Daily Mashriq

شاہراہِ حماقت کا مسافر

شاہراہِ حماقت کا مسافر

س خبر نے عالمی سطح پر ایک نئی ہلچل اور بے چینی پیدا کردی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بیت المقدس کے متنازعہ سٹیٹس کو نظر انداز کرتے ہوئے اسے اسرائیل کا مستقل دارالحکومت تسلیم کرنے جا رہے ہیں۔بیت المقدس بین الاقوامی طور پر متنازعہ شہر ہے اور اقوام متحدہ نے اس کے متنازعہ علاقہ ہونے پر مہر تصدیق ثبت کر رکھی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کے قیام سے ہی اس کا دارالحکومت تل ابیب ہے ۔ماضی میں اسرائیل نے اپنا دارالحکومت تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کی کوششیں کی مگر بین الاقوامی دبائو اور عربوں کے احتجاج کے باعث اس منصوبے پر عمل درآمد نہ ہو سکا ۔اب ڈونلڈ ٹرمپ بیت المقدس یعنی یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے جا رہے ہیں تو اس کے پیچھے امریکہ کی صیہونی لابی کا دبائو بتایا جارہا ہے ۔ صیہونیت اب امریکی صدر کے گھر میں اپنے قدم جمائے ہوئے ہے کیونکہ ان کے داماد سخت گیر یہودی مانے جاتے ہیں۔امریکہ سے آنے والی ان تشویشناک خبروں نے عرب لیگ کے تن مردہ میں بھی جان سی ڈال دی اور لیگ نے امریکہ کو اس اقدام پر سنگین انتباہ کیا ہے ۔فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے ترجمان محمود حباش نے تو اسے امن عمل کی مکمل تباہی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بیت المقدس کے سٹیٹس میں تبدیلی کی قیمت عالمی برادری کو چکانا پڑے گی ۔اس وقت مسلمان دنیا میں جو انتہا پسندانہ رجحانات ہیں ان کی بنیاد بیت المقدس میں ہی تلاش کی جا سکتی ہے ۔ فلسطینیوں نے ایک مدت تک خود کو سخت گیر سوچ سے الگ رکھ کر یاسر عرفات اور ان کی الفتح کے بینر کے ساتھ وابستہ رکھا ۔یہ خالص ایک سیکولر تحریک تھی جس میں مسلمانوں کے شانہ بشانہ دوسرے مذاہب کے لوگ بھی تھے ۔یاسر عرفات اور ان کے ساتھی بین الاقوامی سوشلسٹ تحریک کے ہمقدم اور ہم رکاب تھے اور ان کا خیال تھا کہ ایک سیکولر اور غیر مذہبی تحریک چلا کر وہ عالمی سطح پر غالب غیر مسلم طاقتوں کی زیادہ بہتر انداز سے حمایت حاصل کرپائیں گے۔امریکہ اور اس کے ہمنوائوں نے سیکولر چھاپ کے باوجود فلسطینیوں کی تحریک کو قبول کرنے کی بجائے ایک سخت گیریہودی ریاست اسرائیل کے موقف کی حمایت جا ری رکھی ۔ان رویوں نے فلسطینیوں کو اپنی روایتی پالیسی پر نظر ثانی پر مجبور کر دیا ۔یاسر عرفات اپنی پالیسی کے باعث کچھ حاصل نہ کرپا ئے حتیٰ کہ مشرق وسطیٰ میں ان کے دوست عرب حکمران ایک ایک کرکے ان کی حمایت سے دستکش ہوتے چلے گئے ۔اس صورت حال نے فلسطینی عوام کو ایک نئے انداز کی جدوجہد پر آمادہ کیا ۔اسی کی دہائی کے وسط میں فلسطینی نوجوان ایک وہیل چیئر پر بیٹھے ایک بزرگ شیخ احمد یاسین کے گرد جمع ہونا شروع ہوئے اور انہوں نے خالص اسلامی نعروں اور جہادی سوچ کو اپناتے ہوئے پتھر کے ذریعے جدوجہد شروع کر دی ۔