ، گیس پانی کی لائنوں کی مرمت کو بھی متعلقہ اداروں کی مشاورت سے اس منصوبے کا حصہ بنالیں تاکہ تمام ادارے ایک ساتھ اپنا کام کر کے مربوط انداز میں منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں بلکہ صوبائی خزانہ پر اضافی بوجھ ڈالنے سے گریز کی راہ بھی اختیار کرلیں ، اور جہاں جہاں کیٹ آئیز لگانے بہت ضروری ہوں تو ان کو دور دور اور زیادہ سے زیادہ دو لائنوں میں نصب کریں ، مزید یہ کہ ان کی اونچائی بھی مناسب رکھی جائے تاکہ سواریوںکے انجر پنجر ڈھیلے نہ ہو سکیں ۔

متعلقہ خبریں