Daily Mashriq

عالمی فساد اور امت مسلمہ کی بد قسمتی

عالمی فساد اور امت مسلمہ کی بد قسمتی

مسلمان امت کا فریضہ اللہ تعالیٰ نے خاتم النبیینۖ کے ذریعے یہ متعین فرمایا ہے کہ ''تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہئے کہ وہ (لوگوں) کو خیر (بھلائی) کی طرف بلائے اور برائی سے منع کرے'' ایک دوسری جگہ پر فرمایا '' تم (مسلمان) بہترین لوگ ہو' تمہیں لوگوں کے لئے نکالا( پیدا)گیا ہے (تاکہ) تم نیکی کا امر کرو اور برائی سے روکو'' ۔ جب تک مسلمان امت اللہ تعالیٰ کی صفات کی متصف تھی تب قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں زندگی کے سارے شعبوں میں وہ چیزیں دریافت و ایجاد کیں جو پوری انسانیت کے لئے نفع بخش تھیں۔ لیکن پھر امت مسلمہ کے فلاسفر اور مفکرین یونانی علوم و افکار کی طرف متوجہ ہو کر اپنی اصلی بنیادوں سے آہستہ آہستہ دور ہوتے گئے اور ایک وقت آیا کہ مسلمان فقہاء و متکلمین پر جمود طاری ہوا اور ان کے علوم و اپج کے سوتے بتدریج خشک ہونے لگے اور نتیجتاً اسلامی تہذیب و تمدن اور فکر و فلسفہ میں وہ تر و تازگی نہ رہی جس کے سبب کبھی اسلامی علوم چار دانگ عالم میں پھیلی تھیں اور اسلامی دنیا عالم انسانیت کے سامنے نفع بخش نت نئی ایجادت کی سرخیل تھی۔ آج اگر ہم دنیا پر نظر ڈالیں تو امریکہ' بھارت اور اسرائیل میں جو قوتیں بر سر اقتدار ہیں کوئی غور سے ان کا ایجنڈا دیکھ لے تو یہ اسی فلسفے کا پھل ہے جس کی بنیادیں چند صدیاں قبل اللہ تعالیٰ کی عظمت اور حاکمیت اور اقتدار کا انکار کرکے انسانی عقل و فکر کو خداکی جگہ پر رکھ کر ریاست سے مذہب کو نکال باہر کرکے اسلام اور مسلمانوں کو مشترک دشمن کے طور پر پیش کیاگیا تھا۔ اس وقت امریکہ میں جس شخص نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے اسلام اور مسلمانوںکے بارے میں اس کے جو متنفرانہ اور متعصبانہ نظریات ہیں وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ انتخابات جیتنے کے بعد اپنی بعض ناگزیر ضروریات یا مفادات کے لئے وہ وقتاً فوقتاً ایک آدھ الفاظ و لہجہ بدل کر بھی لیتا ہے۔ جیسا کہ پچھلے دنوں ٹرمپ' نواز ٹیلفونک مکالمے کا چرچا رہا۔ کہیں یہ اس طرح زبان کی پھسلن تو نہیں جس طرح بش نے عراق پرحملہ کرکے کہا تھا کہ صلیبی لڑائیاں دوبارہ شروع ہوگئی ہیں اور بعد میں بات بدل دی۔اللہ کرے کہ ٹرمپ نے پاکستان اور پاکستانیوں کے بارے میں جن بھلے جذبات کااظہار ٹیلیفون کے ذریعے کیاہے وہ ہمیشہ قائم رہے لیکن امریکہ کے سرکاری ذرائع نے ہماری خوش فہمیوں کو زیادہ دیر قائم نہیں رہنے دیا۔ کیونکہ امریکی صدر کے ترجمان نے اس بیان کے دوسرے دن واضح الفاظ میں کہا کہ ''نواز شریف اور ٹرمپ کی گفتگو کو بڑھا چڑھا کر پیش کیاگیا ہے''۔ ٹرمپ کی بات صحیح بھی نکلے تب بھی امت مسلمہ کی خانہ ویرانی کے لئے ہم نے اپنے ہاتھوں اتنا سامان کیا ہے کہ دنیا میں بہت بڑی سطح پر انسانیت کے خلاف فساد برپا ہے اور یہ بالکل اسی نوعیت کا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری کے قریبی زمانے میں تھا اور جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ''خشکی اور تری میں انسان کے لئے اپنے ہاتھوں فساد برپا ہوگیاہے۔'' آج کے عالمی بگاڑ کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتاہے کہ مسلمان دو صدیوں تک عملاً مغربی استعمار کے غلام رہے۔ پھر ٹوٹی پھوٹی آزادی کے بعد مغرب نے ترقی' تجدد اور اسلامی دنیا کے مدد کا پر امن جامہ پہن کر امت مسلمہ پر یلغار جاری رکھا۔ لیکن اس وقت جب بعض خطوں یا ملکوں میں پر امن یلغار سے دل پوری طرح ٹھنڈا نہ ہوسکا تو گزشتہ دو دہائیوں سے باقاعدہ عسکری جارحیت کے ذریعے وہ ہنگامہ برپا کیاگیا ہے جس سے معصوم بچے'خواتین' ہسپتال اور تعلیمی ادارے اور عبادت گاہیں تک محفوظ نہیں۔ سعودی عرب جو امت مسلمہ کے لئے سطح زمین پر پر امن ترین جگہ تھی اتنی گہری سازش کے ذریعے پھنسایاگیا کہ آج بڑے عرصے بعد خسارے کا بجٹ ایک طرف جدہ پر میزائل حملوں کا شکار ہے۔ جدہ اور مکہ مکرمہ میں فضائی فاصلہ ہے ہی کتنا۔ اس سے پہلے مدینہ طیبہ میں مسجد نبویۖ کے قرب و جوار میں دھماکے کرائے گئے۔ اسکی شروعات کہاں سے کرائی گئیں' عراق کے کویت پر حملہ سے۔ اس کے نتیجے میں امریکی افواج سعودی عرب میں اتاری گئیں جس کی وجہ سے پیٹرو ڈالر کا حامل سعودی عرب آج سخت مالی مشکلات میں گھرا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ دوسری طرف امریکہ نے ایک عرصے تک ایران کو اقتصادی پابندیوںکے ذریعے دبائے رکھا لیکن پھر اچانک معاہدے ہوئے اور ایران کو عراق و شام سے ہوتے ہوئے یمن کے حوثی قبائل کی کھلے عام مدد کے لئے چھوڑ دیاگیا اور سعودی عرب کا گھیرائو ہوتا ہوا محسوس ہونے لگا۔ اور اس کو سیکورٹی خدشات میں مبتلا کیاگیا کیونکہ حوثی قبائل ایران کے فراہم کردہ سکڈ اور بیلسٹک میزائل سعودی عرب پر داغنے لگا ہے۔ حال ہی میں جو میزائل جدہ پر داغا گیا وہ خدا نہ کرے کہیں غلطی سے مکہ مکرمہ کی طرف آیا تو کسی نے سوچا ہے کہ یہ کتنا خطرناک فعل ہوگا۔ عالم اسلام اور امت مسلمہ پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ اس لئے جہاں اس بات کی ضرورت ہے کہ ایران حوثی قبائل کو ایسا اسلحہ فراہم نہ کرے جس سے امت کی سطح پر فساد کا خطرہ پیدا ہو وہاں سعودی عرب' پاکستان اور ترکی کو مل کر اس بات پر سوچنا ہوگا کہ امریکہ اور مغرب کبھی بھی امت مسلمہ کے خیر خواہ اور دوست نہیں بن سکتے۔ اس لئے عالم اسلام کے پانچ چھ بڑے ممالک مل کر او آئی سی کو صحیح معنوں میں متحرک کرکے امت مسلمہ کو عالمی فساد سے محفوظ کرنے کے انتظامات کرکے عالمی استعمار کے شکنجے سے نکلنے کے لئے عملی اقدامات کریں۔

متعلقہ خبریں