Daily Mashriq


غریب اور نجیب کی دنیائیں

غریب اور نجیب کی دنیائیں

ملک میں وی آئی پی کلچر کی محافظت،معاونت اور مدارت کو عیاں کرنے والی یہ خبر بہت حیرت اور دلچسپی کے ساتھ پڑھی گئی ہوگی کہ سٹیٹ بینک نے سینیٹ کو گزشتہ پانچ سال میں قرض معاف کرانے والوں کی فہرست دینے سے انکار کر دیا ہے ۔سینیٹ نے سیکرٹری خزانہ کے ذریعے گورنر سٹیٹ بینک سے یہ تفصیلات طلب کی تھیں ۔جس کے جواب میں گورنر سٹیٹ بینک نے سیکرٹری خزانہ کو لکھا کہ بینک کسی کو اس طرح کی معلومات فراہم کرنے کا پابند نہیں اور اس ضمن میں چیئرمین سینیٹ سے اپنی رولنگ پر نظرثانی کی درخواست بھی کی گئی ۔ چیئر مین سینیٹ نے اس جواب کو ر د کرتے ہوئے یہ معاملہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی استحقاق وقواعد وضوابط کے سپر د کر دیا ہے۔ارکان سینیٹ کا موقف ہے کہ پارلیمنٹ کسی بھی معاملے پر کسی بھی ادارے سے معلومات طلب کر سکتی ہے ۔ان معلومات سے قومی مفاد کو کوئی خطرہ نہیں ہو تا۔ سٹیٹ بینک اور سینیٹ دونوں ریاست کے ادارے ہیں۔ایوان بالا یعنی سینیٹ جمہوریت کی طاقت کا مظہر اور جمہور کا بالواسطہ نمائندہ ہے تو سٹیٹ بینک ملک کی معیشت اور ریاست کے معاشی رازوں کا امین ہے۔قرض لے کر معاف کرنے یا ہضم کرنے والا درحقیقت ریاست کی ہڈیاں اور بوٹیاں نوچنے کا کام دیتا ہے ۔ ریاست کے ان دو اداروں کے درمیان اس نامہ وپیام کا جائزہ لیا جائے تو ایک مائنڈ سیٹ کی تصویر بنتی ہے ۔وہ مائنڈ سٹ یہ ہے کہ ملک میں دو قانون ہیں ۔دو سماجی اور سیاسی پیمانے اور رویے ہیں ۔سوچنے اور سمجھنے کے دو انداز ہیں دو کلچر ہیں ۔دونوں ایک دوسرے سے متصادم اورمتضاد ہیں ۔ دو نوں کا سفر دواجنبی دنیائوں اور سیاروں کی طرح دو الگ مداروں میں جاری ہے ۔دونوں کے دکھ اور سکھ جدا ہیں ۔دونوں کی پریشانیاں قطعی مختلف ہیں ۔آٹے کی قیمت بڑھ جائے تو ایک طبقے کو حول آنے لگتے ہیں دوسرے کے لئے یہ اور قیمت کے اتار چڑھائو کی کوئی اور بات محض سننے اور سن کر اُڑا دینے والی خبر کے سوا کسی اور اہمیت کی حامل نہیں ہوتی۔بجلی کی قیمت میں فی یونٹ ایک روپے کا اضافہ ایک طبقے پر بجلی بن گرتا ہے دوسرے کے لئے شاید اس میں کوئی خبریت کا پہلو ہی نہیں ہوتا ۔دوسرے کو دنیا کی ائیر لائنز کے کرایوں ،درآمدات پر بڑھتے ہوئے محصولات ،تھائی لینڈملائیشیا اور یورپ کے ساحلوں کی دنیا اور فرانس کی پرفیوم کی قیمتوںاور ماسکواور سکاٹ لینڈ کے مشروبات کے ذائقوںاور قیمتوںسے دلچسپی ہوتی ہے۔ ایک ملک میں موجود ان دو دنیائوں میں ایک کا تعلق بااثر اور دوسرے کا تعلق زیردست طبقے سے ہے ۔روز اول سے ملک میں دو طرح کی سماجی تقسیم چلی آرہی ہے اور ریاست اور حکومت کا نظام اس تقسیم کا سرپرست اور محافظ چلا آرہاہے۔یہ ملک غریب اور نجیب دو طبقوں میں بٹا ہوا ہے ۔نجیب اس ملک کے وسائل کو شیر مادر سمجھنے کے خبط میں مبتلا ہیں اور غریب حالات کو مقدر کا لکھا سمجھ کر صبح کو شام اور شام کو صبح کر رہا ہے ۔