Daily Mashriq

ذیا بیطس کی روک تھام کیلئے حکومتی اقدامات

ذیا بیطس کی روک تھام کیلئے حکومتی اقدامات

ذیا بیطس کے مرض میں مبتلا مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ انتہائی خطرناک صورت حال اختیار کرگیا ہے۔پوری دُنیا میں اس مرض میں اضافہ ہورہا ہے۔جبکہ ترقی پذیر ممالک میں علاج معالجے کی بہتر سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے یہ مرض نہایت تیزی سے پنجے گاڑ رہا ہے۔ہر سال دُنیا میں ذیابیطس کے مریضوں میں70 ملین کا اضافہ ہوتا ہے۔پاکستان میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد تقریباً21 ملین تک پہنچ گئی ہے۔گو کہ 1995 ء سے ذیابیطس کے مریضوں کا کوئی سروے نہیں ہوا ہے ۔ابتدائی طور پر ذیابیطس کے مرض کی دو اقسام ہیں۔ٹائپ1 اور ٹائپ2 ۔ پاکستان میں زیادہ ترافراد ٹائپ 2کے مرض میں مبتلا ہیں۔جو عمر رسیدہ لوگوں میں عام ہوتا ہے۔2 سال قبل حکومت نے اس بیماری میں چونکا دینے والے اضافے کو کنٹرول کرنے کیلئے خیبر پختونخوامیں ایک انسو لین بینک کے قیام کی منظوری دی تھی۔انسولین ایک مہنگی دوا ہے اور ذیابیطس کے مرض کو کنٹرول کرنے کیلئے نہایت موثر ہے۔جس کے لئے حکومت نے ایک خطیر رقم مختص کر کے ٹائپ1 کے مریضوں کو مفت انسولین فراہم کرنے کا عزم کیا تھا۔جبکہ ٹائپ 2کے مریضوں کو زکوٰةکے حقدار افراد کو مفت انسولین فراہم کرنے کا عندیہ دیا تھا۔جس کیلئے ایک ذیابیطس کے ڈاکٹر کو یہ ذمہ داری تفویض کی گئی تھی کہ وہ اس کویقینی بنائینگے کہ انسولین سارے حقدار لوگوں کو مل سکے اور انسولین کی یہ فراہمی ضلعی سطح تک منتقل کی گئی تھی۔یہ اسکیم ابتدائی دنوں میں کامیابی سے چلتی رہی اور اکثر نادار لوگ اس سے مستفید ہوتے رہے۔لیکن آہستہ آہستہ فنڈز کی کمی اور انتظامی ڈھانچے میں خرابی کی وجہ سے یہ اسکیم اپنی موت مرگئی۔آج جب ضلعی سطح پر ہسپتالوں میں مفت انسولین کی فراہمی کی بات کی جاتی ہے تو مریضوں کو خالی ہاتھ لوٹنا پڑتا ہے۔حکومت کی جانب سے اسکیمیں تو بہت بنتی ہیںلیکن جب اس پر عمل درآمد شروع کیا جاتا ہے تو بد انتظامی کی وجہ سے اس اسکیم کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اورعوام کو سہولت پہنچانے اور بیماری کی روک تھام کی اسکیم کا بنیادی مقصد فوت ہوجاتا ہے۔حالیہ دنوں میںخیبر پختونخوا کی حکومت نے ذیابیطس کی آگاہی اور علاج کیلئے17 رکنی ٹاسک فورس قائم کی ہے۔یہ ٹاسک فورس خیبر پختونخوا میں وسائل کی نشان دہی اور فراہمی کیلئے اقدامات سمیت اس کی روک تھام کیلئے تمام عالمی اداروں کے ساتھ سرگرمیاں جاری رکھے گی۔جب بھی کسی کمیٹی میں درجنوں کے حساب سے ممبر بن جاتے ہیں تو وہ ایک روایتی کمیٹی بن جاتی ہے۔جو گاہے بگاہے میٹنگ منعقد کرتی ہے۔منصوبے لمبے لمبے بنائے جاتے ہیں۔کاغذی کارروائی ضرور ہوتی ہے۔ ذیابیطس کے دن '' واک '' کا اہتمام کیا جاتا ہے۔پمفلٹ اور پوسٹر تقسیم کئے جاتے ہیں ۔ جگہ جگہ بینرز لگائے جاتے ہیںاور سارے فنڈز ان سرگرمیوں کی نذر ہو جاتے ہیں۔جو ذیابیطس کے مریضوں کے ساتھ یک جہتی اور علاج کی بجائے محکمے کی کارکردگی اُس کی تشہیر، اشتہارات کے ذریعے زیادہ اُچھالا جاتا ہے۔ان سب سرگرمیوں پر اتنی کثیر رقم خرچ کرنے کی بجائے بہتر یہ ہوگا کہ ذیابیطس کے مریضوں کیلئے دوائی اور خاص طور پر انسولین کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور عملی طور پر ذیابیطس کے مریضوں کو زیادہ نقصانات سے بچانے کیلئے مفت انسولین موثر انداز میں تقسیم کیا جائے۔ملک کے تمام بڑے چھوٹے ہسپتالوں میں ذیابیطس سنٹرز قائم کر کے مفت انسولین کی فراہمی کو صاف و شفاف طریقے سے منظم کیا جائے۔ہسپتالوں میں ہر ذیابیطس کے مرض میں مبتلا افراد کا شناختی کارڈ لیکر رجسٹرمیں انسولین کے اجراء کو باقاعدہ درج کیا جائے۔تاکہ دوائی کی چوری ،غلط استعمال کی روک تھام ہوسکے۔بلکہ T.b کے مریض یا بچوں کے ٹیکوں کی طرح باقاعدہ ایک کارڈ جاری کیا جائے تاکہ ہر مہینے اُس کارڈ پر انسولین کا اجراء اور تاریخ درج ہو۔جس پر باقاعدہ ڈاکٹر کے دستخط ہوں۔جدید دور میں یہ بھی ممکن ہے کہ سارے پروگرام کو کمپیوٹر سے منسلک کیا جائے اور انسولین کی فراہمی کو کمپیوٹر کی مدد سے مانیٹر کیا جائے اور مہینے میں ضرورت کے مطابق بذریعہ ایک یا دو انسولین کی بوتلوں کا اجراء ممکن ہو۔ذیابیطس کی وجہ سے پیدا ہونے والی پیچید گیوں سے نپٹنے کیلئے تمام چھوٹے بڑے ہسپتالوں میں آگاہی مہم شروع کی جائے۔بدقسمتی سے صحت کا شعبہ بھی معاشرے کی باقی برائیوں کی طرح جعلی دواؤں ،ہسپتالوں سے دواؤں کی چوری سے بچا نہیں ہے اور اکثر قیمتی ادویات ہسپتالوں سے نکل کر پرائیویٹ دوکانوں میں بکتی ہیں۔حتیٰ کہ خون کی بوتلیں بھی بیمار نشئی افراد سے لیکر دوائی کی دوکانوں سے بذریعہ ایجنٹ ملتی ہیں۔یہ غیر محفوظ انتقال خون کئی مضر بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔یہ اخلاقی گراوٹ کی ایک بد ترین مثال ہے ۔معاشرے کو راہ راست پر لانے کیلئے قانون کی رٹ کو عملی جامہ پہنانا حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان پرائیویٹ اداروں پر کڑی نظر رکھے۔یہ تھوک کے حساب سے لیبارٹریاں جو ٹیسٹ کرانے میں مشغول ہیں کیاحکومت نے گاہے بگاہے ان کو چیک کیا ہے؟جو بغیر مستند سرٹیفیکیٹ اور عملے کے لیبارٹریاں چلاتے ہیں۔صحت سے متعلقہ نجی اداروں کی بہتا ت ہے۔جس نے ہر گلی کوچے میں اپنے کلینک اور لیبارٹریاں قائم کی ہیں۔جس کو چیک کرنے کیلئے باقاعدہ قوانین موجود ہیں۔لیکن کیا ان قوانین پر عمل درآمد ہورہا ہے؟یہ ایک المیہ ہے اور حکومت کو اس کی طرف خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں