Daily Mashriq

لوڈشیڈنگ اور بجلی کی تقسیم کا معاملہ

لوڈشیڈنگ اور بجلی کی تقسیم کا معاملہ

واپڈا کے وفاقی وزیر اویس خان لغاری اس امر پر اترا رہے ہیں کہ ملک میں طلب سے زیادہ بجلی موجود ہے۔ حکومت نے وعدہ پورا کرکے ملک کو اندھیروں سے نکال دیا ہے۔ وفاقی وزیر بجلی و پانی اگر اس قسم کا دعویٰ گرمیوں کے موسم میں کرتے تو ان کے دعوے پر شاباش نہ دینا بخل ہوتا مگر ان کا دعویٰ اس وقت ہے جب ملک میں بجلی کی گھریلو ضرورت صرف روشنی اور پانی کی موٹر چلانے یا پھر کبھی کبھار واشنگ مشین کے استعمال تک محدود ہوچکی ہے۔ قوم کو 2003ء سے بجلی کی جس قسم کی بدترین لوڈشیڈنگ کا سامنا رہا ہے موجودہ حکومت کے آنے کے بعد اس میں اچانک بہتری آنے اور بتدریج مزید بہتری کا عدم اعتراف قرین انصاف نہ ہوگا۔ اس حکومت کو بلا شبہ یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ آئی پی پیز کے قرضے اتار دئیے گردشی قرضوں کی ادائیگی کے بعد بجلی کی پیداوار میں اتنا اضافہ ضرور ہوا کہ بے تحاشا لوڈشیڈنگ اور بجلی کی غیر اعلانیہ بندش خرابی اور ٹرپنگ میں بہتری آئی۔ اس وقت صورتحال قابل ذکر اور حوصلہ افزا ضرور ہے پانچ ہزار سے زائد فیڈرز پر لوڈشیڈنگ کاخاتمہ بھی ہوچکا ہوگا لیکن اگر تفصیلی طور پر اور اعداد و شمار کی روشنی میں دیکھا جائے تو وفاقی حکومت نے بجلی کی تقسیم اور لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے علاقوں کی تقسیم میں انصاف سے کام نہیں لیا۔ اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ خیبر پختونخوا کو مقررہ کوٹے کے مطابق پہلے سے بجلی نہیں دی جا رہی تھی حالانکہ آبی بجلی کی سب سے زیادہ پیداواری علاقے کے مکین ہونے کے ناتے خیبر پختونخوا کے طول و عرض میں لوڈشیڈنگ کا سرے سے کوئی جواز نہیں بنتا۔ وفاق کی ایک اکائی کے طور پر بجلی کے کوٹے میں حصہ داری کو اگر تسلیم بھی کیا جائے تو ہمارے ہاں کی سستی بجلی کی پیداواری لاگت کے مطابق صوبے کے عوام کو سستی بجلی کی فراہمی کی ضرورت تھی اس سے بھی اگر اجتماعی مفاد میں دستبردار ہوا جائے تو کم از کم مقررہ کوٹے کے مطابق بجلی کی فراہمی نہ ہونے کا تو کوئی جواز نہیں بنتا مگر صوبہ خیبر پختونخوا کے عوام کے ساتھ یہ سلوک ہوتا رہا اور صوبائی حکومت نے ایک موقع پر تنگ آکر روزانہ کی بنیادوں پر اپنے حق سے کم بجلی کے باقاعدہ اعداد و شمار جاری کرنا شروع کردیئے تھے۔ وفاقی وزیر بجلی و پانی کے اعلان کے بعد ہمارے صوبے میں لوڈشیڈنگ کاخاتمہ نہیں ہوگا البتہ اس میں بہتری ضرور آئے گی۔ حقیقی صورتحال یہ ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے کیے گئے اعلان کے بعد پنجاب کے بیشترعلاقوں میں لوڈشیڈنگ مکمل ختم ہوجائے گی جبکہ دیگر صوبوں کے بیشتر علاقوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ بدستورجاری رہے گی۔بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دیے گئے علاقوں میں پنجاب کے 83.4فیصد فیڈرز اور ملک کے دیگر علاقوں کے صرف 16.6فیصد فیڈرز شامل ہیں۔اعداد وشمار کے مطابق لوڈ شیڈنگ سے استثنیٰ حاصل کرنے میں سندھ کے 4.1فیصد، خیبرپختونخوا (کے پی)کے 5 فیصد اور کوئٹہ کے 1.22فیصد فیڈرزکا اضافہ کیا گیا۔پنجاب کے مزید 4ہزار 128فیڈرزکولوڈشیڈنگ سے مکمل استثنیٰ دے دیا گیا جس کے بعد پنجاب میں مجموعی طور پر4ہزار344فیڈرزمیں زیرولوڈشیڈنگ ہوگی۔سندھ کے 180فیڈرزکولوڈشیڈنگ سے مکمل استثنیٰ دیا گیا ہے جس کے بعد سندھ میں مجموعی طور پر 204فیڈرز میں لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی۔کے پی میں 249فیڈرزکا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد کے پی میں لوڈ شیڈنگ کے خاتمے سے مستفید ہونے والے فیڈرز کی مجموعی تعداد 309ہوگئی ہے۔کوئٹہ کے لیے لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ 49فیڈرز کا اضافہ کردیا گیا ہے اور لوڈ شیڈنگ سے چھٹکارا پانے والے فیڈرز کی مجموعی تعداد 61ہوگئی ہے۔فاٹا کے صرف 29فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مکمل استثنیٰ مل گیاہے۔اعداد و شمار سے بخوبی واضح ہے کہ وفاقی حکومت کی ترجیح کیا ہے؟ یہ امر حیران کن ہے کہ موجودہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں بجلی کی پیداوار کا کوئی بھی بڑا منصوبہ شروع نہ کیا جبکہ نیلم جہلم منصوبے کے لئے یہاں کے صارفین بجلی سے باقاعدہ سرچارج کی وصولی اب بھی جاری ہے۔ خیبر پختونخوا میں ایک قابل ذکر منصوبہ گولین گول پن بجلی گھر کی تکمیل کاہے اس منصوبے کا افتتاح ہونے سے ایک سو آٹھ میگا واٹ بجلی حاصل ہوگی۔ صوبائی حکومت پن بجلی کے چھوٹے بڑے منصوبوں پر عملدرآمد کے لئے کوشاں ضرور ہے لیکن کیا وفاق کی ذمہ داری نہیں کہ وہ صوبے میں بجلی کا بڑا منصوبہ شروع کرے۔ اگر دیکھا جائے تو تربیلہ ڈیم کے بعد خیبر پختونخوا میں بجلی کا کوئی قابل ذکر منصوبہ شروع نہیں کیاگیا ۔ غازی بھروتہ کا منصوبہ اس تکنیکی مہارت سے بنایاگیا کہ پانی اور پانی کا راستہ خیبر پختونخوا کا ہے مگر ڈیم پنجاب کی حدود میں بنا کر صوبہ خیبر پختونخوا کو رائلٹی سے محروم رکھا گیا۔ بہر حال محرومیوں کی شکایات کے باوجود اطمینان و مسرت کا لمحہ یہ ہے کہ ملک میں بجلی کی پیداوار میں اضافہ کا سلسلہ جاری ہے جس سے بجا طور پر توقع کی جاسکتی ہے کہ آئندہ موسم گرما میں لوڈشیڈنگ میں نمایاں کمی آئے گی۔ صنعتوں اور کارخانوں کی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کی سعی کی جائے گی اور گھریلو صارفین کو بجلی کی کم سے کم لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا ہوگا۔

متعلقہ خبریں