Daily Mashriq

مذہب کا سیاسی ایجنڈے کے طور پر استعمال

مذہب کا سیاسی ایجنڈے کے طور پر استعمال

چیئر مین سینٹ رضا ربانی کی معروضی حالات اور حقائق کے تناظر میں اس بات سے اختلاف کی گنجائش نہیں کہ مذہب کو پھر سیاسی ایجنڈے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ کیا یہ ستم ظریفی نہیں کہ ایک سابق آمر جس کے دور حکومت میں دینی پس منظر رکھنے والی جماعتوں پر پابندیاں لگیں آج وہ ان عناصر سے نہ صرف ہاتھ ملانے اور اتحاد کرنے بلکہ وہ ان کی وکالت بھی کرنے لگے ہیں۔ اسے بد قسمتی ہی قرار دیاجائے گا کہ وطن عزیز میں مذہب کو سیاست کے ساتھ خلط ملط کیاجاتا رہا ہے کہ دین سے لوگو ں کی دوری کی وجہ بن گئی لیکن جب مفاد کے تقاضے پورے ہوگئے اور ا قتدار کے سنگھا سن میں حصہ داری مل گئی تو آنکھیں پھیرلی گئیں۔ ہمارے تئیں دینی جماعتوں کی مقبولیت میں کمی کی اس کے علاوہ کوئی اور وجہ نہیں کہ ان جماعتوں نے لوگوں میں اپنا اعتماد کھو دیا ہے لیکن ایک مرتبہ پھر دینی طبقے ہی کے ایک ایسے حصے کو جو قبل ازیں سیاست سے متعلق نہ تھا سیاست زدہ کر نے کی سعی کی جا رہی ہے جس کا انجام خدا جانے کیا ہوگا؟ ہمیں اس امر سے کوئی اختلاف نہیں کہ دین اور سیاست و حکمرانی جدا نہیں دین اسلام مکمل طرز حیات ہے اور اس نظام میں ہمارے تمام مسائل کا حل موجود ہے۔ لیکن اس مقصد کے لئے ہمیں دین کو ووٹ لینے کی حد تک محدود رکھنے کی بجائے خلوص نیت کے ساتھ اس پر عملدرآمد کرنا ہوگا۔

قبضہ مافیا اتنا طاقتور بھی تو نہیں

محکمہ بلدیات کی ایک ہزار کنال سے زائد اراضی پر قبضہ مافیا کے تسلط کے حوالے سے ہمارے نمائندے کی تفصیلی رپورٹ میں جو صورتحال بیان کی گئی ہے اور سرکاری طور پر اس کو واگزار کرانے کی مساعی اور جن مشکلات کا ذکر کیاگیا ہے ا س سے صرف نظر ممکن نہیں۔ عدالت میں مقدمات اور دیگر طریقوں سے قبضہ مافیا کا اپنا قبضہ برقرار رکھنا اپنی جگہ مسائل کا باعث ضرور ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عدالتوں میں مقدمات کی محکمہ بلدیات کی جانب سے اس طرح سنجیدگی سے پیروی ہو رہی ہے کہ ان مقدمات کا عدالتوں سے جلد سے جلد فیصلہ آجائے۔ اس ضمن میں اگر وزیر اعلیٰ‘ وزیر بلدیات اور چیف سیکرٹری میں مشاورت ہو اور سرکاری مقدمات کو سرکاری مقدمات کی طرح لڑنے کی بجائے معروف قانون دانوں کی خدمات حاصل کرکے سنجیدگی سے مقدمات لڑی جائیں تو عدالتوں سے اس کاجلد سے جلد فیصلہ نا ممکن نہیں۔ جہاں تک عدالتوں میں مقدمات کے علاوہ رائع کے استعمال اور ہتھکنڈوں کا سوال ہے ہمارے تئیں حکومت سے زیادہ طاقت و اختیارات اور طریقہ ہائے کار کسی کے پاس بھی نہیں اور نہ ہی حکومت کے سامنے کوئی مقتدر بن سکتا ہے۔ ا س سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ حکومتی عہدیدار خود سنجیدگی سے اس امر کے خواہاں نہیں کہ وہ سرکاری اراضی پر قبضہ اور تجاوزات کا خاتمہ کریں وگرنہ کوئی وجہ نہیں کہ بلدیات کی اراضی پر قبضہ مافیا سے قبضہ نہ چھڑایا جاسکے۔

تعمیراتی ملبہ نہ ہٹانے کا سخت نوٹس لینے کی ضرورت

پشاور شہر میں چیف سیکرٹری کی ہدایت کے باوجود سپیڈ بریکرز تو ہٹا دئیے گئے بعض جگہوں پر باقی ہونے کا بھی امکان رد نہیں کیا جاسکتا۔ بہر حال چیف سیکرٹری کی واضح ہدایت کے باوجود تعمیراتی ملبوں کو ہٹانے میں کسی قسم کی دلچسپی ظاہر نہیں کی گئی۔ پی ڈی اے اور بلدیات کا محکمہ شہریوں سے نقشے کی منظوری کے وقت ملبہ فیس تو وصول کرتے ہیں مگر سڑکوں پر ڈالے گئے تعمیراتی ملبے کو ہٹانے کی ذمہ داری نہیں نبھائی جاتی۔ اس امر کی کوئی توجیہہ پیش کرنا ممکن نہیں کہ متعلقہ ادارے فیس کی وصولی کے باوجود ملبہ اٹھانے کی ذمہ داری سے گریزاں کیوں ہیں۔ چیف سیکرٹری کو اس شہری مسئلے اور سرکاری محکموں کی غفلت کا سختی سے نوٹس لینا چاہئے اور شہر میں تعمیراتی ملبے اور کوڑا کرکٹ کے ڈھیروں کی وجہ سے گاڑیوں اور راہگیروں کو درپیش مشکلات کا ازالہ کرنے ، فوری اقدامات کا حکم دینے اور اسکی روزانہ کی بنیاد پر عملدرآمد کی تفصیلات سے خود کو آگاہ کرنیکی ضرورت ہے۔

اتوار بازار میں خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات

حیات آبا د میں اتوار بازار جانے والی خواتین کی ہراساں کرنے کی شکایات کی بڑی وجہ بازار میں انتظامیہ کی عدم گرفت اور پولیس گشت کا نہ ہونا ہے۔ اتوار بازار میں خریداری کم اور مٹر گشت زیادہ ہونے لگا ہے جس کی بناء پر خواتین اب بازار جانے سے کترانے لگی ہیں اور اس بازار کا انعقاد بے معنی ہوکررہ گیا ہے۔ انتظامیہ اور پولیس کو اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں پشاور میں ہونے والے پے درپے واقعات کے تناظر میں مزید مستعدی کا مظاہرہ کرنا چاہئے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ان کا کردار و عمل برعکس ہے۔

متعلقہ خبریں