ملک کے وسائل ،ترقی ،امکانات سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔اس کے لئے ملک میں اندھا قانون ہے ۔وہ کوئی جرم کرتا ہے تو قانون لمحوں کا انتظار کئے بغیر اسے گرفت میں لے کر کٹہرے میں کھڑا کر دیتا ہے ۔وہ پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے چوری کرتا ہے تب بھی قانون کا تازیانہ اس پر برستا ہے اس کے برعکس ملک کی گنگا جمنا پر صرف نجیب طبقے کا حق ہے ۔اس کے لئے نظروں والا قانون ہے،قانون کی نظر کمزور ہو تو اسے عینک پہنا دی جاتی ہے تاکہ وہ نجیب اور غریب میں تمیز اور پہچان کر سکے ۔یہ دو الگ اصول اور معیار ہیں ۔نجیب طبقے کے لئے ائیر پورٹس پر وی آئی پی لائونجز ہی نہیں بلکہ وہ زندگی میں ہر مقام پر وی آئی پی سٹیٹس انجوائے کرتا ہے ۔ملک کے تمام وسائل پر اس کا استحقاق ہے ۔وہ بینکوں سے قرض لیتا ہے تو اس پر کوئی قرضوئی کی پھبتی نہیں کستا ۔وہ قرض لے کر ہڑپ کرجاتا ہے تو کوئی اسے قرض خور نہیں کہتا ۔حد تو یہ جس ادارے کا قرض ہضم کیا گیا ہو وہ بھی اس کا نام ظاہر کرنے کی جرات نہیں کرتا ۔وہ اپنے قرض خور کی پردہ پوشی کو عین قومی مفاد قرار دے کر انکار کرتا ہے ۔اسی پردہ پوشی کی وجہ سے ملک میں بہت سے قرض خور عزت اور تکریم کے مجسمے بنے پھرتے ہیںکیونکہ ان کی اصل شبیہہ کو عوام تک پہنچنے ہی نہیں دیا جاتا ۔سینیٹ اور سٹیٹ بینک کی حالیہ کھینچا تانی درحقیقت یہی کشمکش ہے ۔کروڑوں اور اربوں کے قرض ملک کاکوئی ''ماجا گاما'' نہیں لے سکتا کوئی نجیب اور وی آئی پی صنعت کار اور سیاست دان ہی اس کا متحمل ہو سکتا ہے اور قرض معاف کرانا بھی اسی کا مقدر اور اسی کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ۔کوئی عام آدمی زرعی ترقیاتی بینک کے پچاس ہزار معاف نہیں کراسکتا چہ جائیکہ کہ اربوں روپے کے قرض معاف کرائے جائیں ۔سٹیٹ بینک کے انکار سے ہی قرض معاف کرانے والوں کی طاقت اور اثرو رسوخ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔جب تک ملک اور معاشرے میں یہ متضاد سیاسی اور سماجی رویے برقرار رہیں گے ملک میں نہ تو انصاف قائم ہوسکتا ہے اور نہ سماجی اونچ نیچ کا خاتمہ ہو سکتا ہے ۔یہ دو اداروں کی آنکھ مچولی نہیں دو زمینی حقیقتوں دورویوں اور دوطبقات کی کشمکش ہے اورپاکستان کی ترقی کی راہ میں یہ دہرا کلچر اور دہرا نظام ایک بڑی رکاوٹ ہے ۔جب تک ریاست کے وسائل پراہل زمین کا حق یکساں طور پر تسلیم نہیں کیا جا تا یہاں عوام کی اکثریت ملکی معاملات میں یونہی لاتعلق اور قومی معاملات پر بے حسی کی چادر تانے ہو ئے رہے گی ۔ظاہرہے کہ ملک کے وسائل پر حق سے محروم اور قانون کے دیدہ وبینا ہونے کا شکار طبقے کو ملکی حالات پر حساسیت دکھانے کی کیا پڑی ہے؟۔تلخ حقیقت یہ ہے کہ یہی طبقہ ملک میں عددی اکثریت کا حامل ہے مگر ریاست اور قانون کی محافظت کے جھولے میں بیٹھی ایک مراعات یافتہ وی آئی پی اقلیت کے آگے حقیر اور بے وقعت ہو کر رہ گیا ہے۔

متعلقہ خبریں