Daily Mashriq

مردوں کے معاشرے میں خواتین کیلئے مشکلات

مردوں کے معاشرے میں خواتین کیلئے مشکلات

بیتے سالوں مشرقی روایات میں خواتین کو غیر معمولی مقام حاصل رہا ہے۔ خاتون اگر ماں ہے تو پورا معاشرہ اسے ماں کا درجہ دیتا ہے، اگر بہن ہے تو اس کے حقیقی بھائیوں کے ساتھ ساتھ معاشرے کے ہر فرد پر لازم ہے کہ اسے بہن کی نگاہ سے دیکھے، خاتون اگر بیٹی ہے تو سماج اسے اپنی حقیقی بیٹی جیسا پیار دینے کا پابند ہے، خاتون اگر کسی کی بیوی ہے تو معاشرے کے ہر فرد کیلئے ضروری ہے کہ اسے احترام کی نگاہ سے دیکھے۔ یہ وہ اعلیٰ مشرقی اقدار تھیں جن کی بنا پر ہم اہل مغرب پر فخر کیا کرتے تھے ، انہی اعلیٰ اقدار کی وجہ سے ہم کہا کرتے تھے کہ ہمارے ہاں خاندانی نظام مضبوط ہے جبکہ اہل مغرب کے ہاں خاندانی نظام کمزور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں تما م تر ذمہ داریاں مردوں پر ڈالی گئیں اور خواتین کو گھر کی چار دیواری میں عزت سے رہنے کا حکم دیا گیا۔ یاد رہے کہ یہ تب کہ باتیں ہیں جب ہم نے ترقی نہیں کی تھی ، آج ترقی کے دور میں جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ اہل مغرب کی اقدار بھی ہمارے معاشرے میں در آئی ہیں، گئے وقتوں کی بات ہے جب ہم آٹھ دس برس کے ہوا کرتے تھے تو والد صاحب یا والدہ صاحبہ یا کسی بھی بڑے بزرگ کو آنکھ اٹھا کر جواب دینا بے ادبی تصور کیا جاتا تھا، اگر آج کوئی بچہ والدین یا کسی بڑے کو جواب دے تو اسے بچے کی ذہانت سے تعبیر کیا جاتا ہے، یوں بچوں کی غیر معمولی تعریفیں کرکے انہیں شہ دی جاتی ہے کہ تم جو کچھ کر رہے ہو وہی درست ہے اور حالات کا تقاضا بھی یہی ہے۔ ایک وقت تھاکہ والدین اور رشتہ دار تو درکنار بچوں کو بدتمیزی کرتے اگر محلے کے بڑے بزرگ دیکھ لیتے تو انہیں ڈانٹ دیتے، بسا اوقات از راہ خیر خواہی ایک آدھ تھپڑ بھی رسید کر دیتے ،بچوںکے والدین کو اگر اس بارے معلوم پڑتاتو وہ اس پہ خوش ہوتے کہ ہمارے بچوں کی خیر خواہی کے لئے ایسا کیا گیا ہے۔والدین کی طرف سے بچوں کو جب شہ ملتی ہے تو بچوں کی ہمت بڑھتی ہے اور بچے معاشرے کے دیگر بڑوں کو بھی اسی لہجے میں جواب دیتے ہیں جو لہجہ وہ گھر میں والدین کے ساتھ اختیار کرتے ہیں۔دھیرے دھیرے یہی بچے بدتمیزی اور بے ادبی والا لہجہ اختیار کرلیتے ہیں جب ان بچوں کی عمر بڑھتی ہے تو والدین کے بس کی بھی بات نہیں رہتی کہ وہ ان بچوں کو تمیز کے دائرے میں لائیں،یہ بچے نوجوان ہوکر جب معاشرے کا بھرپور حصہ بنتے ہیں تو ان کا اکثر وقت کسی گلی کی نکڑ یا راستوں، چوراہوں پر لوگوں کی ماں بہن کو تاڑنے میں گزرتا ہے، بات صرف دیکھنے کی حد تک ہوتی تو شاید کسی حد تک قابل معافی اور قابل برداشت تھی لیکن اب معاملہ چھیڑ چھاڑ تک آن پہنچا ہے، مجھے ذاتی طور پر اس کا کئی بارتجربہ ہوا۔ ایک دفعہ میں اور اہلیہ ہسپتال سے واپس لوٹ رہے تھے کہ راستے میں اچانک موٹر سائیکل کاٹائر پنکچر ہوگیا۔ دور دور تک پنکچر کی کوئی دکان دکھائی نہیں دے رہی تھی میں نے اہلیہ سے کہا کہ آپ یہاں کھڑی ہوں میں کسی پٹرول پمپ سے پنکچر لگوا کر آتا ہوں، جب میں آدھ گھنٹہ کے بعد واپس آیا تو اہلیہ نے بتایا کہ جب میں یہاں آپ کے انتظار میں کھڑی تھی تو مجھے بیسوں لوگوں نے لفٹ دینے کی کوشش کی اور بعضوں نے تو بار باراصرار کیا یہاں تک کہ مجھے وضاحت کرنی پڑی کہ میں اپنے شوہر کے انتظار میں کھڑی ہوں۔یہ صرف ایک مثال ہے وگرنہ ایسی بیسیوں مثالیں ہر شہری کے پاس ہوں گی کہ جن میں آپ کی آنکھوں کے سامنے یا آپ کے کسی قریبی کو لفنگے نوجوانوں نے آوازے کسے ہوں۔ ان بگڑے ہوئے نوجوانوں کی تربیت میں جہاں ان کے والدین برابر کے شریک ہیں۔ کسی قدر حکومت اور سماج بھی ذمہ دار ہیں کہ جس نے خواتین کے تحفظ کیلئے کوئی ٹھوس لائحہ عمل وضع نہیں کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ والدین نوجوان بچیوں کو گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں دیتے ، اگر کوئی نوجوان لڑکی بہ امر مجبوری ملازمت کرتی ہے تو اس کی ماں اور اس کے گھروالے اس کے گھر لوٹ آنے تک مضطرب رہتے ہیں، آج کے ترقی یافتہ دور میں خواتین کو مردوں کے مساوی حقوق دینے کی بات کی جاتی ہے، خواتین کو گھروں میں محصور رہنے پر لعن طعن کی جاتی ہے کہ اس سے خواتین کے حقوق پامال ہوتے ہیں، عورتوں کے حقوق کے نام پر خواتین کو تشہیر کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے لیکن جب خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کی بات آتی ہے، خواتین کو احترام دینے کی بات آتی ہے تو سماج اس اعتبار سے دیوالیہ نظر آتا ہے۔ اس ساری بحث کے بعد میں تو صرف ایک ہی نتیجہ نکال پایا ہوں کہ حکومت اور سماج کی طرف سے درستگی کا انتظار کرنے کے بجائے والدین کو ابتدا کرنی ہوگی کہ کہیں ان کی اولاد معاشرے کیلئے بدنما داغ تو نہیں بن رہی یا پھر ان نوجوان لڑکیوں کو ہمت کرنی ہوگی جو کسی مجبوری کے عالم میں گھر سے باہر نکلتی ہیں اور اوباش لڑکے انہیں تنگ کرتے ہیں، والدین کی ذمہ داری تو یہ بنتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت میں کوئی کوتاہی نہ برتیں اور بچیوں کی ذمہ داری یہ بنتی ہے کہ وہ اس طرح کے اوباشوں کے بارے خاموش نہ رہیں، اپنے کسی بڑے کو یا کسی بھی خیرخواہ کو ان اوباشوں کے بارے بتلائیں کیونکہ یہ سماج ہمارا ہے اور اسے ہم نے ہی ٹھیک کرنا ہے۔

متعلقہ خبریں