اس تحریک کو حماس کا نام دیا گیا اور یوں فلسطین کی قیادت اور سیادت پر یاسر عرفات کی تنہا دعوے داری ہی چیلنج نہیں ہوئی بلکہ ایک طرز کی مزاحمت چل پڑی ۔پتھر کے اس جہاد کا جواب طاقت سے دینے کی راہ اپنائی گئی اور یوں مشرق وسطیٰ میں تنازعے کی حرکیات میں تبدیلی آتی چلی گئی ۔نوے کی دہائی کے اوائل میں جب فلسطینی تحریک کے غیر متنازعہ سمجھے جانے والے قائد یاسر عرفات اپنے علاقائی اور عالمی دوستوں سے محروم ہو گئے ۔ارد گرد کا ماحول فلسطینی مزاحمت کے لئے قطعی غیر موافق ہو گیا ۔تو یاسر عرفات اسرائیلی وزیر اعظم اضحاق رابن کے ساتھ اوسلو معاہدے پر مجبور ہوئے ۔یہ ایک دور کے مقبول مزاحمت پسند لیڈر کی حالات کے آگے خود سپردگی تھی۔اس سے مشرق وسطیٰ کا مسئلہ حل نہ ہوسکا کیونکہ اسرائیل نے فلسطینیوں کی حیثیت اور مقام اور دو ریاستوں کے تصور کو تسلیم کرنے کی بجائے توسیع پسندی کا عمل جا ری رکھا ۔عراق کے ایٹمی پلانٹ پر حملہ ، ایران عراق جنگ ،کویت پر عراق کا حملہ،عراق پر امریکہ کا حملہ ،القاعدہ کا ظہوراور اس کے بعد کی خونیں کہانی کی ڈور کا ہر سرا فلسطین میں جا کر ختم ہوتا ہے ۔اب امریکہ مشرق وسطیٰ میں جوحماقت کرنے جا رہا ہے یہ ایک بالخصوص عرب دنیا اور بالعموم مسلم دنیا میں غصے ،ردعمل اور نفرت کے نئے جذبات کی فیکٹری ثابت ہوگا جس سے عالمی امن کے لئے نئے چیلنج شروع ہو ں گے ۔فلسطین پر ٹرمپ کارڈ کھیلنے کے بعد امریکہ جنوبی ایشیا میں کشمیر پر بھی کوئی حماقت کر سکتا ہے۔اس حماقت کی ممکنہ صورت یہ ہوسکتی ہے کہ وہ کشمیر کے متنازعہ سٹیٹس کے موقف سے انحراف کرکے بھارت کی عمل داری کو مستقل طور پر تسلیم کر لے گا۔فلسطین اور کشمیر کے مسائل میں جہاں بڑی حد تک مطابقت ہے وہیں ان علاقوں کی قابض قوتوں کا ایک مشترکہ چھتری تلے اتحاد سا بن چکا ہے ۔مشرق وسطیٰ سے جنوبی ایشیا تک یہ دونوں مسائل امریکہ کے دو سٹریٹجک شراکت داروں کیلئے مشکلات کا باعث بنے ہیں ۔اسلئے امریکہ ان دونوں معاملات کو نمٹانے کیلئے ایک ہی طرح کی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے جس کا مرکزی نکتہ ہی اسرائیل اور بھارت کی انا کو ٹھیس پہنچائے بغیر ان کی مشکل کو آسان کرنا ہے۔یہی وجہ ہے کہ فلسطین پر معاہدہ اوسلو کرانے کے بعد امریکہ نے ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے ذریعے کشمیر پر ایک اوسلو طرز معاہدے کی کوششیں شروع کر دی تھیں۔حقیقت یہ ہے کہ امریکہ بیت المقدس کی متنازعہ حیثیت کو نقصان پہنچا کرمشرق وسطیٰ میں ہی نہیں درحقیقت دنیا بھر میں ایک ہمہ گیر فساد کی بنیاد رکھنے جا رہا ہے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ فیصلہ دنیا میں امن کی جلتی بجھتی کئی شمعوں کوکلی طور بجھانے کا باعث بنے گا ۔مسلم دنیا کے عوام میں مغرب کی تعصب پر مبنی پالیسیوں کے حوالے سے پائی جانے والی نفرت کو مہمیز ملے گی ۔ جو جلتی پر تیل کا کام دے گا اور ایک ایسی آگ بھڑک اٹھے گی جس کی حدت سے دور بیٹھے ممالک کے عوام بھی محفوظ نہیں رہ سکیں گے ۔ 

متعلقہ خبریں