Daily Mashriq


مشرقی اور اسلامی کلچر کی زوال پذیری

مشرقی اور اسلامی کلچر کی زوال پذیری

مشہور سو شیالوجسٹ آئی این رابڑسن اپنی کتاب سوشیالوجی کے بنیادی اساس میں لکھتے ہیں کہ کوئی بھی معاشرہ پانچ اکائیوں سے وجود میں آتا ہے ۔ جس میں سب سے پہلے خاندان، دوسرے نمبر پر تعلیم ، تیسرے نمبر مذہب ، چوتھے نمبر پر ملک کا اقتصادی نظام اور پانچویں نمبر پرملک کا سیاسی نظام شامل ہیں۔ اگر ہم غور کر لیں تو مغرب میں کلچر اور ثقافت کو فروغ دینے والے سماجی ادارے تقریباً ختم ہو گئے ہیں۔ اور اس میں بالخصوص فیملی یعنی خاندان کاا دارہ بالکل ختم ہو گیا ہے۔ بحیثیت مسلمان ،اسلام ایک مکمل ضا بطہ حیات ہے اور اگر ہم اسلام پر صحیح طریقے سے عمل پیرا ہوں تو پھرہمیں کسی قسم کی سماجی یعنی سوشل ادارے کی ضرورت نہیں۔ مگر بد قسمتی سے ہم اپنے دین اسلام پر عمل پیرا نہیں جسکے نتیجے میں ہم بے تحا شا مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ میڈیا یلغار اور کمرشل ازم نے مغربی تہذیب اور کلچر کی بنیادیں ہلا کر رکھ لی ہیں جسکے نتیجے میں اہل مغرب افرا تفری اور فرسٹیشن کا شکار ہیں۔ اور اب انکی کو شش ہے کہ کسی طریقے سے مسلمان ریاستوں میں خاندان اور مذہبی اداروں کو جو کسی کلچر اور تہذیب کو فروع دینے کی بنیادی اکائی اور سیڑھی ہے اسکو ختم کر کے اسلامی ممالک میں افرا تفری کو فروغ دیا جائے۔ اس سلسلے میں وہ دوسری بُہت ساری چیزوں کے علاوہ مو بائل فونز، انٹر نیٹ، کیبل اور الیکٹرانک میڈیا کا سہارا لے رہے ہیں اور مسلمان ممالک پر ایک ایسے گلو بلائزکلچر اور ثقافت کو مسلط کر نے کی کو ششیں کر رہے ہیں جس سے اسلامی ممالک کی مشرقی اور اسلامی روایات اور تشخص کا خاتمہ ہو۔ علاوہ ازیں بے ہنگم میڈیائی یلغار سے مسلمانوں کے اخلاق اور روایات کو اُس موڑ پر کھڑا کیاجائے جس پر اہل مغرب خود کھڑے ہیں اور نئی نسل کی تباہی اور بر بادی کا رونا رو رہے ہیں۔ ایک پرانا محاورہ ہے Losse character.. Loose every thing اور جب کسی قوم اور ملک کا کردار اور اخلاق تباہ و بر باد ہو جاتے ہیں تو ملک ، ریاست یا قوم تباہ و بر باد ہو جاتا ہے۔ سلطان صلا ح الدین ایوبی کا قول ہے کہ اگر کسی قوم کو بغیر جنگ کے شکست دینی ہو تو اُسکے نو جوانوں میں فحا شی پھیلا دو۔ مغرب کی اخلاقی تباہی اور بربادی کے بارے میں ایک سکا لر کہتے کہ تین چیزوں نے مغرب کی نئی نسل کا بیڑا غرق کیا میڈیا ، موبائل فون اور سگریٹ نو شی۔ DivyaDave Avnish جو پیشے کے لحا ظ سے ایک معروف یو نیور سٹی کے بچوں کے اخلاقی اور نفسیاتی امراض کے پرو فیسر ہیں کا کہنا ہے آج کل ماں باپ کے علاوہ الیکٹرانک میڈیا بھی بچوںکے تیسرے والدین ہیں۔ اُنکا کہنا ہے کہ الیکٹرانک میڈیا صحت مند اور مُثبت سرگرمیوں کو کم کرتا ہے۔ بچوں اور جوانوں میں ڈپریشن اور تنائو کا سبب بنتا ہے۔ ابلا غیات کے ماہرین کہتے ہیں کہ ہر سیکنڈ میں انٹر نیٹ استعمال کرنے والے 30 ہزار لوگ فحش اور بے ہودہ فلمیں دیکھتے ہیں۔اس وقت پوری دنیا میں تقریباً 6 ملین فحش ویب سائٹس ہیں اور ہر 30 سیکنڈ بعد ایک فحش فلم ما رکیٹ میں آتی ہے۔اس وقت انٹر نیٹ پر فحش فلمیں دیکھنے والوںمیں پاکستان پہلے نمبر پر ، بھارت دوسرے ، مصر تیسرے ، ایران نویں اور کرو شیا 10 ویں نمبر پر ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ بے تحا شا ٹی وی اور الیکٹرانک میڈیا دیکھنے کی وجہ سے کسی بھی طالب علم کی مُثبت سرگر میوں میں 2 گھنٹے سے 3 گھنٹے کمی واقع ہو ئی۔ ہر بچہ 18 سال تک 12000 گھنٹے تشدد پر مبنی فلمیں دیکھتا ہے اور جو بچے تشددپر مبنی فلمیں دیکھیں گے تو اس سے نیکی کی کونسی تو قع کی جا سکتی ہے ۔اسی طر ح کنیڈا میں 2 بڑی شراب ساز کمپنیاں شراب کے اشتہارات پر 200 ملین ڈالر سالانہ خرچ کررہی ہیں جسکی وجہ سے بچوں اور جوان لڑکوں لڑکیوں میں شراب پینے کے رحجان میں بے تحا شا اضا فہ ہو رہا ہے۔ما ہرین کے مطابق بچوں کو روزانہ ایک سے ڈیڑھ گھنٹے کنٹرول ما حول میں ٹی وی دیکھنا چاہئے۔مگر بد قسمتی سے ہمارے بچے 6 سے 8 گھنٹے ٹی وی دیکھتے ہیںجو انکے اخلاقیات اور زندگی کے مُثبت پہلوئوں پر انتہائی منفی اثر ڈالتا ہے۔ نہ صرف انٹر نیٹ ، کیبل، ٹی وی بلکہ بچوں کے کا رٹون ، ویڈیو گیمز بھی بچوں کے اخلاق بگا ڑنے میں منفی کردار ادا کرتاہے۔ ما ہرین ابلا غیات کہتے ہیں کہ 75 فی صد ویڈیو میوزک میں جنسی مواد پایا جاتا ہے۔ جو بچوں کے کر دار اور اخلاق کے بگا ڑنے میں منفی کر دار اداکر تا ہے۔اسی طر ح بچے جو ویڈیو گیمز دیکھتے ہیں یہ 64 فی صد تشدد کے واقعات پر مبنی ہوتے ہیں جو بچوں کے ذہن پر منفی اثرات ڈال کر پرتشدد کا رروائیوں کی طر ف مائل کرتا ہے۔ آج کل میڈیا پر ریسلنگ کے نام پر جو کچھ دکھا یا جا رہا ہے. مُجھے صا حب علم اور اہل دانش بتا دیں جو بچے اس قسم کی ریسلنگ جس میں با ڈی بلڈرز ایک دوسرے کو کر سیوں ، میزوں اور بر چھیوں سے ما رتے ہیں اس سے جا رحیت اور پر تشدد رویئے کے علاوہ بچے کیا سیکھیں گے۔اس وقت وطن عزیز میں ١٨ کروڑ کی آبادی میں 14 کروڑ لوگوں کے پاس مو بائل فون کی سہولت میسر ہے مگر بد قسمتی سے آج کل جس طریقے سے ہم موبائل فون استعمال کرتے ہیں وہ سب کے سامنے ہے۔میں جدیدیت ، سائنس اور ٹیکنالوجی اور دور حاضر کی الیکٹرانک چیزوں کا مخالف نہیں ہوںمگر جس بد انتظامی اور غلط طریقوںسے ہم اسکا استعمال کرتے ہیں وہ کسی سے پو شیدہ نہیں۔ پو ری قوم کو موبائل فون کا نشئی بنا یا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں